Updated: April 08, 2026, 5:09 PM IST
| Tehran/Washington/Islamabad
پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے جنگ بندی کو ”دانشمندانہ اقدام“ قرار دیتے ہوئے اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا اور دونوں ممالک کے لیڈران کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے دونوں اطراف کے وفود کو ۱۰ اپریل کو مزید مذاکرات کیلئے اسلام آباد مدعو کیا تاکہ حتمی معاہدے تک پہنچا جاسکے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدے کا بین الاقوامی لیڈران کی جانب سے خیر مقدم کیا جارہا ہے۔ کئی ممالک نے دو ہفتوں کی اس عارضی صلح کی حمایت کرتے ہوئے فریقین سے تحمل کی اپیل کی ہے اور دیرپا سفارتی حل کی جانب پیش رفت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ اور ایران نے بدھ کے دن صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی اعلان کردہ ڈیڈ لائن سے محض ایک گھنٹہ قبل دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس سے دنیا بھر میں راحت کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس معاہدے کے تحت، تہران نے عارضی طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے پر اتفاق کیا ہے، جس سے بحران کی شکار عالمی معیشت کے حوالے سے خدشات میں کمی آئی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے سربراہ انتونیو غطریس نے تمام فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ”مستقل اور جامع امن کی راہ ہموار کریں۔“ کئی ممالک نے زور دیا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ جنگ کو روکنے کیلئے ابھی بہت کام باقی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان نے مغربی ایشیا میں جنگ بندی کا خیر مقدم کیا، مستقل امن کی اپیل
ترکی
انقرہنے اس پیش رفت کا خیر مقدم کیا۔ ترک وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ”عارضی جنگ بندی کا زمینی سطح پر مکمل نفاذ ہونا چاہئے، امید ہے کہ تمام فریقین طے شدہ معاہدے کی پاسداری کریں گے۔“ ترکی نے زور دیا کہ پائیدار امن کی راہ صرف بات چیت، سفارت کاری اور باہمی اعتماد کے ذریعے ہی ہموار کی جا سکتی ہے۔ ترکی نے اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کی کامیابی کو یقینی بنانے کیلئے تمام ضروری تعاون فراہم کرنے کا عہد کیا۔ وزارت نے اس پیش رفت میں پاکستان کے کردار پر اسے مبارکباد دی۔
پاکستان
پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس پیش رفت کو ”دانشمندانہ اقدام“ قرار دیتے ہوئے اس کا خیر مقدم کیا اور دونوں ممالک کے لیڈران کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے دونوں اطراف کے وفود کو ۱۰ اپریل کو مزید مذاکرات کیلئے اسلام آباد مدعو کیا تاکہ حتمی معاہدے تک پہنچا جاسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”میں اس دانشمندانہ اقدام کا پرتپاک خیر مقدم کرتا ہوں اور دونوں ممالک کی قیادت کا شکریہ ادا کرتا ہوں... میں ان کے وفود کو اسلام آباد آنے کی دعوت دیتا ہوں تاکہ تمام تنازعات کے تصفیے کیلئے حتمی معاہدے پر مزید بات چیت کی جاسکے۔“
روس
روس کی سلامتی کونسل کے ڈپٹی چیئرمین دمتری میدویدیف نے بدھ کو بیان دیا کہ امریکہ-ایران جنگ بندی نے ثابت کیا کہ عقلِ سلیم کی جیت ہوئی ہے۔ تاہم انہوں نے متنبہ کیا کہ ”تیل اب سستا نہیں ملے گا۔“
یہ بھی پڑھئے: امریکہ ایران جنگ بندی کے بعد تیل کی قیمتوں میں گراوٹ
چین
چین نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ بیجنگ نے بھی لڑائی روکنے کیلئے ”کوششیں“ کیں۔ دارالحکومت میں معمول کی نیوز کانفرنس کے دوران چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے پاکستان کی جانب سے کی گئی کوششوں کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ چین ”خلیج اور مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں طویل مدتی استحکام کیلئے جنگ بندی اور سیاسی ذرائع سے تنازعہ حل کرنے کا حامی ہے اور بیجنگ نے اس سلسلے میں اپنی کوششیں کیں۔“
ملائیشیا
ملائیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم نے جنگ بندی کو ”مثبت پیش رفت“ قرار دیتے ہوئے اس کا خیر مقدم کیا اور ایران کے تجویز کردہ ۱۰ نکاتی منصوبے کا حوالہ دیا جسے واشنگٹن نے بھی پسند کیا ہے۔ انہوں نے ایکس پر لکھا: ”یہ تجویز نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کیلئے امن و استحکام کی بحالی کیلئے نیک شگون ہے۔“ ابراہیم نے زور دیا کہ کسی بھی مستقل حل کیلئے ایران کے ساتھ عراق، لبنان اور یمن میں استحکام اور غزہ میں انسانی بحران کا خاتمہ ضروری ہے۔ انہوں نے ”مسلسل اور جرات مندانہ سفارت کاری“ پر پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف کی تعریف کی اور تمام فریقین کو ساتھ لے کر چلنے میں اسلام آباد کے کردار کو اجاگر کیا۔
جاپان
جاپان کے چیف کیبنٹ سیکریٹری مینورو کیہارا نے جنگ بندی کو ”مثبت اقدام“ قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ کشیدگی میں معنی خیز کمی اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ ٹوکیو نے امید ظاہر کی کہ یہ عارضی صلح، حتمی اور دیرپا معاہدے کا راستہ ہموار کرے گی۔
یہ بھی پڑھئے: اسلام آباد میں جمعہ کوامریکہ کے ساتھ ایران مذاکرات کا آغاز کرے گا
آسٹریلیا
آسٹریلیا نے بھی امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان معاہدے کا خیر مقدم کیا۔ وزیرِ اعظم انتھونی البانی نے بدھ کو بیان دیا کہ یہ مشرقِ وسطیٰ میں تنازع کے حل کیلئے مذاکرات کا بہتر موقع فراہم کرتا ہے۔ البانی نے مزید کہا: ”ہم واضح کرچکے ہیں کہ جنگ جتنی طویل ہوگی، عالمی معیشت پر اس کے اثرات اتنے ہی سنگین ہوں گے اور انسانی جانوں کا ضیاع بھی بڑھے گا۔“ کینبرا نے مزید کہا کہ وہ بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اہم بحری راستے کو دوبارہ کھولنے اور کمزور آبادیوں تک ضروری اشیاء کی ترسیل یقینی بنانے کیلئے سفارتی کوششوں کی حمایت کر رہا ہے۔
نیوزی لینڈ
نیوزی لینڈ کے وزیرِ خارجہ ونسٹن پیٹرز نے بدھ کو ایران اور امریکہ کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی کے معاہدے کا خیر مقدم کیا، انہوں نے زور دیا کہ دیرپا حل کیلئے ابھی بہت کام باقی ہے۔ انہوں نے ایکس پر لکھا: ”اگرچہ یہ خبر حوصلہ افزاء ہے، لیکن مستقل جنگ بندی کیلئے آنے والے دنوں میں اہم کام کرنا باقی ہے۔“
عمان
عمان نے اس اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے تنازع کے مستقل حل کیلئے کوششیں تیز کرنے کا مطالبہ کیا۔ عمانی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں ثالثی کی کوششوں، خاص طور پر پاکستان کی قیادت میں ہونے والی کوششوں کی تعریف کی۔ وزارت نے جنگ بندی کو بنیاد بنا کر ”بحران کی بنیادی وجوہات“ کو حل کرنے اور خطے میں دشمنی کے مستقل خاتمے کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کے جنگ بندی کے اعلان کے بعد ایران نے اسے اپنی فتح قرار دیا
متحدہ عرب امارات
متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بیان دیا کہ ان کا ملک امریکہ اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی صلح کے بعد ”جنگ سے فاتح بن کر نکلا“ ہے۔ صدارتی مشیر انور قرقاش نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا: ”متحدہ عرب امارات اس جنگ سے فاتح بن کر نکلا ہے جس سے بچنے کی ہم نے خلوصِ دل سے کوشش کی تھی۔ آج ہم زیادہ وسائل، گہری سمجھ بوجھ اور مستقبل پر اثر انداز ہونے کی بہتر صلاحیت کے ساتھ، پیچیدہ علاقائی منظر نامے میں آگے بڑھنے کیلئے تیار ہیں۔“
مصر
مصر نے اس پیش رفت کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے مذاکرات کو آگے بڑھانے کا ”شاندار موقع“ قرار دیا۔ وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ کی جانب سے فوجی کارروائیوں کی معطلی اور ایران کا جواب ایک بڑا موقع ہے جسے مذاکرات، سفارت کاری اور تعمیری مکالمے کے دروازے کھولنے کیلئے بروئے کار لایا جانا چاہئے۔ قاہرہ نے خلیجی تعاون کونسل کے ممالک اور اردن کی ”خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے احترام“ کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
عراق
عراق نے جنگ بندی کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیش رفت خطے میں ”سلامتی اور استحکام کو مضبوط بنانے“ میں مدد دے گی۔ عراقی خبر رساں ایجنسی (آئی این اے) کے مطابق وزارتِ خارجہ نے اسے کشیدگی کو کم کرنے اور امن کے امکانات کو بہتر بنانے کی جانب اہم قدم قرار دیا۔ بغداد نے ہر اس علاقائی اور بین الاقوامی کوشش کی حمایت کا اعادہ کیا جو بحرانوں پر قابو پانے اور بات چیت کو ترجیح دینے میں مددگار ہو۔
یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ کے اثرات: امریکہ کے میزائل ذخائر میں کمی سنگین چیلنج
سعودی عرب
سعودی عرب نے جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے دو ہفتوں کی کشیدگی میں کمی کی حمایت کی اور اس بات پر بھی زور دیا کہ آبنائے ہرمز کو بغیر کسی پابندی کے جہاز رانی کیلئے کھلا رکھنا اشد ضروری ہے۔
جرمنی
جرمن چانسلر فریڈرک میرز نے بدھ کو اس اعلان کا خیر مقدم کیا اور ایکس پر لکھا: ”میں گزشتہ رات امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی دو ہفتوں کی جنگ بندی کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ ہم ثالثی کیلئے پاکستان کے شکر گزار ہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ اب مقصد ”جنگ کے مستقل خاتمے“ کیلئے مذاکرات کرنا ہے اور اس معاملے پر وہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران: سیکڑوں امریکی فوجی زخمی، اسرائیلی اخراجات میں اضافہ، جنگی دباؤ بڑھ گیا
برطانیہ
برطانوی وزیرِ اعظم کیر اسٹارمر نے اس جنگ بندی کے معاہدے کا خیر مقدم کیا ”جس سے خطے اور دنیا کو راحت کے لمحات میسر ہوں گے“۔ اسٹارمر کے دفتر سے جاری کردہ بیان میں انہوں نے مزید کہا کہ ”ہمیں اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس جنگ بندی کو برقرار رکھنے، اسے مستقل معاہدے میں بدلنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کیلئے ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے۔“
فرانس
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس معاہدے کو ”بہت اچھی بات“ قرار دیا۔ دفاعی اور سیکوریٹی حکام کے اجلاس کے آغاز پر میکرون نے کہا کہ ”ہم توقع کرتے ہیں کہ آنے والے دنوں اور ہفتوں میں پورے خطے میں اس کا مکمل احترام کیا جائے گا تاکہ مذاکرات آگے بڑھ سکیں۔ ہماری خواہش ہے کہ اس جنگ بندی میں لبنان کو بھی مکمل طور پر شامل کیا جائے۔“
اسپین
اسپین کے وزیرِ خارجہ نے بدھ کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تہذیب کو ختم کرنے کی دھمکی کے بعد دنیا تباہی کے ”خطرناک حد تک قریب“ پہنچ گئی تھی۔ ہوزے مینوئل البارس نے ریڈیو اسٹیشن آر این ای کو بتایا کہ ٹرمپ کا الٹی میٹم ”انسانیت کیلئے قطعی طور پر ناقابلِ قبول“ تھا اور یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ آیا تنازع مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”جب ایک فوجی سپر پاور کا لیڈر ایسی دھمکیاں دیتا ہے تو میں انہیں سنجیدگی سے لیتا ہوں۔“
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ پر بمباری، ۱۰؍ فلسطینی جاں بحق
اسرائیل
اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو نے صدر ٹرمپ کے حملے معطل کرنے کے فیصلے کی حمایت تو کی لیکن ساتھ ہی کچھ شرائط بھی منسلک کر دیں۔ ایکس پر پوسٹ کئے گئے بیان میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل اس اقدام کی حمایت صرف اسی صورت میں کرے گا جب ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کو کھولے گا اور امریکہ، اسرائیل اور خطے کے ممالک پر حملے روک دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل امریکی کوششوں کی حمایت کرتا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ ایران مستقبل میں ایٹمی، میزائل یا ”دہشت گردی کا خطرہ“ نہ رہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ واشنگٹن نے آنے والے مذاکرات میں ان مقاصد کیلئے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ تاہم، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ دو ہفتوں کی جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ہے۔