• Tue, 03 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

چین نے سرنگ کھودنے والی مشینوں کی فراہمی روکی تو ہندوستان خود تیار کرے گا: پیوش گوئل

Updated: November 03, 2026, 9:04 PM IST | New Delhi

مرکزی وزیر نے واضح کیا کہ ہندوستان اہم صنعتی ٹیکنالوجی اور مشینری کے لیے بیرونی ممالک پر مستقل انحصار نہیں کرنا چاہتا، بلکہ ملک میں اپنی پیداواری صلاحیت اور تکنیکی مہارت کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔

Piyush Goyal.Photo:INN
پیوش گوئل۔ تصویر:آئی این این

مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے کہا ہے کہ اگر چین نے ہندوستان کو سرنگیں کھودنے والی جدید مشینوں (Tunnel Boring Machines) کی فراہمی محدود یا بند کی تو ہندوستان خود یہ مشینیں تیار کرے گا اور کسی بھی صورت میں ملک کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہندوستان اہم صنعتی ٹیکنالوجی اور مشینری کے لیے بیرونی ممالک پر مستقل انحصار نہیں کرنا چاہتا، بلکہ ملک میں اپنی پیداواری صلاحیت اور تکنیکی مہارت کو فروغ دینے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔
پیوش گوئل نے یہ بات منگل کو دہلی کے کیروڑی مل کالج میں منعقدہ ’ینگ لیڈرس ڈسکورس فورم‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب چین نے سرنگ کھودنے والی مشینوں اور ان سے متعلق بعض آلات کی برآمد پر نئے کنٹرول نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ گوئل نے کہا کہ ہندوستان کسی ملک کے ساتھ اپنے تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتا اور چین کے ساتھ بھی تعلقات بہتر ہیں، تاہم اگر کسی ملک کی جانب سے ضروری مشینری کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا کی جاتی ہے تو ہندوستان اس کا متبادل خود تیار کرنے کی صلاحیت پیدا کرے گا۔ ان کے مطابق ملک اپنی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو کسی بیرونی پابندی یا سپلائی میں رکاوٹ کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتا۔ 
 چین نے ۱۹؍ اکتوبر کو سرنگ کھودنے والی مشینوں اور متعلقہ خصوصی آلات کی برآمد کے لیے نئے لائسنسنگ ضابطوں کا اعلان کیا تھا۔ یہ ضابطے ۱۸؍ نومبر ۲۰۲۶ء سے نافذ ہونے والے ہیں۔ ان کے تحت مخصوص مشینوں اور آلات کو دوسرے ممالک بھیجنے کے لیے چینی حکام سے اجازت حاصل کرنا ضروری ہوگا۔ یہ اقدام تمام مشینوں کی برآمد پر مکمل پابندی نہیں ہے، لیکن اس سے ان کی فراہمی کے عمل میں تاخیر اور غیر یقینی صورت حال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ سرنگ کھودنے والی مشینیں بڑے تعمیراتی منصوبوں میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کے ذریعے سخت چٹانوں، نرم مٹی اور زیرِ زمین پانی والے علاقوں میں بھی سرنگیں بنائی جاسکتی ہیں۔ ان مشینوں کا استعمال میٹرو ریل، ریلوے لائنوں، شاہراہوں، آبی منصوبوں اور دیگر بڑے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں ہوتا ہے۔ روایتی طریقوں کے مقابلے میں یہ مشینیں زمین کی سطح پر کم خلل پیدا کرتے ہوئے سرنگ کی کھدائی کو زیادہ منظم اور محفوظ بناتی ہیں۔ 
ہندوستان میں کئی بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے سرنگ کھودنے والی جدید مشینوں پر انحصار کرتے ہیں۔ ان میں ممبئی-احمد آباد ہائی اسپیڈ ریل یا بلٹ ٹرین منصوبہ بھی شامل ہے، جس کی مجموعی لمبائی تقریباً ۵۰۸؍ کلومیٹر ہے اور اس میں تقریباً ۷؍ کلومیٹر طویل زیرِ سمندر سرنگ بھی تعمیر کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ مختلف شہروں میں میٹرو ریل نیٹ ورک، ریلوے سرنگوں اور پہاڑی علاقوں میں رابطہ سڑکوں کی تعمیر کے لیے بھی ایسی مشینوں کی ضرورت پڑتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:مکیش امبانی کی دولت میں ایک ہی دن میں ۵ء۸؍ ارب ڈالر کا اضافہ

