Inquilab Logo Happiest Places to Work

آئی اے ایس افسر کا سوال: اسکولوں میں خوش رہنا کیوں نہیں سکھایا جاتا؟

Updated: May 21, 2026, 12:55 AM IST | Mumbai

آئی آئی ٹی اور آئی آئی ایم سے تعلیم یافتہ اعلیٰ افسر دویہ متل کی ایک پوسٹ نے بہتوں کو غو روفکر کا موقع دیا جس کے نتیجہ میں مباحثہ شروع ہوگیا، وجہ صرف یہ کہ یہ آج کا بہت اہم موضوع ہے

IAS officer Divya Mittal`s social media post is thought-provoking
آئی اے ایس افسر دویہ متل کی سوشل میڈیا پوسٹ غوروفکر پر مجبور کرتی ہیں

آئی آئی ٹی دہلی اور آئی آئی ایم  سے تعلیم حاصل کرنے اور پھر سول سروسیز میں شمولیت اختیار کرنے والی اعلیٰ افسر دویہ متل نے بہت چبھتا ہوا سوال پوچھ کر پورے تعلیمی نظام کو گویا بیکار محض قرار دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ’’وطن میں جو بہترین تعلیم ممکن ہوسکتی ہے وہ میں نے حاصل کی۔ مجھے سکھایا گیا کہ مشکل سے مشکل امتحان میں کیسے کامیابی حاصل کی جاتی ہے اور کس طرح بڑی ذمہ داریوں کو نبھایا جاتا ہے مگر مجھے کبھی نہیں سکھایا کہ ذہن کو انتشار سے کیسے بچایا جائے اور تنہائی سے کیسے نمٹا جائے۔‘‘
 واضح رہے کہ دویہ متل۲۰۱۳ء  کے بیچ کی اتر پردیش کیڈر کی آئی اے ایس افسر ہیں۔ انہوں نے۲۰۱۲ء کے یو پی ایس سی امتحان میں قومی سطح پر۶۸؍ واں رینک حاصل کیا تھا۔ انہیں گلہ ہے کہ مقابلہ جاتی امتحان کی تیاری کے لئے کئی سال کی پڑھائی لکھائی کے دوران انہوں نے بہت کچھ سیکھا مگر یہ نہیں سیکھ پائیں کہ جذباتی دباؤ، تنہائی یا اکیلے پن کا خوش اسلوبی سے مقابلہ کس طرح ممکن ہو اور خود کو کیسے سمجھا جائے۔ انہوں نے ’’ایکس‘‘ پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ ہم کئی برس محنت کرکے کامیابی کے حصول کو یقینی بناتے ہیں مگر خوش رہنے کا فن نہیں سیکھ پاتے۔ ان کا یہ سوال اس لئے اہم ہے کہ ٹیکنالوجی کے غلبے کے اس دور میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو اپنے خول میں سمٹ گئے ہیں، اپنی دنیا میں جینے لگے ہیں، ان کے سماجی تعلقات محدود ہوگئے ہیں، ہنسنا بولنا اور خوش رہنا ان کیلئے مسئلہ بنتا جا رہا ہے اور سوشل میڈیا کے استعمال کی وجہ سے ان کی جذباتی اور نفسیاتی زندگی ایک قسم کے تشنج اور دباؤ میں آگئی ہے۔ ان مسائل سے نمٹنے اور ان کا تحمل کے ساتھ مقابلہ کرنے کا درس طلبہ کو نہیں دیا جاتا۔
  بقول دویہ متل’’ہمارے لئے دوری جدول (پیریاڈک ٹیبل) یاد کرنا مشکل نہیں مگر اپنے مسئلہ، رنج و غم، ذہنی الجھن وغیرہ کا مقابلہ کیسے کریں یہ ہم نہیں جانتے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ دل برداشتہ ہوں تو کیا کرنا چاہئے یا دل ٹوٹ جائے تو اس کا مداوا کیسے ہو۔‘‘ دویہ متل آگے بڑھ کر تعلیمی نظام کے ساتھ ساتھ تربیتی نظام کے بارے میں بھی کہتی ہیں کہ طلبہ کو جذبات سمجھنے کی تربیت دینے کے بجائے جذبات کو دبانا سکھایا جاتا ہے۔ ان کے بقول: ’’اسکولوں میں جو سب سے زیادہ (صحیح) جوابات دیتا ہے وہ بازی مار لیتا ہے مگر اکثر اوقات عملی زندگی سوالیہ مفروضوں کا مطالبہ کرتی ہے۔‘‘ اسی طرح، دویہ مالیاتی خواندگی پر بھی سوال اٹھاتی ہیں کہ طلبہ کئی سال ریاضی سیکھتے ہیں مگر نہ تو قرض سے نمٹنے کے طریقے سیکھ پاتے ہیں نہ ہی انہیں  خرچ کی عادت کو سنوارنا آتا ہے۔
 اس آئی اے ایس افسر کے ان خیالات کی کافی پزیرائی ہوئی ہے اور بحث کے نئے زاویئے تلاش کئے گئے ہیں۔ دویہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ درس گاہوں میں کتاب پڑھنا اور امتحان دینا سکھایا جاتا ہے مگر یہ نہیں کہ اپنی بات کس طرح کہنی چاہئے یا کسی کو انکار میں جواب دینے کا طریقہ کیا ہوسکتاہے۔دویہ کی ایکس پوسٹ پرگفتگو اس حد تک بڑھی کہ کئی صارفین نے ان سے سوالات کئے جن کا انہوں نے اطمینان بخش جواب دیا۔ مثال کے طور پر ایک سوال صلاحیت اور مواقع سے متعلق تھا کہ بعض اوقات کسی طالب علم یا نوجوان کے حالات اس کے اختیار سے باہر ہوتے ہیں۔ اس پر دویہ نے کہا کہ ’’صلاحیت کو بھی تقدیر کا لکھا قرار دیا جا سکتا ہے مگر اصل چیز کیا ہے؟ اصل یہ ہے کہ جو آپ کے اختیار میں ہے آپ اس کا کتنا استعمال کرتے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ آپ کا اختیار محنت پر سب سے زیادہ ہے۔‘‘ دوران بحث بعض صارفین کی رائے یہ تھی کہ اسکولوں سے یہ توقع نہیں کی جانی چاہئے کہ وہ کامیاب زندگی کا ہر ہنر طلبہ کو سکھا دیں۔ اس پوری بحث میں دویہ متل نے اس جانب توجہ دلائی کہ آیا تعلیمی نظام صرف کریئر سازی میں مدد کرے یا غیر یقینی صورت حال، ناکامی، باہمی تعلقات کی الجھن اور عنفوان شباب کے مسائل کی سمجھ بھی پیدا کرے۔دویہ متل، جو سرکاری ملازمت اور عوامی خدمات  کے اب تک تیرہ سال گزار چکی ہیں اور کئی اہم عہدوں پر فائز رہ چکی ہیں، فی الحال دیوریہ (یوپی)کی ڈی ایم اور کلکٹر ہیں۔ ان کی اکثر پوسٹس میں غور و فکر کا کوئی نہ کوئی نکتہ ضرور ہوتا ہے ۔ مثال کے طور پر دو روز قبل کی یہ پوسٹ دیکھئے جس میں والدین کو مخاطب کئے بغیر کہا گیا ہے کہ ’’ہم اپنے بچوں سے جو باتیں کرتے ہیں وہ ان کی اپنی آواز بن جاتی ہیں اس لئے جب بھی ان سے بات کریں اس عظمت کو ذہن میں رکھیں جس کے وہ اہل ہوسکتے ہیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK