Inquilab Logo Happiest Places to Work

کانز ۲۰۲۶ء: ہما قریشی نے خواتین پر مبنی فلموں کے بجٹ پر سوال اٹھایا

Updated: May 20, 2026, 8:58 PM IST | Mumbai

بالی ووڈ اداکارہ ہما قریشی نے کانز فلم فیسٹیول میں خواتین کی قیادت والی فلموں کو درپیش چیلنجز پر کھل کر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج بھی ایسی فلموں کو مرد ستاروں والی فلموں جتنی مالی حمایت اور بڑے بجٹ نہیں ملتے۔ انہوں نے کہا کہ انڈسٹری میں اب بھی یہ تعصب موجود ہے کہ خواتین پر مبنی فلموں کی باکس آفس صلاحیت محدود ہوتی ہے۔ ہُما نے اس بات پر زور دیا کہ ہندوستان کی ثقافت، اساطیر اور متنوع معاشرے میں خواتین کے گرد گھومتی بے شمار اصل کہانیاں موجود ہیں، جنہیں مزید توجہ ملنی چاہیے۔ اداکارہ نے کہا کہ خواتین فنکار مسلسل جدوجہد کے ذریعے اس سوچ کو بدلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

Actress Huma Qureshi Photo: INN
اداکارہ ہما قریشی۔ تصویر: آئی این این

بالی ووڈ اداکارہ ہما قریشی نے کانز فلم فیسٹیول کے دوران خواتین کی قیادت والی فلموں کے حوالے سے فلم انڈسٹری کے رویے پر اہم سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ وقت بدلنے کے باوجود آج بھی خواتین پر مبنی پروجیکٹس کو وہ بجٹ، مارکیٹنگ اور حمایت حاصل نہیں ہوتی جو مرد سپر اسٹارز کی فلموں کو دی جاتی ہے۔ کانز فلم فیسٹیول میں ایک گفتگو کے دوران ہما قریشی نے خواتین کے گرد گھومتی کہانیوں کی اہمیت، ہندوستانی سنیما کی تخلیقی صلاحیت اور انڈسٹری میں موجود دیرینہ تعصبات پر تفصیل سے بات کی۔ اداکارہ نے کہا کہ ہندوستان جیسے متنوع ملک میں خواتین کو مرکز میں رکھ کر اصل اور طاقتور کہانیاں سنانے کی بے پناہ گنجائش موجود ہے، لیکن اس کے باوجود ایسے پروجیکٹس اکثر مالی رکاوٹوں کا شکار رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’لگان‘‘ کے ۲۵؍ سال بعد عامر خان اور آشوتوش گواریکر پھر ساتھ

ہما قریشی سے سوال کیا گیا کہ کیا آج کے ناظرین خواتین پر مبنی سنیما کو پہلے سے زیادہ قبول کر رہے ہیں اور کیا ہندی سنیما میں ایسی مزید فلمیں دیکھنے کو مل سکتی ہیں؟ اس کے جواب میں اداکارہ نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر ریمیک کلچر کے بجائے اصل کہانیوں کو فروغ دینا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے امید ہے کہ ہم صرف ریمیک نہیں بنائیں گے بلکہ زیادہ اصل مواد سامنے لائیں گے۔ ہمارے ملک میں خواتین کے گرد گھومتی کہانیوں کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ ہماری ثقافت، اساطیر اور مختلف علاقوں میں اتنی متنوع داستانیں ہیں کہ ان پر مسلسل توجہ دی جانی چاہیے۔‘‘

اداکارہ نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ انڈسٹری میں آج بھی خواتین پر مبنی فلموں کے بارے میں مالی سطح پر ایک مخصوص ذہنیت پائی جاتی ہے۔ ان کے مطابق، پروڈیوسرز اور اسٹوڈیوز اکثر یہ مانتے ہیں کہ خواتین کی قیادت والی فلمیں مرد سپر اسٹارز والی فلموں جتنی باکس آفس کامیابی حاصل نہیں کر سکتیں، جس کے باعث ان فلموں کو محدود بجٹ دیا جاتا ہے۔ ہما قریشی نے کہا، ’’اگر سچ پوچھیں تو یہ وہ چیز ہے جس کا سامنا میں خود بھی کر رہی ہوں۔ ہمیں وہ بجٹ نہیں ملتا جو مرد فلمی ستاروں کو ملتا ہے۔ ہمیشہ یہ تصور موجود رہتا ہے کہ خواتین کی فلموں کی باکس آفس صلاحیت ایک حد تک ہی ہوتی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: کنال کھیمو کی ’’وائب‘‘ کا اعلان، پریتی زنٹا کی ۸؍ سال بعد پردہ سیمیں پر واپسی

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آج بھی اس قسم کا تعصب انڈسٹری میں موجود ہے؟ تو انہوں نے واضح انداز میں جواب دیا، ’’ہاں، یقیناً۔ شاید اب لوگ اسے کھل کر نہ کہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ ختم ہو گیا ہے۔ یہ اب بھی موجود ہے، اور یہی وہ چیز ہے جس کے ساتھ آپ کو مسلسل جینا اور کام کرنا پڑتا ہے۔‘‘ اداکارہ نے مزید کہا کہ اس ذہنیت کو توڑنے کا واحد راستہ مسلسل کام کرتے رہنا اور مضبوط کرداروں کے ذریعے اپنی موجودگی منوانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف وہ اکیلی نہیں بلکہ پوری انڈسٹری میں کئی خواتین فنکار اس جدوجہد کا حصہ ہیں، جو نہ صرف اپنے لیے بلکہ آنے والی نسلوں کیلئے بھی حالات بدلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ہما قریشی نے کہا، ’’بہت سی خواتین اس وقت مسلسل حدود کو آگے بڑھا رہی ہیں۔ وہ صرف اپنے کریئر کیلئے نہیں بلکہ ان تمام خواتین کیلئے کام کر رہی ہیں جو مستقبل میں اس انڈسٹری کا حصہ بنیں گی۔‘‘ کام کے محاذ پر ہما قریشی جلد ہی گیتو موہنداس کی ہدایتکاری میں بننے والی ایکشن تھرلر فلم ’’ٹاکسک: اے فیری ٹیل فار گرون اپس‘‘ میں نظر آئیں گی۔ اس فلم میں وہ ’’الزبتھ‘‘ نامی ایک پیچیدہ اور پراسرار کردار ادا کر رہی ہیں۔ فلم میں جنوبی ہند کے سپر اسٹار یش مرکزی کردار میں موجود ہیں، جبکہ نینتھارا، کیارا اڈوانی، تارا ستاریا، رکمنی وسنت اور سدیو نائر بھی اہم کرداروں میں شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK