Inquilab Logo Happiest Places to Work

بی جے پی ووٹر کیلئے سورت سے مغربی بنگال کیلئے خصوصی ٹرین، جبکہ مزدور پریشان

Updated: April 21, 2026, 5:20 PM IST | Surat

بی جے پی رائے دہندگان کیلئے سورت سے مغربی بنگال کیلئے خصوصی ٹرین چلائی گئی،جبکہ اترپردیش اور بہار جانے والے مزدور وں میں اپنے وطن جانے کیلئے افراتفری کاشکار تھے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ا اتوار کو سورت کے اُدھنا ریلوے اسٹیشن پر افراتفری کا عالم تھا، جہاں بہار و اودیشہ سے تعلق رکھنے والے ہزاروں تارکین وطن مزدور گھر جانے کے لیے ٹرینوں میں سوار ہونے کےجدوجہد کر رہے تھے، جبکہ چند گھنٹے بعد مکمل معمول کے تحت تقریباً ٍ۱۳۰۰؍ مسافر مغربی بنگال کے لیے ایک خصوصی ٹرین سے روانہ ہوئے۔یہ مسافر، جو مغربی بنگال کے مختلف حصوں سے تعلق رکھتے ہیں اور سورت میں کام کرتے ہیں، بی جے پی کے حامی بتائے جاتے ہیں۔ یہ بی جے پی کے اس منصوبے کا حصہ ہیں جس کے تحت۵۰۰۰؍ تارکین وطن کو ووٹ ڈالنے بھیجا جا رہا ہے۔

دریں اثناء سورت سے گزشتہ۳۴؍ گھنٹوں میں دو یکسر مختلف مناظر دیکھنے کو ملے۔ ایک طرف مکمل افراتفری تھی، ہزاروں تارکین وطن مزدور ریلوے اسٹیشن کے باہر قطاروں میں کھڑے تھے، کچھ باڑ پھاند رہے تھے، کچھ بھاگ رہے تھے، سب پولیس کی لاٹھیوں سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے جو نظم و ضبط بحال کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ زیادہ تر مزدور اودیشہ، بہار اور اتر پردیش سے تھے جو اتنے بڑی تعداد میں اپنے آبائی علاقوں کو لوٹ رہے تھے کہ اسٹیشن ان پر قابو نہ پا سکا۔بعد ازاں رات کو اس کے برعکس منظر سامنے آیا، جب’’ جے شری رام‘‘ اور ’’وندے ماترم‘‘ کے نعرے لگاتے ہوئے اور ترنگا لہراتے ہوئےسینکڑوں مسافر ایک خاص اے سی ٹرین میں سوار ہوئے،یہ مسافر، جن کا تعلق مغربی بنگال سے تھا، وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے خلاف تبدیلی کے لیے ووٹ ڈالنے اپنے گھر واپس جا رہے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر بی جے پی کے حامی تھے جنہیں سورت کی بنگالی انجمنوں نے چن لیا تھا، جنہوں نے انتخابی سرگرمیوں کے تحت ان کے سفری اخراجات بھی ادا کیے۔
اس سے قبل اتوار کو سورت کے اُدھنا ریلوے اسٹیشن پر بڑی افراتفری پھوٹ پڑی، جہاں ہزاروں تارکین وطن مزدور ٹرین پکڑنے کے لیے قطاروں میں کھڑے تھے۔ ان میں سے بیشتر سورت کی مشہور ڈائمنڈ اور ٹیکسٹائل صنعتوں میں ملازم ہیں، جو ایران جنگ کے بحران کی وجہ سے ایک ماہ سے زیادہ عرصے سے بری طرح متاثر ہیں۔ ریلوے حکام کے مطابق، ہجوم سنیچرسے بڑھ رہا تھا اور اتوار کی دوپہر تک بے قابو ہو گیا۔ تخمینہ لگایا گیا کہ۲۳۰۰۰؍ سے زائد افراد ٹرینیں پکڑنے اسٹیشن پہنچ گئے تھے۔ اس بھیڑ نے افراتفری پھیلا دی، لوگ رکاوٹیں پھاند رہے تھے، گھبراہٹ اور بدامنی پھیل گئی۔ ریلوے پروٹیکشن فورس اور گورنمنٹ ریلوے پولیس نے ہجوم پر قابو پانے اور نظم بحال کرنے کے لیے لاٹھیاں برسائیں۔ریلوے حکام کے مطابق، تقریباً۲۳۰۰۰؍ مسافر بہار اور اتر پردیش جانے والی چھ ٹرینوں کے لیے آئے تھے۔ 

دریں اثنا، ویسٹرن ریلوے کے جنرل منیجر راماشریا پانڈے نے صحافیوں کو بتایا، ’’ایک افواہ پھیل گئی تھی کہ صبح ساڑھے گیارہ بجے کے بعد کوئی ٹرین نہیں ہوگی اور سروس بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ سچ نہیں ہے۔ ٹرینوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔‘‘ حالانکہ چند گھنٹے بعد، اسی ریلوے اسٹیشن سے۱۳۰۰؍ مسافر مغربی بنگال کے لیے ایک خصوصی ٹرین سے روانہ ہوئے۔ چند دنوں میں ایسی مزید ٹرینوں کے ذریعے بی جے پی ووٹروں کو مغربی بنگال لے جانے کی توقع ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK