• Tue, 15 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اے آئی انسانوں کے کنٹرول میں نہ رہے تو اس کی ترقی بے معنی ہے: مائیکروسافٹ سربراہ نڈیلا

Updated: September 15, 2026, 10:33 AM IST | Washington

مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی پر عالمی بحث کے درمیان ستیہ نڈیلہ نے ’سوچ سمجھ کر رفتار طے کرنے‘ کی حمایت کردی؛ آزاد حفاظتی جائزہ کاروں، اوپن سورس ماڈلز اور اے آئی کے فوائد کو وسیع پیمانے پر پھیلانے پر زور۔

Satya Nadella. Picture: INN
ستیہ نڈیلا۔ تصویر: آئی این این

مائیکروسافٹ کے چیئرمین اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ستیہ نڈیلا نے مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے بجائے محتاط اور مرحلہ وار پیش رفت کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سپر انٹیلی جنس کی کسی بھی کوشش کی بنیاد اس اصول پر ہونی چاہیے کہ اے آئی انسانیت کے لیے فائدہ مند ہو اور انسانی کنٹرول میں رہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر اے آئی انسانوں کی مدد نہ کرے اور اس پر انسانی نگرانی برقرار نہ رہے تو ایسی ٹیکنالوجی کی دوڑ کا کوئی جواز نہیں۔

نڈیلا نے کہا کہ وہ جدید اےآئی کی ترقی میں ’’deliberate pacing‘‘ یعنی سوچ سمجھ کر رفتار طے کرنے کی حمایت کرتے ہیں تاکہ ٹیکنالوجی کو انسانی مقاصد سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات پہلے سے شامل کیے جاسکیں۔ انہوں نے اےآئی نظاموں کی نگرانی کے لیے ’’embedded evaluators‘‘ یعنی آزاد جائزہ کاروں کی تجاویز کا بھی خیرمقدم کیا، جو اےآئی لیبارٹریوں کے اندر رہ کر جدید ماڈلز کے حفاظتی پہلوؤں کا جائزہ لے سکیں۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ: اسپتالوں میں قبل ازوقت پیدائش کا بحران، انکیوبیٹر کم پڑگئے

مائیکروسافٹ سربراہ نے یہ مؤقف ایسے وقت میں اختیار کیا ہے جب اے آئی صنعت میں جدید اور زیادہ خودکار نظام تیار کرنے کی رفتار پر بحث تیز ہوگئی ہے۔ Anthropic کے سربراہ ڈاریو اموڈی نے حال ہی میں اےآئی کی ترقی کی رفتار کم کرنے اور آزاد حفاظتی جائزہ کاروں کو شامل کرنے کی اپیل کی تھی، جس کی OpenAI کے سربراہ سیم آلٹ مین اور دیگر ٹیکنالوجی رہنماؤں نے بھی حمایت کی۔ نڈیلہ کی تازہ پوزیشن اسی وسیع تر بحث کا حصہ ہے۔

تاہم نڈیلہ نے اے آئی کی ترقی روکنے کی بات نہیں کی۔ ان کا زور اس بات پر ہے کہ ترقی کے ساتھ ساتھ حفاظتی نظام بھی مضبوط ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اےائی کے فوائد چند کمپنیوں یا ممالک تک محدود نہیں رہنے چاہئیں بلکہ انہیں مختلف ملکوں، برادریوں اور کمپنیوں تک وسیع پیمانے پر پہنچنا چاہیے۔ ان کے مطابق مستقبل کا مضبوط اے آئی ماحولیاتی نظام ایسا ہونا چاہیے جس میں بند اور اوپن سورس، دونوں طرح کے ماڈلز کو ترقی کا موقع ملے۔

نڈیلہ نے کمپنیوں کی ڈیٹا اور اے آئی پر خودمختاری کو بھی اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق اداروں کو اپنے ’’منفرد اور غیر اعلانیہ علم‘‘ پر مکمل اختیار برقرار رکھنا چاہیے اور ایسا نظام بنانے کے قابل ہونا چاہیے جس کے ذریعے وہ مسلسل سیکھنے والے اپنے اے آئی نظام تیار کرسکیں، بجائے اس کے کہ وہ کسی ایک اے آئی ماڈل فراہم کرنے والی کمپنی پر مکمل انحصار کرنے لگیں۔

انہوں نے اے آئی کی حکمرانی کو بھی چند بڑی کمپنیوں تک محدود رکھنے کی مخالفت کی۔ نڈیلا کے مطابق جدید اے آئی کے حوالے سے فیصلہ سازی میں مختلف ممالک، شعبوں اور تعلیمی اداروں سمیت وسیع تر نمائندگی ہونی چاہیے، کیونکہ اس ٹیکنالوجی کے اثرات صرف ٹیکنالوجی کمپنیوں تک محدود نہیں رہیں گے۔

یہ بھی پڑھئے:رمیش نے شی جن پنگ سے ملاقات کے بعد مودی کی چین پالیسی پر سوال اٹھائے

مائیکروسافٹ نے اس سلسلے میں اپنے پہلے فریق کے اے آئی ماڈلز کے لیے ایک نئے کوڈ آف کنڈیکٹ ( Code of Conduct )کا اعلان بھی کیا ہے، جسے ۱۴؍ ستمبر کو عوامی مشاورت کے لیے جاری کیا گیا۔ مائیکروسافٹ اے آئی کے سربراہ مصطفیٰ سلیمان کے مطابق مجوزہ ضابطے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ اے آئی کو انسانی اصلاح یا بند کیے جانے کے خلاف مزاحمت نہیں کرنی چاہیے اور اسے انسانوں کے لیے قابلِ فہم انداز میں کام کرنا چاہیے۔ کمپنی نے اس ضابطے پر ۶؍ ہفتوں تک عوامی رائے لینے کا اعلان کیا ہے۔

سلیمان نے اے آئی  کی حفاظت کے لیے فوری صنعتی تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ انہوں نے جولائی میں OpenAI کے تقریباً ۷۰۰؍ ایجنٹس کی جانب سے اوپن سورس پلیٹ فارم  ہگنگ فیس (Hugging Face) پر کیے گئے ہیکنگ واقعے کو اے آئی حفاظتی خطرات کے حوالے سے ایک انتباہ قرار دیا۔ ان کے مطابق اب اے آئی کمپنیوں کے درمیان اس بات پر سنجیدہ تعاون ضروری ہے کہ طاقتور اے آئی نظاموں پر انسانی کنٹرول کیسے یقینی بنایا جائے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اے آئی کی رفتار کم کرنے کے مطالبات پر زیادہ محتاط یا مخالف مؤقف اختیار کیا ہے اور امریکہ کی چین پر تکنیکی برتری برقرار رکھنے کو اہم قرار دیا ہے۔ اس طرح اے آئی صنعت میں اس وقت ایک بنیادی سوال سامنے ہے: کیا جدید ترین نظام تیار کرنے کی دوڑ جاری رکھتے ہوئے حفاظتی اقدامات بھی اسی رفتار سے بڑھائے جاسکتے ہیں، یا اے آئی کی ترقی کی رفتار ہی کو کچھ حد تک کم کرنا ہوگا؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK