مغربی بنگال میں کانگریس کو جو ۲؍ سیٹیں ملی ہیں، ان میں سے ایک سیٹ مہتاب شیخ کی ہے، ووٹرلسٹ میں اپنا نام شامل کروانےکیلئے انہیں سپریم کورٹ تک جانا پڑاتھا۔
’فرکا‘ حلقے سے نومنتخب ایم ایل اے مہتاب شیخ- تصویر:آئی این این
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں کانگریس کو صرف دو سیٹیں ملی ہیں۔ ان میں ’فرکا‘ اسمبلی سیٹ جیتنے والے مہتاب شیخ کی کہانی بہت دلچسپ ہے۔ ان کا نام انتخابات سے عین قبل کرائے ’ایس آئی آر‘ میں کٹ گیا تھا۔ اس کے بعد وہ ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ گئے۔ الیکشن کمیشن کے خلاف اس قانونی جنگ میں ان کی جیت ہوئی، آخری وقت میں ان کا نام ووٹر لسٹ میں شامل کیا گیا اور اب وہ ۸؍ ہزار ووٹوں کے فرق سے اسمبلی الیکشن جیت چکے ہیں۔
واضح رہے کہ۲۸؍ فروری کو الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر کی بنیاد پرحتمی ووٹر لسٹ شائع کی تھی۔ اس میں مہتاب شیخ کا نام شامل نہیں تھا۔ اس سے قبل کمیشن نے مہتاب کو ان۷۲؍ لاکھ ووٹرز میں شامل کیا تھا جنہیں’منطقی عدم مطابقت‘ کی وجہ سے ہٹا دیا گیا تھا۔
مہتاب نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پاسپورٹ سمیت متعدد دستاویزات الیکشن کمیشن اور عدالتی افسر کو پیش کیں،اس کے باوجود ان کا نام ہٹا دیا گیا۔انہوں نے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کے تمام ۶؍ بہن بھائی، ان کی بیوی اور ان کےبچوں کے نام ووٹر لسٹ میں ہیں لیکن ان کا نہیں ہے۔
۲؍ اپریل کو سپریم کورٹ نے ٹریبونل کو مہتاب کا کیس حل کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے کہا کہ متعلقہ ٹریبونل اس معاملے کو دیکھے اور الیکشن کمیشن کی مدد سے۶؍ اپریل کی سہ پہر تک اسے حل کرے۔ دراصل پہلے مرحلے کیلئے کاغذات نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ۶؍ اپریل تھی۔اس طرح ایک دن پہلے ٹریبونل نے فیصلہ سنایا۔
ٹریبونل نے کہا کہ مہتاب کے پاس درست ثبوت ہیں اور ان کے والد کے نام میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ٹربیونل نے نوٹ کیا کہ ان کے نام میں املا کی غلطی تھی جس کے بارے میں انہوں نے الیکشن کمیشن کو۲۰۰۲ء میں حلف نامے میں آگاہ کیا تھا۔ ٹریبول نے الیکشن کمیشن کو حکم دیا کہ وہ۵؍ اپریل کی شام۸؍ بجے تک ایک الگ فہرست کے ذریعے مہتاب کو مرشد آباد کا درست ووٹر قرار دے۔ اس کے بعد مہتاب نے کانگریس کے ٹکٹ پر ’فرکا‘سے انتخاب لڑا اور بی جے پی کے سنیل چودھری کو۸؍ ہزار ۱۹۳؍ ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