متحدہ عرب امارات کے آئل ٹینکر پر حوثی باغیوں کا حملہ

Updated: January 18, 2022, 8:41 AM IST | Abu Dhabi

ڈرون کے ذریعے کئے گئے حملے میں۲ ؍ ہندوستانیوں سمیت ۳؍ افراد ہلاک ، حوثی باغیوں کا جلد ہی کارروائی کے تعلق سے تفصیل دنیا کے سامنے پیش کرنے کا اعلان

The conflict between the Houthi rebels and the Arab coalition forces is growing day by day, the attack on the oil tanker is its specialty.
حوثی باغیوں اورعرب اتحادی افواج کے درمیان تنازع روز بروز بڑھتا جارہا ہے ،آئل ٹینکر پر حملہ اسی کا شاخسانہ ہے

 متحدہ عرب امارات کے شہر ابوظہبی   میں حکومت کے آئل ٹینکروں پر ڈرون حملہ ہوا ہے جس کے تعلق سے کہاں جا رہا ہے کہ یہ حملہ یمن کے حوثی باغیوں نے کیا ہے۔ پولیس کے مطابق حملے میں ۳؍ افراد مارے گئے ہیں جن میں سے ۲؍ ہندوستانی ہیں جبکہ ایک کا تعلق پاکستان سے ہے۔  ان کے علاوہ حملے میں ۶؍ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ 
  واضح رہے کہ حوثی باغیوں نے کچھ عرصہ پہلے متحدہ عرب امارات کے  ایک تیل بردار جہاز کو اغوا بھی کر لیا تھا جو اب بھی انہی کے قبضے میں ہے۔  پیر کو ہوئے حملے  کو بھی حوثیوں کی جانب سے کیا گیا اقدام  بتایا جا رہا ہے کیونکہ اس میں ڈرون کا اسی طرح استعمال کیا گیا ہے جس طرح سعودی عرب کی تنصیبات پر گزشتہ کچھ عرصے سے مسلسل ہو رہے حملوں میں استعمال ہوتا آیا ہے۔ حالانکہ حوثی باغیوں نے اس تعلق سے کہا ہے کہ وہ جلد ہی اس کارروائی کی تفصیلات دنیا کے سامنے پیش کریں گے۔ 
  ایک عالمی نیوز ایجنسی کے مطابق  متحدہ عرب امارات کی پولیس کا کہنا ہے کہ پیر کے روز ابوظہبی پورٹ کے نزدیک مصفح آئیکیڈ تھری کے علاقے میں تین آئل ٹینکردھماکے سے پھٹ گئے جس سے آگ بھڑک اٹھی۔ابوظہبی پولیس کی جا  نب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ بظاہر ڈرون جیسی تین شے دو مختلف علاقوں میں گریں اور ممکنہ طور پر انہی کی وجہ سے یہ  دھماکہ ہوا جس میں آئل ٹینکروں میں آگ بھڑکی۔‘‘
جس مقام پر آگ لگی وہ تیل کی ریاستی کمپنی ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی (ادنوک) کے تیل کے ذخائر کے قریب واقع ہے۔ ابوظہبی کی بندرگاہ کے علاوہ ایئرپورٹ کے علاقے سے بھی آتشزدگی کی اطلاعات ملی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات جاری ہے اور تفتیشی رپورٹ آجانے کے بعد مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ابوظہبی میں آئل ٹینکروں کے پھٹنے کی اطلاعات کے بعد حوثی باغیوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ ان حملوں کی تفصیلات جلد ہی منظرعام پر لائیں گے جن کا مقصد متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنانا ہے۔
 حوثی باغیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سارئے نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ’’(باغیوں کی) مسلح افواج نے کہا ہے کہ وہ آئندہ چند گھنٹوں میں متحدہ عرب امارات میں اہم فوجی آپریشن کی بابت تفصیلات فراہم کریں گے۔‘‘ اس ٹویٹ کو حوثی باغیوں کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کے مترادف قرار دیا جا رہا ہے۔  حوثی باغیوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ آپریشن گزشتہ ۷؍ سال سے جاری جنگ میں کلیدی حیثیت کے حامل ہوں گے۔
