• Tue, 13 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

فرانس میں سیکڑوں سپر مارکیٹوں پر سائبر حملہ، فریج گرم ہونے سے خوراک خراب

Updated: October 13, 2026, 4:25 PM IST | Paris

فرانس میں سیکڑوں سپر مارکیٹوں کے ریفریجریشن نظام پر بڑے پیمانے پر سائبر حملے کے نتیجے میں فریج اور فریزر کا درجۂ حرارت بڑھ کر ۵۰؍ ڈگری سیلسیئس تک پہنچ گیا، جس سے بڑی مقدار میں خوراک خراب ہوگئی اور کئی اسٹورس میں آگ لگنے کے واقعات پیش آئے۔

Cyber Attack.Photo:INN
سائبرحملہ۔ تصویر:آئی این این

فرانس میں سیکڑوں سپر مارکیٹوں کے ریفریجریشن نظام پر بڑے پیمانے پر سائبر حملے کے نتیجے میں فریج اور فریزر کا درجۂ حرارت بڑھ کر ۵۰؍ ڈگری سیلسیئس تک پہنچ گیا، جس سے بڑی مقدار میں خوراک خراب ہوگئی اور کئی اسٹورس میں آگ لگنے کے واقعات پیش آئے۔ فرانس کی بڑی خوردہ کمپنیوں انٹرماریشے، کوآپریٹو یو، ای لی کلیرک اور دیگر اداروں نے پیر کو اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے غیر معمولی قرار دیا۔
انٹرماریشے اور اس کے ذیلی برانڈ نیٹو کے کم از کم  ۳۰۰؍ اسٹورس کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ کوآپریٹو یو کے ۱۰۰؍ سے زیادہ مراکز متاثر ہوئے۔ کیریفور نے بتایا کہ اس کے ۸۰؍ سپر مارکیٹوں میں سائبر حملے کے اثرات دیکھے گئے، جبکہ مونوپری کے تقریباً ۴۹۰؍ اسٹورس میں سے پانچ فیصد متاثر ہوئے۔ ای لی کلیرک نے بھی اپنے متعدد اسٹوروں کو نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کی۔ پیرس کے پراسیکیوٹر دفتر کے مطابق، اس بڑے سائبر حملے نے فرانس کی کئی بڑی غذائی خوردہ کمپنیوں کے انٹرنیٹ سے منسلک ریفریجریشن نظام کو متاثر کیا، جس کے نتیجے میں خوراک کا نقصان ہوا اور آگ لگنے کے واقعات پیش آئے۔
حملے کے بعد وزیر اعظم سباستیاں لیکورنو نے فرانس کی قومی سائبر سیکوریٹی ایجنسی (اے این ایس ایس آئی) کو تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ ان کے دفتر کے ایک عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ فرانس یورپی ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے، کیونکہ دوسرے ملک بھی اس حملے سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ حکام یہ بھی جانچ رہے ہیں کہ آیا فرانس کی دیگر کمپنیوں کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ انٹرماریشے کے چیف ایگزیکٹیو تھیری کوتیار نے بی ایف ایم ٹی وی کو بتایا کہ اس غیر معمولی حملے سے فرانس بھر میں ایک ہی دن کے دوران کئی کروڑ یورو کا نقصان ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:رجنی کانت کی ’جیلر ۲‘ ہندی میں بڑے ملٹی پلیکسز پر ریلیز نہیں ہوگی

ٹی وی رپورٹ کے مطابق، ہیکروں نے دور سے ریفریجریشن نظام کو جبراً ڈی فراسٹ کرنے پر مجبور کیا، جس کے نتیجے میں تازہ اور منجمد اشیائے خورونوش کا ذخیرہ تباہ ہوگیا۔ انٹرماریشے نے اے ایف پی کو بتایا کہ متاثرہ اسٹوروں کو تازہ اور منجمد خوراک کی تمام متاثرہ اشیا پھینکنی پڑیں گی۔ کوآپریٹو یو کے چیف ایگزیکٹیو ڈومینک شیلشر نے کہا کہ اتوار کی رات سے کمپنی کے ریفریجریشن نظام میں خلل پڑا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ تازہ خوراک کے تحفظ اور عوام کو غذائی اشیا کی فراہمی کے لیے ضروری آلات کو نشانہ بنانا انتہائی سنگین اور ناقابل قبول ہے۔
انہوں نے کہا کہ کمپنی کی ٹیمیں نظام کو جلد از جلد معمول پر لانے کے لیے کام کر رہی ہیں اور حملے کی مکمل حقیقت سامنے لانے کے لیے تحقیقات ضروری ہیں۔ لیکورنو کے دفتر سے وابستہ ایک ذریعے کے مطابق، فرانس کی سائبر سیکوریٹی ایجنسی نے ڈنمارک کی کمپنی ڈینفوس کے فراہم کردہ سافٹ ویئر میں ایک خامی کی نشاندہی کی ہے۔ ڈینفوس نے کہا کہ اسے فرانس میں ریفریجریشن نظام کے انتظام سے متعلق محدود تعداد میں واقعات کا علم ہے۔ کمپنی کے مطابق، متاثرہ آلات میں فرسودہ فرم ویئر استعمال ہو رہا تھا۔ اس نے کہا کہ وہ صارفین کو طویل عرصے سے سافٹ ویئر اپ ڈیٹ رکھنے اور پرانے آلات تبدیل کرنے کا مشورہ دیتی رہی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:پونے: ایم پی ایس سی امیدواروں کا احتجاج رنگ لایا

سائبر سیکوریٹی کمپنی کلیرٹی نے ۹؍ اگست کو اپنی ایک تحقیق میں ڈینفوس کے نظام میں ایسی خامیوں کی نشاندہی کی تھی، جن کے ذریعے حملہ آور حفاظتی تصدیق کے عمل کو نظرانداز کرسکتے تھے۔ فرانس کی خردہ تجارت کی تنظیم ایف سی ڈی نے ڈینفوس سے مکمل شفافیت کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق، بعض متاثرہ اسٹوروں میں کام دوبارہ شروع ہوچکا ہے۔ سائبر خطرات سے متعلق تجزیہ کار فیلکس ایمے نے رائٹرز کو بتایا کہ اسپین، پرتگال، پولینڈ، جرمنی اور بلجیم بھی اس حملے سے متاثر ہوئے ہیں۔ سائبر سیکوریٹی تجزیہ کار اسٹیون لاشانس نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا کہ اس نوعیت کے حملے بالکل نئے نہیں، تاہم اتنے بڑے پیمانے پر ان کا ہونا غیر معمولی ہے۔ ان کے مطابق، انٹرنیٹ سے منسلک آلات میں کسی خامی کا پتہ چلنے کے بعد حملہ آور دور بیٹھ کر ان تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں اور ان کے افعال کو کنٹرول کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ’’ہم ایسے بنیادی نظام استعمال کر رہے ہیں جو انٹرنیٹ سے براہ راست منسلک ہیں اور ہیک کیے جاسکتے ہیں۔ یہ ایک نئی حقیقت ہے۔‘‘ انہوں نے اس واقعہ کو عالمی سطح پر خبردار کرنے والا ایک اہم واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے حملوں کی روک تھام کے لیے قومی اور بین الاقوامی اقدامات ناگزیر ہیں۔ لاشانس نے خبردار کیا کہ اگرچہ اس بار خوردہ کمپنیوں کو خوراک کے نقصان کی صورت میں لاکھوں یورو کا خسارہ اٹھانا پڑا ہے، لیکن مستقبل میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے یا اسپتالوں کو بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK