ایک اندازے کے مطابق گرمیوں میں ونیلا اور چاکلیٹ فلیور کی مانگ زیادہ ہوتی ہے۔ شوگر فری آئس کریم کی مانگ بڑھ رہی ہے۔
EPAPER
Updated: May 04, 2025, 9:45 AM IST | New Delhi
ایک اندازے کے مطابق گرمیوں میں ونیلا اور چاکلیٹ فلیور کی مانگ زیادہ ہوتی ہے۔ شوگر فری آئس کریم کی مانگ بڑھ رہی ہے۔
گرمی اپنے شباب پر ہے اور اس کے ساتھ ہی آئس کریم، چھاچھ، لسی اور کولڈ ڈرنکس کی مانگ بڑھنے لگی ہے۔ ایک اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ یہ صنعت نہ صرف۴۰۔ ۳۵؍ کی شرح سے بڑھ رہی ہے۔ درحقیقت ایک دہائی میں اس کی مانگ میں ۴؍ گنا سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
آپ کو بتاتے چلیں کہ گرمیوں میں ونیلا اور چاکلیٹ فلیور کی مانگ زیادہ ہوتی ہے۔ شوگر فری آئس کریم کی مانگ بڑھ رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آرگانک پر مبنی آئس کریم کی مانگ بھی بڑھ رہی ہے۔ ویگن آئس کریم کی مانگ بھی بڑھ رہی ہے۔ ۲۰۳۰ء تک آئس کریم انڈسٹری ۷۵؍ ہزار کروڑ روپے کی صنعت ہوگی۔ آئس کریم کی پیداوار میں ۲۰۔ ۱۵؍ فیصد اضافہ کرنے کا ہدف ہے۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ۲۰۲۴ء میں آئس کریم انڈسٹری کی مالیت۲۶۸؍ ارب روپے تھی۔
مارکیٹ کے ماہرین کا خیال ہے کہ آئس کریم انڈسٹری کے اگلے۳؍ برسوں میں ۴۵؍ ہزار کروڑ روپے تک پہنچنے کی امید ہے جبکہ اگلے۸ ؍ برسوں میں انڈسٹری۹۰؍ہزار کروڑ روپے تک بڑھ سکتی ہے۔
شیتل آئس کریم کے ڈائریکٹر یش بھووا کا کہنا ہے کہ موسم گرما کےآغاز کی وجہ سے اس سال آئس کریم کی بڑھتی ہوئی مانگ میں ۲۰؍ فیصد اضافے کا امکان ہے۔ اس موسم گرما میں، روایتی ہندوستانی ذائقے میں قلفی کی مانگ آئس کریم سے زیادہ ہے۔ فوری کامرس اور آن لائن ڈیلیوری پارٹنرس کی وجہ سے فیملی پیک آئس کریم اور قلفی کی بھی اچھی مانگ دیکھی جا رہی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کمپنی کی آمدن کا۶۰؍ فیصد گرمیوں کے موسم میں آتا ہے۔ کھانے پر مبنی ذائقوں کی مانگ کافی اچھی جا رہی ہے۔ دیہی علاقوں میں جامن اور زعفران جیسے ذائقوں کی مانگ ہے۔ ہوکو کمپنی کے ایم ڈی انکت چونا کا کہنا ہے کہ آئس کریم ایک ایسی صنعت ہے جو تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ آئس کریم ایک ایسی کیٹیگری ہے جہاں آپ کافی جدت طرازی سے کام لےسکتے ہیں کیونکہ اختراع پر زیادہ لاگت نہیں آتی۔ ہم نے اصلی اطالوی پستے کی آئس کریم کو ایجاد کیا ہے جس کی بھی اچھی مانگ ہے۔