Inquilab Logo Happiest Places to Work

کنیڈاکرکٹ میں میچ فکسنگ کے الزامات، آئی سی سی نے بدعنوانی کی تحقیقات شروع کر دی

Updated: April 17, 2026, 8:41 PM IST | Dubai

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے اینٹی کرپشن یونٹ (اے سی یو) نے کنیڈا کرکٹ سے متعلق مبینہ بدعنوانی کے کئی معاملات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جن میں حالیہ آئی سی سی مینز ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ کا ایک میچ بھی شامل ہے۔

Canadian Cricketer.Photo:INN
کنیڈین کرکٹر۔ تصویر:آئی این این

 انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے اینٹی کرپشن یونٹ (اے سی یو) نے کنیڈا کرکٹ سے متعلق مبینہ بدعنوانی کے کئی معاملات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، جن میں حالیہ آئی سی سی مینز ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ کا ایک میچ بھی شامل ہے۔ کرک بز کے مطابق یہ تحقیقات بین الاقوامی اور گھریلو کرکٹ دونوں میں آئی سی سی کے انسدادِ بدعنوانی ضابطے کی ممکنہ خلاف ورزیوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔
یہ الزامات کنیڈا کی ایک تحقیقی ڈاکیومنٹری  کرپشن، کرائم اینڈ کرکٹ  کے ذریعے سامنے آئے، جسے ففتھ اسٹیٹ نے تیار کیا ہے۔ اس میں گورننس، ٹیم سلیکشن اور میچ سے متعلق سرگرمیوں پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
ڈاکیومنٹری کے مطابق تحقیقات کا ایک حصہ ٹی۲۰؍ ورلڈ کپ میں کنیڈا اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلے گئے میچ پر مرکوز ہے۔ خاص طور پر کپتان دلپریت بجوا کے ایک اوور کو جانچ کے دائرے میں رکھا گیا ہے، جس میں انہوں نے ابتدا نو بال سے کی، پھر لیگ سائیڈ پر وائیڈ گیند کروائی اور اس اوور میں ۱۵؍ رنز دیے۔ اننگز کے دوران ابتدائی مرحلے میں فاسٹ بولنگ سے اسپن میں تبدیلی بھی تفتیش کا حصہ ہے۔
دوسری جانب ایک آڈیو ریکارڈنگ بھی زیرِ تفتیش ہے جس میں سابق کوچ خرم چوہان نے دعویٰ کیا کہ بورڈ حکام کی جانب سے ٹیم سلیکشن پر دباؤ ڈالا گیا۔ اس ریکارڈنگ میں میچ فکسنگ کی کوششوں کے الزامات بھی شامل ہیں۔ اسی طرح کے دعوے ٹیم کے انتخاب کے حوالے سے سابق کوچ پوبودو داسانائیکے نے بھی کیے ہیں، جنہوں نے غلط طریقے سے برطرف کیے جانے پر بورڈ کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:لیونل میسی نے یو ای کورنیلا کی ملکیت حاصل کی


یہ پیش رفت کرکٹ کنیڈا کے اندر انتظامی عدم استحکام کے دوران سامنے آئی ہے، جس میں قیادت کی تبدیلی اور کھلاڑیوں کی ادائیگیوں میں تاخیر شامل ہے۔ جبکہ منظم جرائم سے منسلک مخصوص الزامات کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ وہ آئی سی سی کے اینٹی کرپشن یونٹ  کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ماتحت آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:’’ٹاپ گن ۳‘‘ کی تصدیق، ٹام کروز ایک بار پھر’مَیورک مچل‘ کے کردار میں


آئی سی سی کے انٹیگریٹی یونٹ کے عبوری جنرل منیجر اینڈریو ایف گریو نے کہاکہ ’’آئی سی سی کا اینٹی کرپشن یونٹ تین بنیادی کاموں پر عمل پیرا ہے: انٹیلی جنس، روک تھام و تعلیم، اور تحقیقات۔ یہ افعال بیک وقت کام کرتے ہیں اور وہاں لاگو کیے جاتے ہیں جہاں یہ یقین کرنے کی معتبر بنیاد موجود ہو کہ کھیل کی ساکھ خطرے میں پڑ سکتی ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہاکہ اے سی یو، سی بی سی کی جانب سے نشر کیے گئے پروگرام سے آگاہ ہے۔ اپنے طے شدہ طریقہ کار کے مطابق، اے سی یو اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ اس میں شامل کسی بھی الزام کی نوعیت پر تبصرہ کر سکے۔‘‘ آئی سی سی ممبران کے حوالے سے گورننس کے معاملات پر آئی سی سی غور کرتی ہے، جہاں وہ اس کے دائرہ اختیار میں آتے ہوں، اور یہ کارروائی آئی سی سی کے معیاری آئینی عمل کے مطابق کی جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK