• Thu, 08 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہنڈائی فیکٹریوں میں انسان نما روبوٹ کام کریں گے

Updated: January 06, 2026, 6:03 PM IST | New Delhi

ہنڈائی موٹر گروپ نے ۲۰۲۸ء تک اپنی فیکٹریوں میں انسان نما روبوٹس کا استعمال کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے، کیونکہ بڑی کمپنیاں اس نئی ٹیکنالوجی کو اپنانے کی دوڑ میں ہیں۔جنوبی کوریا کی کمپنی نے لاس ویگاس میں کنزیومر الیکٹرانکس شو (سی ای ایس) میں بوسٹن ڈائنامکس کے تیار کردہ اٹلس روبوٹ کی نمائش کی۔

Hyundai Car.Photo:INN
ہنڈائی کار۔ تصویر:آئی این این

ہنڈائی موٹر گروپ نے ۲۰۲۸ء تک اپنی فیکٹریوں میں انسان نما روبوٹس کا استعمال کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے، کیونکہ بڑی کمپنیاں اس نئی ٹیکنالوجی کو اپنانے کی دوڑ میں ہیں۔جنوبی کوریا کی کمپنی نے لاس ویگاس میں کنزیومر الیکٹرانکس شو (سی ای ایس) میں بوسٹن ڈائنامکس کے تیار کردہ اٹلس روبوٹ کی نمائش کی۔ایمیزون، ٹیسلا  اور چینی کار ساز  بی وائی ڈی  نے بھی اپنے کاموں میں روبوٹ استعمال کرنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔مزید کاموں کے لیے روبوٹ تیار کیے جا رہے ہیں۔
جنوبی کوریا کی کار ساز کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اٹلس کو اپنے عالمی نیٹ ورک میں شامل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس میں امریکی ریاست جارجیا میں ایک پلانٹ بھی شامل ہے۔ہنڈائی نے کہا کہ اٹلس روبوٹ آہستہ آہستہ مزید کام کرے گا۔ یہ عام صنعتی استعمال کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔اسے انسانوں کے ساتھ مل کر کام کرنے اور مشینوں کو خود کار طریقے سے چلانے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ریلائنس نے روس سے تیل کی خریداری کے تعلق سے انکا ر کردیا

روبوٹ استعمال کرنے سے کیا فائدہ ہوگا؟
ہنڈائی  نے کہا کہ یہ روبوٹ انسانی کارکنوں پر جسمانی دباؤ کو کم کرنے، خطرناک کاموں کو سنبھالنے اور اس ٹیکنالوجی کے وسیع پیمانے پر استعمال کی راہ ہموار کرنے میں مدد کریں گے۔کمپنی نے یہ نہیں بتایا کہ وہ ابتدائی طور پر کتنے روبوٹ تعینات کرے گی یا اس منصوبے پر کتنی لاگت آئے گی۔ہنڈائی کے نائب صدر جیہون چانگ نے انسانی کارکنوں کے روبوٹس کے ہاتھوں اپنی ملازمتیں گنوانے کے خدشات کو تسلیم کیا  لیکن کہا کہ روبوٹ کی تربیت اور دیگر کرداروں کی ضرورت باقی رہے گی۔کمپنی کے مطابق اٹلس روبوٹ انتہائی جدید ہے۔ یہ روبوٹ خاص طور پر فیکٹری کے کام کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہ ۲۰۲۸ء تک جارجیا کے سوانا میں ہنڈائی کی الیکٹرک گاڑیوں کی فیکٹری میں استعمال کیا جائے گا۔ ابتدائی طور پر، یہ پارٹ اسمبلی جیسے کاموں کو سنبھالے گا۔ بعد میں، اسے دوسرے کاموں میں شامل کیا جائے گا۔ یہ اقدام مستقبل کو مکمل طور پر بدل دے گا، کام کی رفتار اور گاڑیوں کی تیزی سے پیداوار ہو گی۔روبوٹ ۵ء۷؍ فٹ لمبا ہے اور ۱۱۰؍پاؤنڈ وزن اٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ۴۰؍ ڈگری سیلسیس تک کم درجہ حرارت میں کام کر سکتا ہے۔ اس کی آئی پی  ۶۷؍  درجہ بندی ہے۔ یعنی روبوٹ پانی میں ڈوبنے کے بعد بھی کام کرے گا۔اس روبوٹ میں بدلنے والا بیٹری سسٹم ہے۔ اس کا بیٹری بیک اپ ٹائم۴؍ گھنٹے ہے۔ آنے والے مہینوں میں، اسے گوگل ڈیپ مینڈ اور مصنوعی ذہانت سے بھی سپورٹ کیا جائے گا، جس سے یہ نمایاں طور پر اسمارٹ اور بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرے گا۔

یہ بھی پڑھئے:ٹائیگر شروف ایٹلی کے اے اے x۲۲اے ۶؍میں اللو ارجن کے ساتھ شامل ہوں گے

کمپنی نے اس کے لیے گوگل اوراینویڈیا  کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔کام ۲۰۱۱ء  میں شروع ہوا۔ بوسٹن ڈائنامکس نے ۲۰۱۱ء میں اٹلس  روبوٹ پر کام شروع کیا تھا۔ اسے ۲۰۲۴ء تک کام کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ اب، روبوٹ کو پہلی بار نمائش کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ تاہم اسے ابھی تک کسی عوامی مظاہرے کے لیے تعینات نہیں کیا گیا ہے۔ توقع ہے کہ روبوٹ سے متعلق ایک اہم اپ ڈیٹ آنے والے دنوں میں آ سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK