اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں نے بنگلہ دیش میں روہنگیاؤں کی امداد کیلئے ۷۱۰؍ ملین ڈالر امداد کی اپیل کی ہے، یہ رقم مظلوم اقلیت کی کم سے کم جان بچانے والی ضروری امداد فراہم کرے گی۔
EPAPER
Updated: May 20, 2026, 10:08 PM IST | New York
اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں نے بنگلہ دیش میں روہنگیاؤں کی امداد کیلئے ۷۱۰؍ ملین ڈالر امداد کی اپیل کی ہے، یہ رقم مظلوم اقلیت کی کم سے کم جان بچانے والی ضروری امداد فراہم کرے گی۔
اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں نے بنگلہ دیش میں روہنگیاؤں کی امداد کے لیے۷۱۰؍ ملین ڈالر کی اپیل کی ہے، جبکہ فنڈز میں تخفیف کے باعث نئی اپیل۲۰۲۵ء کے مقابلے میں۲۶؍ فیصد کم ہے۔ یہ رقم مظلوم اقلیت کی کم سے کم جان بچانے والی ضروری امداد فراہم کرے گی۔بعد ازاں بدھ کو یہ اپیل مشترکہ منصوبے کے تحت کی گئی، جس کا مقصد بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزینوں کی ضروریات پوری کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تھائی لینڈ:غیر ملکی جرائم کے خلاف کارروائی،۹۰؍ ممالک کے ویزا فری قیام میں کمی
دریں اثناء اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (UNHCR) کے مطابق،۲۰۲۶ء کے لیے ترجیحی بنیادوں پر تیار کردہ اس منصوبے سے۱۵؍ لاکھ ۶۰؍ ہزار افراد استفادہ کر سکیں گے، جن میں کوکس بازار کے روہنگیا پناہ گزین اور میزبان سماج شامل ہیں۔اس کے علاوہ یہ فنڈ خلیج بنگال کے جزیرہ بھاشن میں موجود روہنگیا کے لیے بھی ہوگا۔ واضح رہے کہ روہنگیا اقلیت میانمار میں شدید ظلم و ستم کے بعد بنگلہ دیش میں پناہ گزیں ہے۔۲۰۱۷ء میں میانمار سے فرار ہونے والے لاکھوں روہنگیا اب تک واپس نہیں جا سکے۔ میانمار میں جاری تنازع کی وجہ سے مزید لوگ فرار ہوئے ہیں، جس کے سبب پہلے سے زیادہ بھرے کیمپوں پر مزید دباؤ بڑھ گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے کی ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ وسائل کی کمی کے باعث مہاجرین کو ہنر سکھانا ضروری ہے تاکہ وہ خود کفیل ہو سکیں۔ روہنگیا خاندان محدود معاشی مواقع اور کم ہوتی امداد سے شدید متاثر ہیں، خاص طور پر خواتین، بچیاں، معذور اور بوڑھے افراد۔
تاہم رخائن ریاست میں جاری تشدد کے باعث فوری واپسی کی امیدیں ختم ہو رہی ہیں۔ بہت سے مہاجرین سمندری راستوں سے خطرناک سفر کرنے پر مجبور ہیں۔۲۰۲۵ء ایسے سفر کے لیے مہلک ترین سال رہا، جب حال ہی میں۲۷۰؍ سے زائد افراد پر مشتمل ایک کشتی الٹنے سے صرف۹؍ افراد بچ پائے۔