Updated: October 03, 2026, 5:06 PM IST
| New York
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع ختم ہونے اور مسئلہ حل ہونے کے بعد خام تیل اورپیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل سے متعلق خدشات نے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ بڑھایا ہوا ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر:آئی این این
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع ختم ہونے اور مسئلہ حل ہونے کے بعد خام تیل اورپیٹرول کی قیمتوں میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل سے متعلق خدشات نے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ بڑھایا ہوا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ نے ایران تنازع کے خاتمے کے بعد تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی کی توقع ظاہر کی ہے۔ ان کے مطابق ایران کا مسئلہ حل ہونے سے عالمی تیل کی سپلائی میں بہتری آئے گی، جس کا اثر پٹرول اور دیگر ایندھن کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ تاہم عالمی منڈی میں قیمتوں کا انحصار صرف ایران کے معاملے پر نہیں بلکہ خام تیل کی پیداوار، سپلائی لائنز، ریفائنریوں کی صورتحال، آبنائے ہرمز سے آمدورفت اور عالمی طلب سمیت متعدد عوامل پر ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ممبئی میں نصرت بھروچا کی ریڑھ کی ہڈی کی سرجری ہوگی
حالیہ مہینوں میں ایران تنازع کے باعث تیل کی عالمی سپلائی متاثر ہوئی ہے اور برینٹ خام تیل کی قیمت کئی مواقع پر ۱۰۰؍ ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے۔ روئٹرز کے مطابق ستمبر کے آخر میں ٹرمپ کی جانب سے ایران کی امن تجویز مسترد کیے جانے کے بعد بھی تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا تھا، جبکہ بعد میں مذاکرات کی اطلاعات آنے پر قیمتوں میں کمی ہوئی۔ ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ج جی ۷؍ممالک نے ۱۰۰؍ ملین بیرل تیل اور ایندھن کے ذخائر جاری کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔ عالمی توانائی ایجنسی کے سربراہ فاتح بیرول کے مطابق اس اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں تقریباً ۵؍ ڈالر کی کمی دیکھی گئی، جبکہ ضرورت پڑنے پر مزید ہنگامی ذخائر جاری کرنے کا امکان بھی موجود ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ہویولنڈ نے رونالڈو کا ’سیوو‘ جشن منایا، جارج جیسس کو دھکا دینے کا ویڈیو وائرل
دوسری جانب ٹرمپ نے ۲؍ اکتوبر کو کہا کہ وہ امریکی ڈیزل برآمدات پر پابندی عائد نہیں کریں گے۔ یہ فیصلہ جی ۷؍کی جانب سے ہنگامی ذخائر سے تیل اور ڈیزل جاری کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا۔ عالمی منڈی میں سپلائی بہتر ہونے کی صورت میں خام تیل اور پٹرول کی قیمتوں پر مزید دباؤ کم ہو سکتا ہے، تاہم ایران تنازع، مشرق وسطیٰ کے بنیادی ڈھانچے اور آبنائے ہرمز کی صورتحال اب بھی عالمی توانائی بازار کے لیے اہم عوامل ہیں۔