 خیال رہے کہ متحدہ عرب امارات سعودی  عرب کی قیادت میں قائم  اس فوجی  اتحاد کا حصہ ہے جو یمن میں حوثی باغیوں سے برسرپیکار ہے۔ گزشتہ ۱۰؍ جنوری کو متحدہ عرب امارات کی حمایت یافتہ یمنی فورس نے حوثیوں سے تیل کی دولت سے مالا مال صوبے شبوا کا قبضہ لینے کا اعلان کیا تھا۔ اس سے قبل حوثیوں نے متحدہ عرب امارات کا ایک جہاز اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔  الجزیرہ  نے ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ حالیہ دنوں میں  سعودی عرب کی قیادت والی اتحادی فوجوں نے جس طرح یمن میں پیش قدمی کی ہے اور حوثیوں کے قبضے والے علاقوں کو فتح کیا ہے اس کی وجہ سے حوثی باغی جھنجھلاہٹ کا شکار ہیں۔ متحدہ عرب  امارات پر یہ حملہ اسی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ۲؍ سال میں سعودی عرب کی تیل تنصیبات  کے علاوہ ابہا ایئر پورٹ پر کئی بار ڈرون حملے ہوئے ہیں اور ہر بار ان حملوں میں حوثی باغیوں کا ہاتھ ہونے کا الزام لگا ہے۔ پیر کو ہونے والے حملے میں بھی اسی طرح کا پیٹرن استعمال کیا گیا ہے ۔   
   مہلوکین کی شناخت نہیں
   ڈرون حملے میں اب تک ۳؍ افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے ساتھ ہی بھی معلوم ہوا ہے کہ ان میں سے ۲؍ ہندوستانی تھے جبکہ ایک تعلق پاکستان سے تھا۔ اس کے علاوہ مہلوکین کے تعلق سے اور کوئی تفصیل سامنے نہیں آئی ہے۔ ساتھ ہی ۶؍ افراد زخمی ہیں ان کے بھی نام اب تک ظاہر نہیں کئے گئے ہیں۔  متحدہ عرب امارات میں ہندوستانی سفارتکار سنجے سدھیر نے اس بات کی تصدیق کی کہ مہلوکین میں ۲؍ ہندستانی بھی شامل ہیں۔  البتہ انہوں نے بھی ان کی شناخت کے تعلق سے لا علمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ’’ ہم نے یو اے ای کے حکام سے سنا ہے کہ ڈرون حملے میں ۲؍ ہندوستانی فوت ہوئے ہیں لیکن  ان کی اب تک شناخت نہیں ہو سکی ہے۔ ہم جلد ہی ان کی شناخت کرنے کے بعد ان کے اہل خانہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کریں گے۔‘‘  یاد رہے کہ اس سے پہلے حوثیوں نے  متحدہ عرب امارات کا جو جہاز اغوا کیا تھا اس میں بھی ہندوستانی اہلکار سوار تھے جو جہاز پر ملازم تھے۔ جہاز پر ملاح کی حیثیت سے کام کرنے والے ۷؍ ہندوستانی باشندے سوار تھے ، ان کے علاوہ  ایتھوپیا، میانمار،  انڈونیشیا اور فلپائن کا ایک ایک شہری اس جہاز پر موجود تھا۔ یہ جہاز اب تک  حوثیوں کے قبضے میں ہے اور پر یرغمال بنائے گئے ہندوستانی باشندوں کی بھی اب تک شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ حوثی باغی ۲۰۱۴ء سے یمن میں حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں اور حکومت کی مدد کیلئے سعودی نے بھی وہاں اپنی فوج اتاری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK