ممبئی کے علاوہ نیپال بارڈر اورماریشس میں بھی تراویح پڑھا چکے ہیں ۔ ان کے صاحبزادے بھی حافظ ہیں جوان کےشاگرد بھی ہیں اورتراویح میں ان کی سماعت کررہے ہیں۔
EPAPER
Updated: March 13, 2026, 11:57 AM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
ممبئی کے علاوہ نیپال بارڈر اورماریشس میں بھی تراویح پڑھا چکے ہیں ۔ ان کے صاحبزادے بھی حافظ ہیں جوان کےشاگرد بھی ہیں اورتراویح میں ان کی سماعت کررہے ہیں۔
قاری شمس تبریز نظامی ۳۲؍ سال سے تراویح پڑھارہے ہیں۔ آپ دکنی مسجد (دوٹانکی) میں ۱۴؍ سال سے خطیب وامام ہیں اور یہاں ۹؍ سال سے تراویح پڑھا رہے ہیں۔ اس سے قبل ممبئی کے مختلف علاقوں اندھیری فاروقیہ مسجد، طیبہ مسجد ویشالی نگر ، کرلا گارڈن ، ثناء اللہ کمپاؤنڈ ، مدن پورہ سنی بڑی مسجد اور ایک سال ماریشس میں بھی پڑھایا۔ آپ سنّی دعوت اسلامی کے مرکزی ادارہ جامعہ غوثیہ نجم العلوم چارنل ڈونگری میں۲۰۰۴ء سے تجوید وقرأت کے سینئر استاد ہیں۔ اُس سے قبل کرلا ڈپو کے پاس واقع جامعہ غوثیہ ضیاء القرآن میں ۷؍ برس تک تجوید وقرأت کے استاد رہے۔
یہ بھی پڑھئے: گیس سلنڈرکی قلت سے الیکٹرک چولہوں کی مانگ میں اضافہ
قاری شمس تبریز نے معروف دینی ادارہ دارالعلوم تنویر الاسلام امرڈوبھا میں حفظ وقرأت اور درس نظامی کی ابتدائی تین جماعتوں تک تعلیم حاصل کی ۔دارالعلوم ہٰذا میں قاری عبدالکریم کے پاس حفظ کیا، وہ اِس وقت دارالعلوم علیمیہ جمداشاہی میں ہیں۔ تجوید وقرأت قاری غلام محی الدین سے سیکھی۔ اس کے بعد سے درس وتدریس اور امامت وخطابت کی ذمہ داری ادا کررہے ہیں۔ جری مری میں ۷؍سال، گوریگاؤں میں تین سال اور ورلی میں ۳؍ سال امام وخطیب رہ چکے ہیں۔
تکمیل حفظ کے بعد پہلی تراویح ۱۴؍سال کی عمر کُلہی بازار سوناؤلی بارڈر (نیپال) کے پاس جامع مسجد میں پڑھائی تھی۔ دوران طالب علمی ایک نشست میں قرآن کریم سنایا تھا۔آپ کا آبائی وطن قصبہ مہنداول ضلع سنت کبیر نگر (یوپی)ہے۔
یہ بھی پڑھئے: شہر و مضافات میں ہیٹ اسٹروک کامقابلہ کرنےکیلئے محکمہ صحت سرگرم
تراویح کےلئے پہلی مرتبہ ممبئی آمد کے تعلق سے قاری شمس تبریز نے اپنا سبق آموز واقعہ سنایا۔انہوں نےبتایا کہ اندھیری کی فاروقیہ مسجد (بکرے والی چال) کے خطیب و امام مولانا ماشاء اللہ نظامی نے تراویح پڑھانے کے لئے کسی اچھے حافظ کی اساتذہ سے فرمائش کی تو اساتذہ نے میرا انتخاب کیا اورمجھ سے کہا کہ آپ کو ممبئی جاکر تراویح پڑھانی ہے۔ اس وقت میری پس وپیش کی کیفیت تھی کیونکہ مجھے معلوم ہوا کہ ممبئی میں نماز مائیک پر ہوتی ہے اور کثیر تعداد میں مصلیان ہوتے ہیں۔ چنانچہ میں نے اس کے لئے یہ تیاری کی کہ ایک دن میںپورا قرآن کریم اساتذہ کو سنایا ، اس کے بعد ممبئی آیا اور اطمینان سے تراویح سنائی ۔ اُس وقت کی گئی تیاری اوربلا ناغہ تلاوت کے معمول کے سبب آج ۴۸؍سال کی عمر میںبھی میری کیفیت یہ ہے کہ اگر مجھ سے یہ کہا جائے کہ پوراقرآن ایک نشست میںسنائیں تو ان شاء اللہ پیچھے نہیں ہٹو ں گا ۔
قاری صاحب کے صاحبزادے حافظ محمد حسان ۸؍ویں جماعت کے طالب علم ہیں اور ایک سال قبل اپنے والد کے پاس حفظ مکمل کیا ہے، گزشتہ سال راج بھون میں سماعت کی تھی، امسال دکنی مسجد میں والد صاحب کے پیچھے سماعت کررہے ہیں۔ حافظ محمد حسّان کی یادداشت اچھی ہے مگر کمسنی کے سبب تراویح کی امامت نہیں کررہے ہیں۔آپ کے خانوادے میںکئی حفاظ اور علماء ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ٹی ایم سی کے صدر دفتر میں نہا کر کارپوریٹر کا پانی کی قلت کیخلاف احتجاج
قاری شمس تبریز سے یہ پوچھنے پر کہ ۲۹؍ سالہ طویل تدریسی تجربے کی روشنی میںنئے حفاظ کو آپ کیا مشورہ دیں گے تو انہوں نےکہاکہ میرے ذہن میں بہت آسان نسخہ ہے،وہ میں اپنے شاگردوں کو بھی بتاتا ہوں کہ حفاظ کو زیادہ زور دینے ، پریشان ہونے یا اضافی وقت دینے کی ضرورت نہیں ہے، چلتے پھرتے، سفر و حضرمیں، سنت و نوافل میں محض ایک پارہ کی تلاوت کا لازمی معمول بنالیں، اگرکہیں مشابہت لگ جائے تو موبائل ایپ پر دیکھ لیجئے۔اس سے حفاظ بلا کسی پریشانی اورذہنی ذباؤ کے بآسانی تراویح پڑھا سکیں گے اوریہ عمل تاحیات قرآ ن کریم یاد رکھنے کی ضمانت ہوگا اور اگر تلاوت کا معمول تر ک کردیا تو قرآن سینے سے نکل جائے گا (خدانخواستہ )خواہ ایک سے زائدمرتبہ ایک نشست میںہی کیوں نہ سنایا ہو۔