• Thu, 01 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

حیدرآباد: مسلمان ٹیچر کو ہراساں کرنے پر بی جے پی کارپوریٹر کے خلاف معاملہ درج

Updated: October 01, 2026, 7:02 PM IST | Hyderabad

حیدر آباد کے ایک اسکول میں مقامی کارپوریٹرنے ہندوتوا تنظیم کے اراکین کے ساتھ ٹیچر کو ہراساں کیا اور ہنگامہ مچا یا۔ کارپوریٹر کا الزام ہے کہ ٹیچر نے ہندو طلبہ کو ان کے مذہب اور وزیر اعظم کے خلاف باتیں سکھانے کی کوشش کی ، جبکہ کارپوریٹر کے خلاف پولیس نے ایف آئی آر درج کر لی ہے۔

Hindutva activists arguing alongside a BJP corporator. Photo: X
بی جے پی کارپوریٹر کے ہمراہ ہندوتوا وادی اراکین بحث کرتے ہوئے۔ تصویر: ایکس

حیدرآباد پولیس نے سرور نگر سے بی جے پی کارپوریٹراکولا سری وانی کے خلاف از خود نوٹس لیتے ہوئے اس وقت مقدمہ درج کر لیا ہے، جب اس کی قیادت میں ایک ہندوتوا تنظیم کے اراکین نے ایک اسکول میں مسلمان ٹیچر کو مبینہ طور پر ہراساں کیا اور دھمکیاں دیں۔سری وانی اور ہندو واہنی کے اراکین سری وینکٹیشور کالونی میں واقع ساگاریکا انٹیگریٹڈ ہائی اسکول کے پرنسپل کے دفتر میں داخل ہوئے اور الزام لگایا کہ ایک ٹیچر نے طلبہ سے کلائیوں پر بندھی راکھیاں اتارنے کوکہا تھا۔سری وانی نے الزام لگایا کہ بچوں سے بندیا، ٹیکا اور چوڑیاں بھی اتارنے کو کہا گیاتھا اور دعویٰ کیا کہ بچوں کو وزیراعظم نریندر مودی، ایودھیا کے رام مندر اور ہندوستان کی جی ڈی پی کی نمو کے خلاف باتیں سکھائی جا رہی تھیں۔

یہ بھی پڑھئے: ضمانت یا مجرمانہ مقدمات کی سماعت میں جج اپنے ذاتی اخلاقی نظریات مسلط نہ کریں: سپریم کورٹ

رپورٹ کے مطابق ٹیچر نے وضاحت کی کہ راکھیاں گندی ہو گئی تھیں، اس لئے انہوں نے طلبہ سے انہیں نکالنے کیلئےکہا تھا۔ جب ٹیچر نے سری وانی کے دیگر الزامات کو مسترد کیا، تو بی جے پی کارپوریٹر نے اونچی آواز میں بات کرتے ہوئے ان سے سوال کیا، ’’آپ پورے سال حجاب پہنتی ہیں، کیا کسی نے کبھی آپ پر اعتراض کیا یا سوال اٹھایا؟‘‘ بعد میں اسکول کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے، سری وانی نے والدین پر زور دیا کہ وہ اس بات پر نظر رکھیں کہ ان کے بچوں کو کیا پڑھایا جا رہا ہے۔اس نے الزام لگایا کہ ’’کچھ اساتذہ سناتن دھرم سے بغض و غصے کی وجہ سے‘‘ بچوں کووزیر اعظم نریندر مودی اور بھگوان رام کے خلاف سبق دے رہے ہیںاور کہا کہ اتنی چھوٹی عمر میں بچوں کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوششیں ’’خطرناک ہے، ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہمارا معاشرہ کس سمت جا رہا ہے۔‘‘
پولیس نے مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے اور مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کے الزامات کے تحت بی این ایس کی دفعہ ۱۹۶؍ اور ۲۹۹؍ کے تحت سری وانی کے خلاف کیس درج کیا ہے۔ ایف آئی آر کا جواب دیتے ہوئے سری وانی نے کہا، ’’میں نے ایسا کون سا جرم کیا ہے جس کی بنیاد پر پولیس میرے خلاف ناقابلِ ضمانت مقدمات درج کرنے کو جائز قرار دے رہی ہے؟‘‘ اس نے مزید کہا، ’’ہمیں وہاں یہ بھی بتایا گیا کہ اس ٹیچر کے خلاف پہلے بھی شکایتیں آئی تھیں۔ اس کے بعد جب انہوں نے معافی مانگی تو اسکول انتظامیہ نے ہمیں بتایا کہ انہیں ڈیوٹی سے ہٹا دیا گیا ہے۔‘‘مزید برآںسری وانی نے کہا، ’’میں نے کسی مذہب پر سوال نہیں اٹھایا اور نہ ہی کوئی نفرت انگیز تقریر کی ہے۔ میں نے صرف اس ٹیچر سے سوال کیا تھااور انہوں نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے معافی بھی مانگی۔‘‘ پولیس کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے اس نے کہا، ’’سوشل میڈیا کی ایک ویڈیو کی بنیاد پر آپ نے میرے خلاف ناقابلِ ضمانت کیس کیسے درج کر لیا؟‘‘

یہ بھی پڑھئے: اکبر اویسی اردھاپور عدالت میں حاضر،۲۵؍ ہزار کے مچلکے پر ضمانت منظور

بعد ازاں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے نوجوان  لیڈر محمد عمران احمد نے کہا، ’’والدین کو یہ دیکھنا چاہئے کہ اسکولوں میں کیا پڑھایا جا رہا ہے، لیکن انہیں یہ بھی دیکھنا چاہئےکہ کس طرح منتخب نمائندہ ہجوم کے ساتھ ایک پرائیویٹ اسکول میں گھس کر ٹیچر پر چلا رہاہے اور صفائی ستھرائی کے ایک معمولی معاملے کو ایجوکیشنل جہاد کا نام دے رہا ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ اگر اس بات کا کوئی ثبوت ہے کہ کسی ٹیچر نے بندیا، پوجا یا خاندانی روایتوں کا مذاق اڑایا ہے، تو والدین کو اسکول اور محکمہ تعلیم میں تحریری شکایت درج کرانی چاہئے اور مزید کہا کہ’’ویڈیو بنا کر ہنگامہ آرائی کرنا کوئی قانونی طریقہ نہیں ہے۔‘‘عمران احمد نے مزید کہا، ’’آپ خود بھگوا لباس پہنتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کسی بچے کے عقیدے پر سوال نہیں اٹھنا چاہئے، اسی لئے آپ کوبھی چاہئے کہ ٹیچر کے حجاب کو نشانہ مت بنائیں۔ یہ وہی منطق ہے جس کی آپ خود مخالفت کا دعویٰ کرتے ہیں۔‘‘انہوں نے کہا، ’’اگر کلاس روم کا استعمال کسی بھی برادری یا پارٹی کے خلاف سیاسی یا مذہبی پروپیگنڈے کیلئے ہو رہا ہے، تو اس کی تحقیقات ثبوتوں کی بنیاد پر ہونی چاہئے، نہ کہ نعرے بازی کی بنیاد پر۔‘‘انہوں نے نوٹ کیا کہ پولیس نے فرقہ وارانہ کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے پہلے ہی کیس درج کر لیا ہےاور کہا، ’’یہ بچوں کی حفاظت کا طریقہ نہیں بلکہ اس کے بالکل برعکس ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK