نوی ممبئی ایئر پورٹ کو ڈی بی پاٹل سے منسوب کرنے کیلئے انسانی زنجیر

Updated: June 11, 2021, 8:02 AM IST | khalid abdul Qayyum and ajaz abdulgani | Mumbai

ممبئی،نوی ممبئی،تھانے، کلیان،ڈومبیولی،بھیونڈی اور رائے گڑھ میںہزاروں مقامی باشندوں نے مختلف جگہوں پر احتجاج کیا،شدید احتجاج کا انتباہ

n Bhiwandi, human chained protesters stand with placard.Picture:Inquilab
بھیونڈی میں انسانی زنجیر بنائے ہوئے مظاہرین پلے کارڈ لے کر کھڑے ہیں تصویر انقلاب

 ممبئی، نوی ممبئی، تھانے، کلیان، ڈومبیولی ، بھیونڈی اور رائے گڑ ھ کے ہزاروں باشندوں نے مختلف مقامات پر انسانی زنجیر بنا کر نوی ممبئی میں زیر تعمیر انٹر نیشنل ا یئر پورٹ کو معروف سماجی خد متگار اور عوامی لیڈر دنکر بالو پاٹل( ڈی بی پاٹل) کے نام پر رکھنے کا پُر زور مطالبہ کیا۔
  اس موقع پر مظاہر ین نے متنبہ کیا کہ اگر ہمارا مطالبہ پورا نہیں کیا گیا تو اگلی بار تحمل سے کام نہیں لیا جائیگا۔وہیں ۲۴؍ جون کو سڈ کو بھون کا گھیراؤ کر نے کا اعلان کیا۔
  دوسری جانب بی جے پی اور ایم این ایس کے عوامی نمائندوںنے بھی مقامی باشندوں کے سُر میں سر ملاتے ہوئے نوی ممبئی ائیر پورٹ کا نام ڈی بی پاٹل کے نام پر رکھنے کی وکالت کی۔ عیاں رہے کہ شیو سینا نوی ممبئی انٹر نیشنل ایئر پورٹ کو بالا صاحب ٹھاکرے کا نام دینے پر بضد ہے۔ 
 جمعرات کی صبح ۱۰؍ بجے کلیان مشرق کے تیس گاؤں ، چکی ناکہ، بھال ، نیولی، مان پاڑہ ، شیل پھاٹا روڈ، بھوپر اور کٹائی وغیر میںہزاروں مقامی باشندوں نے بارش کی پرواہ کئے بغیر انسانی زنجیر بنائی۔ مقامی باشندوں نے بڑی تعداد میں جمع ہو کر ریاستی حکومت کی توجہ اپنی جانب مبذول کر نے کی کوشش کی۔ مظاہر ین نے کہا کہ ہم کسی بھی صورت میں نوی ایئر پورٹ کا نام بالا صاحب ٹھاکرے کے نام پر رکھنے نہیں دے گے۔ شیو سینا نے مختلف پرو جیکٹس بالا صاحب ٹھاکرے کے نام پر رکھے ہیں ۔ اس مرتبہ نوی ممبئی میں تعمیر ہو نے والے ایئر پورٹ کو مقامی سماجی خد متگار کا نام دیا جائے۔آزاد کارپوریٹرکنال پاٹل نے کہا کہ جس شخص نے مقامی لوگوں کی بہتری اور بھلائی کیلئے اپنی پوری زند گی صرف کی ہے ،اسی کے نام سے ایئر پورٹ ہوگا۔  
 نوی ممبئی میں زیر تعمیربین الاقوامی ہوائی اڈے کا نام ڈی بی پاٹل  سے منسوب کرنے کیلئے بھیونڈی سے ملحق دیہی علاقوں بھیونڈی تھانہ روڈ پر رہنال، پورنا، کوپر، کالہیر،کشیلی،بھیونڈی بائی پاس،دیوے، کون گاؤں و دیگر متعدد مقامات پر مرد اور خواتین نے انسانی زنجیر بنا کر احتجاج کیا گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK