Inquilab Logo Happiest Places to Work

۱۹۸۴ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب ممتا بنرجی کسی آئینی عہدے پر نہیں ہیں

Updated: May 06, 2026, 12:45 PM IST | Inderjeet Singh | Kolkata

بنگال کی سیاست میں ’دیدی ‘ کے نام سے مشہور ممتا بنرجی کیلئے ۲۰۲۶ء کے اسمبلی انتخابات ایک تاریخی اور جذباتی دھچکا لے کر آیا۔ انتخابات سے قبل ’میں یہ لڑائی اکیلے لڑوں گی‘ ان کا یہ خود اعتمادی سے بھرپور بیان اب ان کی سیاسی زندگی کی سب سے بڑی شکست کے طور پر درج ہو گیا ہے۔

Mamata Banerjee.Photo:INN
ممتا بنرجی ۔ تصویر:آئی این این
 بنگال کی سیاست میں ’دیدی ‘ کے نام سے مشہور ممتا بنرجی کیلئے ۲۰۲۶ء  کے اسمبلی انتخابات ایک تاریخی اور جذباتی دھچکا لے کر آیا۔ انتخابات سے قبل ’میں یہ لڑائی اکیلے لڑوں گی‘ ان کا یہ خود اعتمادی سے بھرپور بیان اب ان کی سیاسی زندگی کی سب سے بڑی شکست کے طور پر درج ہو گیا ہے۔ بھوانی پور، جسے ترنمول کانگریس کا ناقابل تسخیر قلعہ سمجھا جاتا تھا، وہیں سے بی جے پی کے شوبھندو ادھیکاری نے ممتا کو۱۵ہزار۱۰۵؍ ووٹوں سے زبردست شکست دی۔۲۰۲۱ءمیں نندی گرام سے ہارنے کے بعد ممتا بنرجی نے ضمنی انتخاب میں بھوانی پور سے جیت درج کی تھی۔ اس وقت نعرہ تھا  ’’بنگال اپنی بیٹی کو چاہتا ہے۔‘‘ ۲۰۲۶ء میں یہی نعرہ ’’بھوانی پور کی اپنی بیٹی‘‘بن گیا لیکن اس بار عوام نے اسے مسترد کر دیا۔ ممتا نے گھر گھر جا کر مہم چلائی، چھوٹی میٹنگوں، چائے پر چرچہ اور ذاتی رابطے پر زور دیا، لیکن پھر بھی نتیجہ ان کے خلاف گیا۔سال ۱۹۸۴ء میں رکن پارلیمان بننے کے بعد پہلی بار وہ کسی آئینی عہدے پر فائز نہیں ہیں۔ 
 
 
۴؍ مئی کی رات نے بنگال کی سیاست کو یہ دکھا دیا کہ کبھی ناقابلِ شکست سمجھی جانے والی لیڈر بھی وقت کے ساتھ چیلنجز کا سامنا کرتی ہے۔ یہ ہار صرف ایک انتخابی نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل سیاسی باب کے ٹریجک موڑ کی کہانی بن گئی ہے۔ واضح رہے کہ ۱۹۹۸ء میں ترنمول کانگریس کی بنیاد رکھ کر ممتا نے بنگال کی سیاست میں ایک نیا باب لکھا تھا۔ ۳۴؍برسوں کے طویل بائیں بازو (لیفٹ) کے اقتدار کو اکھاڑ پھینک کر وہ ۲۰۱۱ء میں بنگال کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ بنیں۔ یہ ان کی سب سے بڑی سیاسی جیت سمجھی جاتی ہے۔
 
 
اس انتخاب کے بعد ممتا اب تک کے سب سے بڑے چیلنج کا سامنا کر رہی ہیں۔ ۷۱؍سال کی عمر میں اور۳؍ بار اقتدار میں رہنے کے بعد ممتاکی واپسی کی راہ پہلے سے کہیں زیادہ مشکل نظر آتی ہے۔ اس بار چیلنج کی نوعیت مختلف ہے، جہاں وقت، تنظیمی کمزوری اور مضبوط حریف ایک ساتھ موجود ہیں۔پھر بھی، ان کا سیاسی سفر اکثر جدوجہد کی سیاست سے ہی مضبوط ہوا ہے۔ اقتدار سے باہر ہونے پر وہ پارٹی کو دوبارہ ایک اپوزیشن طاقت کے طور پر ڈھالنے کی کوشش کر سکتی ہیں۔ ممتا کے لئے فی الحال سب سے بڑا چیلنج اقتدار میں واپسی نہیں بلکہ اقتدار کے بغیر خود کو نئے سرے سے متعارف کروانا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK