Updated: April 21, 2026, 6:02 PM IST
| Budapest
ہنگری کے نو منتخب وزیرِاعظم پیٹر ماگیار نے اعلان کیا ہے کہ اگر اسرائیلی وزیرِاعظم بنجامین نیتن یاہو ہنگری آئے تو انہیں بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کے وارنٹ کے تحت گرفتار کیا جا سکتا ہے۔ یہ بیان ہنگری کی آئی سی سی سے علاحدگی کے فیصلے پر نظرِثانی کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔
ہنگری کے نو منتخب وزیرِاعظم پیٹر ماگیار۔ تصویر: آئی این این
ہنگری کے نو منتخب وزیرِاعظم پیٹر ماگیار نے پیر (۲۰؍ اپریل) کو کہا ہے کہ اگر اسرائیلی وزیرِاعظم بنجامین نیتن یاہو ہنگری کی سرزمین میں داخل ہوئے تو انہیں حراست میں لیا جائے گا۔ یہ بیان اس کے باوجود سامنے آیا ہے کہ سابق وزیرِاعظم وکٹر اوربان نے اپریل۲۰۲۵ء میں بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) سے علاحدگی کا اعلان کیا تھا اور اسے’’سیاسی طور پر جانبدار‘‘قرار دیا تھا۔ تاہم ماگیار نے کہا ہے کہ وہ اس انخلا کو معطل کر دیں گے۔ ہنگری کی جانب سے آئی سی سی سے باقاعدہ علاحدگی کی حتمی تاریخ۲؍ جون ہے، جو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو باضابطہ نوٹس دینے کے ایک سال بعد مکمل ہو گی۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ آئی سی سی نے نومبر ۲۰۲۴ء میں نیتن یاہو اور سابق وزیرِ دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر گرفتاری کے وارنٹ جاری کئے تھے۔ روم اسٹیچیوٹ کے آرٹیکل۸۹؍ کے تحت آئی سی سی کے تمام رکن ممالک قانونی طور پر پابند ہیں کہ وہ ایسے افراد کی گرفتاری اور حوالگی کی درخواستوں پر عمل کریں۔
یہ بھی پڑھئے: ’مجھے ان سے ملنے میں کوئی اعتراض نہیں‘ ٹرمپ کی ایرانی لیڈروں سے ملاقات کی پیشکش
کیا نیتن یاہو کو ہنگری میں گرفتار کیا جائے گا؟
نئے ہنگری وزیرِاعظم نے آئی سی سی سے علاحدگی نہ کرنے کے فیصلے کے حوالے سے کہا کہ اگر کوئی ملک آئی سی سی کا رکن ہو اور کوئی مطلوب شخص اس کی سرزمین میں داخل ہو تو اسے حراست میں لینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا:’’میں نے یہ بات اسرائیلی وزیرِاعظم کو بھی واضح کر دی ہے۔ ٹسزا حکومت کا پختہ ارادہ ہے کہ ہنگری آئی سی سی کا رکن رہے۔ اگر کوئی شخص جو آئی سی سی کو مطلوب ہو ہمارے ملک میں داخل ہوتا ہے تو اسے حراست میں لیا جائے گا۔ ‘‘ماگیار نے ۱۵؍اپریل کو نیتن یاہو کے ساتھ ایک ’’ ابتدائی ٹیلیفونک گفتگو‘‘ کے دوران انہیں ہنگری آنے کی دعوت بھی دی تھی۔ نیتن یاہو اکتوبر۲۰۲۶ء میں ۱۹۵۶ء کی ہنگری بغاوت کی۷۰؍ویں سالگرہ کی تقریب میں شرکت کیلئے ہنگری کا دورہ کرنے والے ہیں، تاہم، اب ان کے دورے کے منصوبے میں تبدیلی کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ اپنے تصورات میں مذاکرات کی ٹیبل کو سرنڈر ٹیبل بنا رہے ہیں: باقر قالیباف
نیتن یاہو نے اپریل۲۰۲۵ء میں بھی بڈاپیسٹ کا دورہ کیا تھا جب اوربان نے ان کی گرفتاری سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہنگری پہلے ہی آئی سی سی سے علاحدگی کا اعلان کر چکا ہےتاہم، کئی ممالک نے آئی سی سی کے آرٹیکل ۸۹؍پر عمل نہیں کیا۔ آرٹیکل۹۸؍ کا حوالہ دیتے ہوئے فرانس نے کہا کہ نیتن یاہو کو گرفتار کرنا اس کے اسرائیل کے ساتھ دیگر بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔ اس آرٹیکل کے مطابق کوئی ملک کسی ایسے شخص کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتا جو سفارتی استثنیٰ رکھتا ہو۔ جرمنی اور اٹلی نے بھی اسرائیلی لیڈر کو استثنیٰ دیا ہے۔