ماضی میں ہندوستان کو سرنگ کھودنے والی کئی جدید مشینیں بیرونِ ملک سے درآمد کرنا پڑتی تھیں۔ ۲۰۲۴ء میں جرمن کمپنی ہیرنکنیشٹ کی جانب سے چین میں تیار کی جانے والی بعض مشینوں کی ہندوستان کو فراہمی میں بھی تاخیر کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ کسی دوسرے ملک میں تیار ہونے والی مشینوں پر انحصار کرنے سے اہم منصوبوں کی رفتار متاثر ہوسکتی ہے۔ 
دریں اثنا، ریلوے کے وزیر اشونی ویشنو نے بھی حال ہی میں بتایا تھا کہ ہندوستان سرنگ کھودنے والی مشینوں کی مقامی تیاری میں پیش رفت کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ملک میں ۸؍ میٹر قطر کی مشینیں تیار کی جا رہی ہیں اور ۱۵؍ میٹر قطر کی مشینوں کی تیاری بھی شروع ہوچکی ہے۔ تمل ناڈو میں اس مقصد کے لیے ایک پیداواری مرکز قائم ہے اور مستقبل میں ۱۶؍ میٹر سے زیادہ قطر والی بڑی مشینیں تیار کرنے کی سمت بھی کام کیا جا رہا ہے۔ حکومت کا مقصد صرف مشینیں تیار کرنا نہیں بلکہ ان کی تیاری کے لیے درکار ڈیزائن، تکنیکی مہارت، پرزوں کی فراہمی، مرمت اور دیکھ بھال کا مکمل نظام ملک کے اندر قائم کرنا ہے۔ اس سے ہندوستان کو بیرونی سپلائی میں رکاوٹوں کے باوجود اپنے بڑے تعمیراتی منصوبے جاری رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ 
پیوش گوئل نے اپنے خطاب میں چین پر انحصار کم کرنے کے لیے نایاب معدنیات اور ان سے تیار ہونے والے مقناطیسوں کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ چین کی جانب سے نایاب معدنیات کی برآمد پر پابندیاں عائد کیے جانے کے بعد حکومت نے ہندوستانی اسٹارٹ اپس کو متبادل ٹیکنالوجی تیار کرنے کی ترغیب دی۔ ان کے مطابق بعض ہندوستانی اسٹارٹ اپس ایسے موٹر تیار کرنے لگے ہیں جن میں نایاب معدنیات استعمال نہیں ہوتیں، لیکن ان کی کارکردگی اور معیار روایتی موٹروں کے برابر ہے۔

یہ بھی پڑھئے:سلمان خان کی شاہ رخ خان کو سالگرہ پر خاص مبارکباد، ’ہمیشہ جوان رہو‘ کی دعا کی

حکومت نے ملک میں نایاب معدنیات سے بننے والے مستقل مقناطیسوں کی مقامی تیاری کو فروغ دینے کے لیے ۷۲۸۰؍ کروڑ روپے کی اسکیم بھی منظور کی ہے۔ اس اسکیم کے تحت سالانہ ۶۰۰۰؍ ٹن مربوط پیداواری صلاحیت قائم کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ایسے مقناطیس الیکٹرک گاڑیوں، ہوا سے بجلی پیدا کرنے والی ٹربائنوں، الیکٹرانکس اور دفاعی شعبے سمیت کئی اہم صنعتوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ پیوش گوئل نے واضح کیا کہ ہندوستان چین کے ساتھ اپنے تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتا۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے تعلقات اس وقت بہتر ہیں اور اگر مستقبل میں کوئی نئی رکاوٹ پیدا نہ ہوئی تو ان میں مزید بہتری آسکتی ہے  تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تجارتی اور سفارتی تعلقات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ملک کی اہم ضروریات اور اسٹریٹجک مفادات پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ مجموعی طور پر پیوش گوئل کا بیان ہندوستان کی اس حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے جس کے تحت حکومت اہم مشینری، خام مال اور جدید ٹیکنالوجی کے لیے درآمدات پر انحصار کم کرکے مقامی صنعتوں کو مضبوط بنانا چاہتی ہے۔ سرنگ کھودنے والی مشینوں کی مقامی تیاری، نایاب معدنیات کے متبادل اور اسٹارٹ اپس کی حوصلہ افزائی جیسے اقدامات سے ہندوستان کے بنیادی ڈھانچے اور صنعتی شعبے کو طویل مدت میں فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔ حکومت کا پیغام واضح ہے کہ بیرونی ممالک کی جانب سے سپلائی میں رکاوٹیں ہندوستان کی ترقی کی رفتار کو نہیں روک سکیں گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK