• Thu, 15 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

حیدرآباد: ڈوبتی بچی کو بچانے کیلئے ۳؍ افراد نے جان خطرے میں ڈالی، کمشنر نے اعزاز سے نوازا

Updated: October 15, 2026, 6:03 PM IST | Hyderabad

حیدرآباد میں حسین ساگر جھیل میں مبینہ طور پر دھکیلی گئی ۶؍ سالہ بچی کو بچانے کے لیے ایک آٹو ڈرائیور اور ۲؍ دیگر افراد نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اس کی جان بچا لی۔ فخرالدین، کے بالاکرشنا اور محمد افضل نے بچی کی چیخیں سننے کے بعد مدد کے لیے قدم بڑھایا؛ فخرالدین جھیل میں کود گئے، جب کہ افضل نے بچی کو پانی سے باہر نکالنے میں ان کی مدد کی۔ حیدرآباد کے پولیس کمشنر وی سی سجنار نے تینوں افراد کو شالیں اور نقد انعامات دے کر اعزاز سے نوازا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

یہ واقعہ ۸؍ اکتوبر کو شہر کے اپر ٹینک بنڈ علاقے میں پیش آیا، جہاں خاتون اپنی ۸؍ سالہ اور ۶؍ سالہ دو بیٹیوں کے ساتھ پہنچی تھی۔ پولیس کے مطابق، خاتون نے مبینہ طور پر بڑی بیٹی کو آئس کریم خریدنے کے لیے بھیجا اور اسی دوران چھوٹی بیٹی کو حسین ساگر جھیل میں دھکیل دیا۔ اس کے بعد وہ موقع سے چلی گئی۔ پانی میں گرنے کے بعد بچی نے بانس کی ایک ڈنڈی پکڑ لی اور مدد کے لیے چیخنے لگی۔ اس کی آواز سن کر وہاں سے گزرنے والے افراد متوجہ ہوئے اور فوری طور پر اسے بچانے کی کوشش شروع کردی۔ بچی کی چیخیں سب سے پہلے کے بالاکرشنا نے سنیں، جو بورابنڈہ کے موتی نگر علاقے کے رہنے والے ہیں۔ انہوں نے فوراً آس پاس موجود لوگوں کو متوجہ کیا اور مدد کے لیے آواز لگائی۔ اسی دوران بیگم پیٹ کے پرکاش نگر کے رہنے والے آٹو ڈرائیور فخرالدین اپر ٹینک بنڈ سے گزر رہے تھے۔ انہوں نے موقع پر لوگوں کا ہجوم دیکھا تو اپنا آٹو روک دیا۔ جھیل میں بچی کو زندگی اور موت کی کشمکش میں دیکھ کر وہ فوراً پانی میں کود گئے۔ محمد افضل، جو ناچارم علاقے کے رہنے والے ہیں، نے بھی ان کا ساتھ دیا۔ دونوں نے مل کر بچی کو پانی سے باہر نکالا اور سڑک تک پہنچایا۔

پولیس کے مطابق، بچی گلے میں پانی جانے کے سبب بے ہوش ہوگئی تھی۔ اسے فوری طور پر علاج کے لیے گاندھی اسپتال پہنچایا گیا، جہاں اس کی حالت مستحکم بتائی گئی۔ ہوش میں آنے کے بعد بچی نے پولیس کو بتایا کہ وہ پرانے بوئن پلی کے قریب حسام پیٹ علاقے کی رہنے والی ہے اور اسے صحت سے متعلق مسائل درپیش تھے۔ اطلاعات کے مطابق، اس کا علاج بھی جاری تھا۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر ڈومل گوڑہ پولیس نے معاملے کی جانچ شروع کی اور بچی کی ماں کے خلاف قتل کی کوشش کا مقدمہ درج کیا۔ پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق، خاتون کی دو ماہ سے بیمار چھوٹی بیٹی کے علاج پر اخراجات بڑھ رہے تھے اور خاندان کو مالی مشکلات کا سامنا تھا۔ اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ خاتون اپنے شوہر سے الگ رہ رہی تھی اور گھریلو ملازمت کرکے دونوں بیٹیوں کی پرورش کر رہی تھی۔ پولیس کو شبہ ہے کہ بچی کی بیماری اور علاج کے اخراجات سے پیدا ہونے والی پریشانی اس واقعے کی وجہ بن سکتی ہے۔ تاہم، یہ پہلو تفتیش کا حصہ ہے اور اسے حتمی طور پر ثابت شدہ وجہ نہیں سمجھا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھئے: ہنگولی: ۵؍ ہزار روپے کی سرکاری امداد پر کسان برہم

حیدرآباد کے پولیس کمشنر وی سی سجنار نے ۱۴؍ اکتوبر کو پولیس کمشنریٹ، بشیر باغ میں تینوں افراد کو اعزاز سے نوازا۔ انہیں شالیں پہنائی گئیں اور نقد انعامات دیے گئے۔ کمشنر نے ان کی حاضر دماغی، ہمت اور انسانی ہمدردی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مشکل وقت میں فوری قدم اٹھا کر ایک بچی کی جان بچائی۔ انہوں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ بعض اوقات لوگ کسی شخص کو مصیبت میں دیکھ کر مدد کرنے کے بجائے موبائل فون سے ویڈیو بنانے لگتے ہیں۔ ان کے مطابق، فخرالدین، بالاکرشنا اور افضل نے عملی مدد کرکے معاشرے کے سامنے ایک مثال قائم کی ہے۔ پولیس کمشنر نے مالی پریشانیوں اور خاندانی مسائل سے دوچار افراد سے اپیل کی کہ وہ مایوسی میں انتہائی قدم اٹھانے کے بجائے معاشرے اور متعلقہ سرکاری اداروں سے مدد طلب کریں۔ اس واقعے میں تینوں شہریوں کی بروقت مداخلت نے نہ صرف بچی کی جان بچائی بلکہ عوامی مقامات پر ہنگامی صورت حال میں فوری مدد کی اہمیت کو بھی نمایاں کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK