Updated: July 14, 2026, 7:03 PM IST
| Beijing
ایران اور امریکہ میں تنازع بڑھنے کے ساتھ ہی عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ایران اور امریکہ میں تنازع بڑھنے کے بعد عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جس نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی ہے اور معاشی ماہرین اس حوالے سے انتباہ بھی جاری کیاہے ۔
تیل کی قیمت۔ تصویر:آئی این این
ایران اور امریکہ میں تنازع بڑھنے کے ساتھ ہی عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ ایران اور امریکہ میں تنازع بڑھنے کے بعد عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جس نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی ہے اور معاشی ماہرین اس حوالے سے انتباہ بھی جاری رہے ہیں تاہم اس صورتحال میں امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں تیل کی قیمتوں میں چین کے عمل دخل سے متعلق اہم دعویٰ کیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کا اگلا فیصلہ تیل کی عالمی قیمتوں کا رخ بدل سکتا ہے، کیونکہ بیجنگ کی خریداری عالمی منڈی کے لیے فیصلہ کن بن گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عالمی تیل کی قیمتوں کا مستقبل اب صرف اوپیک کی پیداوار یا آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل پر نہیں بلکہ چین کے فیصلوں پر بھی منحصر ہوتا جا رہا ہے۔ چینی درآمدات میں کمی سے قیمتیں قابو میں رہیں تاہم طلب بڑھنے پر خام تیل مزید مہنگا ہو سکتا ہے اور اس میں چینی پالیسی کلیدی عنصر ہے۔
امریکہ ایران کشیدگی: عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ
بین الاقوامی مارکیٹوں میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ تازہ ترین تجارتی سیشن کے دوران عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت۷۷ء۲؍ فیصد اضافے کے بعد۸۵ء۶۰؍ ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی ہے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت میں ۹۳ء۲؍ فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے اس کی قیمت ۴۹ء۸۰؍ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’اوینجرز: ڈومز ڈے‘‘کے ٹکٹ ریلیز سے پانچ ماہ پہلے فروخت ہوں گے
اس سے قبل، گزشتہ روز بھی بین الاقوامی مارکیٹوں میں خام تیل کی قیمتوں میں ۱۰؍ فیصد سے زائد کا غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق، تیل کی قیمتوں میں یہ حالیہ تیزی اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کرنے کا اعلان کیا، جس کے ساتھ ہی دونوں ممالک کے درمیان حملوں کا تبادلہ بھی جاری رہا۔
یہ بھی پڑھئے:ورلڈ کپ سیمی فائنل میں لیونل میسی اور ہیری کین آمنے سامنے
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اس نمایاں اضافے کی بنیادی وجہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے معاملے پر امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی شدید کشیدگی ہے۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز کی آبی گزرگاہ دنیا بھر میں خام تیل کی بلا تعطل ترسیل کے لیے سب سے اہم اور حساس ترین تجارتی راستہ سمجھی جاتی ہے۔