Updated: June 03, 2026, 11:32 AM IST
| Nanded
ناندیڑ کے مدکھیڑ تعلقے میں کانگریس کا ’کسان آکروش مورچہ‘ گدھے پر بینر باند ھ کر اسے احتجاج میں شامل کیا گیا تاکہ حکومت توجہ دے۔
ریاست کے مختلف علاقوں میں حکومت کے خلاف احتجاج جاری ہے- تصویر:آئی این این
ناندیڑ ضلع کے مُدکھیڑ تحصیل دفتر پرمنگل کو کانگریس کی جانب سے ’کسان آکروش مورچہ‘ نکالا گیا۔اس مورچے میں کسانوں نے بڑھتی مہنگائی، کھاد اور بیجوں کی قیمتوں میں اضافے، ڈیزل کی قلت، زرعی بجلی کی ناکافی فراہمی اور کئی علاقوں میں فصل بیمہ کی رقم نہ ملنے جیسے مسائل پر شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔ مورچے میں ایک منفرد انداز اپناتے ہوئے احتجاجی بینر ایک گدھے پر آویزاں کیا گیا، جس پر حکومت کو کسانوں کے مسائل کے تئیں غیر سنجیدہ رویہ ترک کرنے کا پیغام دیا گیا۔
اس موقع پر کانگریس کے رکن پارلیمنٹ رویندر چوہان بھی موجود تھے۔احتجاج کے دوران مقررین نے کہا کہ آج مُدکھیڑ تعلقہ میں بڑی تعداد میں کسان سڑکوں پر نکل کر حکومت کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں کیونکہ کسانوں کو کھیتی باڑی کیلئے ڈیزل دستیاب نہیں ہو رہا ہے، کھاد کی قیمتیں بے تحاشہ بڑھ چکی ہیں، بجلی کی فراہمی ناکافی ہے اور فصل بیمہ کی رقم بروقت نہیں مل رہی ہے۔ انہوں نے کہا ’’ بے موسم بارش سے کیلے کی فصلوں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے، لیکن سروے اور معاوضے کی کارروائی میں تاخیر ہو رہی ہے۔ کانگریس لیڈران نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسانوں کے مسائل پر فوری توجہ نہ دی گئی تو آئندہ دنوں میں احتجاج مزید شدت اختیار کرے گا اور بڑی تعداد میں کسان سڑکوں پر اترنے پر مجبور ہوں گے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ کانگریس ہمیشہ کسانوں کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور کسانوں کے مفادات کیلئے کام کرتی آئی ہے، جبکہ موجودہ حکومت صرف پی ایم کسان یوجنا کے تحت سالانہ امداد دے کر خود کو بری الذمہ سمجھ رہی ہے۔ حالانکہ کسانوں کو لاکھوں روپے کے نقصانات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اس موقع پر مطالبہ کیا گیا کہ مُدکھیڑ تعلقہ کے جس زرعی حلقے کو انتظامیہ کی غلط رپورٹ کی وجہ سے فصل بیمہ سے محروم رکھا گیا ہے، اسے فوری طور پر بیمہ کی رقم دی جائے۔ حالیہ بارش سے تباہ ہونے والی کیلے کی فصلوں کا فوری پنچنامہ کر کے متاثرہ کسانوں کو معاوضہ فراہم کیا جائے۔ مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ زرعی پمپوں کیلئے تھری فیز بجلی کی فراہمی موجودہ ۶؍ گھنٹوں سے بڑھا کر روزانہ بارہ گھنٹے کی جائے۔ صنعتوں کو ۲۴؍ گھنٹے بجلی فراہم کی جا سکتی ہے تو کسانوں کو مناسب بجلی کیوں نہیں دی جا رہی۔ کانگریس رہنماؤں نے کہا کہ گدھے کی علامتی شمولیت کے ذریعے حکومت کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ کسانوں کے مسائل کو نظر انداز کرنے کا رویہ ترک کیا جائے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر مطالبات تسلیم نہ کئے گئے تو کانگریس پورے مہاراشٹر میں اس سے بھی بڑا مورچہ نکالے گی اور چکا جام جیسی سخت تحریک شروع کی جائے گی۔