یوم انضمام حیدر آباد: امیت شاہ اور کے سی آر میں ٹکرائو

Updated: September 18, 2022, 11:22 AM IST | new Delhi

وزیر داخلہ نے نظام کے دور کوظلم کا دور قرار دیا ، وزیر اعلیٰ کے سی آر کا جواب: تاریخ مسخ کرنے والوں سے ہوشیار رہیں، مذہبی شدت پسندی بڑھے گی تو ملک تباہ ہو جائیگا

Telangana Chief Minister K Chandrasekhar Rao
تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے چندر شیکھر رائو

 یوم انضمام حیدر آباد کے موقع پر بی جے پی اورٹی آر ایس  دونوں آمنے سامنے آگئے۔ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ  اور تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ چندر شیکھررائو نے  جم کر ایک دوسرے پر تنقیدیں کیں اور اپنی اپنی پارٹی کے کارکنوں کو واضح پیغام دیا۔  امیت شاہ نے سکندرآباد پریڈ گراؤنڈ  پر مرکزی وزارت سیاحت و ثقافت کے زیر اہتمام منعقدہ  حیدرآباد لبریشن ڈے کے پروگرام میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ اس موقع پر امیت شاہ نے سب سے پہلے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کیا جس کے بعد انہیں مسلح افواج کی جانب سے سلامی پیش کی گئی۔ بعد ازاں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست حیدرآباد، کرناٹک کے کچھ حصوں اور مہاراشٹر کے کچھ حصوں کو ۱۷؍ستمبر کو آزادی ملی۔ سردار ولبھ بھائی پٹیل کی کوششوں سے اس خطے کے لوگوں کو نظام کی حکمرانی سے نجات ملی۔ پورے ملک کی آزادی کے ایک سال بعد حیدرآباد کے لوگوں کو آزادی ملی کیوں کہ سردار پٹیل نے آپریشن پولو کے ذریعہ نظام اور اس کے رضاکاروں کے اڈوں کا خاتمہ کیا۔امیت شاہ کے مطابق نظام کا دور ظلم وستم کا دور تھا ۔ اس کے خلاف جدوجہد میں کئی لوگوں نے اپنی جانیں قربان کیں لیکن اب تک کوئی بھی سیاسی پارٹی ووٹ بینک کی سیاست کی وجہ سے یہ دن منانے سے ڈرتی تھی لیکن ہم نے اسے اہمیت دی اور اب ہم ہر سال یہ دن پورے جوش و خروش سے منائیں گے ۔
  امیت شاہ نے ریاست کی حکمراںجماعت ٹی آرایس کو بھی  تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یوم آزادی  حیدرآباد کی تقریب ووٹ بینک کی سیاست کی وجہ سے نہیں منائی جاتی تھیں لیکن اب ہم منائیں گے۔ امیت شاہ کے مطابق ہندوستان کو ۱۵؍ اگست کو آزادی مل گئی تھی لیکن ریاست حیدر آباد کو آزاد کرانے میں ۱۳؍ مہینے لگ گئے ۔ اس کے لئے ہمیں سردار پٹیل کا احسان ماننا چاہئے کہ انہوں نے اتنا اہم کام انجام دیا ورنہ بھارت اکھنڈ نہ رہ پاتا۔  واضح رہے کہ اس تقریب میں مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے بھی موجود تھے جبکہ اس تقریب کے لئے وزیر اعلیٰ کے سی آر کو دعوت دی گئی تھی لیکن انہوں نے شرکت نہیں کی  ۔ 
   دوسری طرف  تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ کے چندرشیکھر راؤ نے ان  تنقیدوں کا بھرپور انداز میں جواب دیا ۔ انہوں نے   بی جے پی اور مرکز کی مودی حکومت پر اشاروں اشاروں میں شدید حملہ کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ملک اور تلنگانہ میں فرقہ پرست طاقتیں سماج کو تقسیم کرنے اور لوگوں میں نفرت پھیلانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ’تلنگانہ قومی یومِ اتحاد‘ کے موقع پر سکندر آباد میں ہی منعقدہ ایک تقریب سے قومی پرچم لہرانے کے بعد خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں مذہبی شدت پسندی بڑھتی ہے، تو یہ ملک کو تباہ کر دے گی اور اس کے نتیجہ  میںانسانی رشتے بگڑیں گےجو مزید تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو گی۔  چندرشیکھر راؤ نے کہا کہ اس وقت ملک میں مذہبی شدت پسندی عروج پر ہے۔ فرقہ پرست طاقتیںاپنے مفادات کے  لئے سماجی رشتوں میں بگاڑ پیدا کررہی ہیں۔ وہ اپنے زہریلے تبصروں سے لوگوں میں نفرت پھیلا رہے ہیں۔ لوگوں کے درمیان اس طرح کی تقسیم کسی بھی طرح سے مناسب نہیں ہے۔ ہمیں ایک رہتے ہوئے اِن طاقتو ں کا مقابلہ کرنا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ طاقتیں جن کا ۱۷؍ستمبر کے تاریخی واقعات سے کوئی رشتہ نہیں ہے، تلنگانہ کی روشن تاریخ کو غلط سیاست سے داغدار اور آلودہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔  چندر شیکھر رائو کے مطابق تاریخ کو مسخ کرنے والوں سے ہمیں ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ انہیں روکنے  کے لئےہمیں سماج میں آپسی محبت اور بھائی چارہ کو فروغ دینا ہو گا اور اس کے لئے ہماری پارٹی دن رات محنت کرے گی۔ واضح رہے کہ وزیر اعلیٰ چندرشیکھر راؤ کا یہ تبصرہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے ذریعہ ’حیدر آباد مکتی دیوس‘ تقریب کے موقع پر پریڈ میدان میں قومی پرچم لہرانے کے کچھ منٹ بعد سامنے آیا  ۔
 کے سی آر نے مزید کہا کہ حیدر آباد کو آزاد کرانے اور اسے ہندوستان میں ضم کرنے کا کام جن لوگوں نے کیا ہم انہیں نہایت محبت اور خلوص کے ساتھ یاد کرتے ہیں لیکن تاریخ کو مسخ کرنے کی کوششیں جس سطح پر ہو رہی ہیں ان سے بھی ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کیوں کہ جن  عناصر کا حیدر آباد کی آزادی میں کوئی رول نہیں تھا  وہ بھی اپنے لئے کوئی نہ کوئی کردار تلاش کررہے ہیں اور اس کوشش میں تاریخ کومسخ کرنے کے ساتھ ساتھ سماج میں فرقہ واریت کو فروغ دے رہے ہیں۔ ہمیں ایسی طاقتوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK