Inquilab Logo Happiest Places to Work

تفریحی صنعت میں مالی بحران، کارکنوں کی آمدنی میں ۶۰؍ فیصد تک کمی

Updated: May 20, 2026, 10:08 PM IST | Mumbai

تفریحی صنعت سے وابستہ ایک ہزار سے زائد افراد پر کیے گئے ایک سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ فلم اور ڈجیٹل انڈسٹری سے جڑے کارکن شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔ سروے کے مطابق، متعدد تکنیکی ماہرین، اسسٹنٹ ڈائریکٹرز، میک اپ آرٹسٹ، لائٹ مین اور دیگر فری لانسرز کو یا تو کام نہیں مل رہا یا انہیں پہلے کے مقابلے میں ۵۰؍ سے ۶۰؍ فیصد کم معاوضہ دیا جا رہا ہے۔ ممبئی جیسے مہنگے شہر میں بڑھتے اخراجات نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ کئی کارکن بچت ختم ہونے کے بعد قرض لینے یا عارضی ملازمتیں کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ کچھ اپنے آبائی شہروں کو واپس لوٹ چکے ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ہندوستانی تفریحی صنعت میں جاری سست روی نے ہزاروں کارکنوں کی معاشی صورتحال کو شدید متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ ’’دی ٹاپ انڈیا‘‘ کی جانب سے فلم، ٹیلی ویژن اور ڈجیٹل انڈسٹری سے وابستہ ایک ہزار سے زائد افراد پر کیے گئے حالیہ سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ صنعت کے اندر کام کے مواقع اور کمائی دونوں میں نمایاں کمی آئی ہے، جس کے باعث بڑی تعداد میں کارکن مالی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق، متعدد کارکنوں نے کہا کہ انہیں یا تو پہلے کے مقابلے میں بہت کم کام مل رہا ہے یا انہیں دستیاب منصوبوں کیلئے انتہائی کم معاوضہ دیا جا رہا ہے۔ کئی جواب دہندگان نے دعویٰ کیا کہ ان کی آمدنی میں گزشتہ چند برسوں کے مقابلے میں تقریباً ۵۰؍ سے ۶۰؍ فیصد تک کمی واقع ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سالگرہ پر جونیئر این ٹی آر نے نئے پالتو پرندے ’آساہی‘ اور ’یوہی‘ متعارف کرائے

رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ بحران زیادہ تر درمیانے درجے اور جونیئر سطح کے کارکنوں کو متاثر کر رہا ہے، جبکہ بڑے اداکار اور قائم شدہ سپر اسٹار اب بھی مستحکم پروجیکٹس اور بھاری معاوضہ حاصل کر رہے ہیں۔ انڈسٹری کے وہ شعبے جو روزانہ کی شوٹنگ، مختصر معاہدوں یا پروجیکٹ کی بنیاد پر کام کرتے ہیں، سب سے زیادہ دباؤ میں ہیں۔ سروے کے مطابق متاثر ہونے والوں میں کریکٹر آرٹسٹ، اسسٹنٹ ڈائریکٹرز، میک اپ آرٹسٹ، اداکاروں کے ذاتی جم ٹرینرز، لائٹ مین، کیمرہ آپریٹرز، اسپاٹ بوائز، پروڈکشن اسسٹنٹس، ایڈیٹرز، تکنیکی ماہرین، ساز و سامان فراہم کرنے والے اور دیگر فری لانسرز شامل ہیں۔ ان میں سے اکثر افراد مستقل تنخواہ کے بجائے روزانہ یا پروجیکٹ کی بنیاد پر معاوضہ حاصل کرتے ہیں، جس کی وجہ سے کام میں کمی براہ راست ان کی روزمرہ زندگی پر اثر ڈال رہی ہے۔

صنعتی کارکنوں نے اس سست روی کی کئی وجوہات بھی بیان کیں۔ ان کے مطابق فلمی بجٹ میں کمی، او ٹی ٹی پلیٹ فارمز کی جانب سے اخراجات میں احتیاط، نئے منصوبوں کی منظوری میں تاخیر اور پروڈکشن ہاؤسز کی جانب سے محدود سرمایہ کاری اس بحران کی بنیادی وجوہات ہیں۔ متعدد افراد نے کہا کہ گزشتہ چند مہینوں میں صورتحال مزید خراب ہوئی ہے اور نئے پروجیکٹس کی رفتار مسلسل کم ہو رہی ہے۔ یہ بحران خاص طور پر ممبئی میں زیادہ شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے، جہاں ہندوستانی تفریحی صنعت کا بڑا حصہ مرکوز ہے۔ اندھیری، جوہو اور باندرہ جیسے علاقوں میں رہنے والے کارکنوں نے بتایا کہ کرایوں اور روزمرہ اخراجات میں مسلسل اضافے نے ان کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔ کئی افراد نے کہا کہ ان علاقوں میں ایک معمولی اپارٹمنٹ کا کرایہ بھی ۵۰؍ ہزار روپے ماہانہ تک پہنچ چکا ہے، جسے موجودہ آمدنی کے ساتھ برداشت کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: جاوید جعفری بطور اسکیلیٹر، میزان ہی مین؛ ہندی ٹریلر نے دھوم مچا دی

سروے میں شامل کئی تکنیکی ماہرین اور معاون عملے نے بتایا کہ وہ اپنی بچت استعمال کر رہے ہیں، دوستوں اور رشتہ داروں سے قرض لے رہے ہیں یا اخراجات پورے کرنے کیلئے عارضی ملازمتیں اختیار کر رہے ہیں۔ بعض افراد نے اعتراف کیا کہ ممبئی میں مستقل کام نہ ملنے کے باعث وہ اپنے آبائی شہروں کو واپس لوٹ گئے ہیں۔ انڈسٹری کے ماہرین کے مطابق تفریحی شعبہ ایک باہم جڑا ہوا ماحولیاتی نظام ہے، جہاں ایک فلم یا ویب سیریز کی تاخیر سینکڑوں افراد کی روزی متاثر کرتی ہے۔ اداکاروں کے علاوہ ملبوسات فراہم کرنے والے، سیٹ ڈیزائنرز، کیمرہ رینٹل کمپنیاں، ٹرانسپورٹ سروسز اور دیگر کئی ذیلی شعبے بھی اس بحران کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔

تاخیر سے ادائیگیوں کا مسئلہ بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ متعدد فری لانسرز نے شکایت کی کہ مکمل پروجیکٹ ختم ہونے کے باوجود انہیں کئی مہینوں تک اپنی فیس نہیں ملتی، جس سے مالی غیر یقینی صورتحال مزید سنگین ہو رہی ہے۔ اگرچہ حالات مشکل ہیں، تاہم کئی کارکن اب بھی پرامید ہیں کہ اگر پروڈکشن سرگرمیاں دوبارہ تیز ہوتی ہیں اور سامعین کی کھپت میں اضافہ ہوتا ہے تو صنعت میں بہتری آ سکتی ہے۔ بعض ماہرین کا ماننا ہے کہ پروڈکشن ہاؤسز کو ایسے بحران کے دوران کارکنوں کے تحفظ کیلئے مضبوط مالی منصوبہ بندی اور ادائیگی کے شفاف نظام متعارف کرانے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK