• Sat, 03 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

گاندھی کے دیس میں جمہوریت کی دُرگت

Updated: October 03, 2026, 4:42 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

مہاتما گاندھی کا یوم ِ ولادت صرف ہندوستان میں نہیں، دُنیا کے کئی ملکوں میں منایا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں، ۲۰۰۷ء میں اقوام متحدہ نے اعلان کیا تھا کہ یہ دن ’’عالمی یوم عدم تشدد‘‘ کے طور پر منایا جائیگا۔ تب سے ہر سال مختلف تقریبات کے ذریعہ گاندھی جی کو خراج عقیدت ہی پیش نہیں کیا جاتا، عدم تشدد پر یقین کو پختہ بھی کیا جاتا ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

مہاتما گاندھی کا یوم ِ ولادت صرف ہندوستان میں نہیں، دُنیا کے کئی ملکوں میں منایا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں، ۲۰۰۷ء میں اقوام متحدہ نے اعلان کیا تھا کہ یہ دن ’’عالمی یوم عدم تشدد‘‘ کے طور پر منایا جائیگا۔ تب سے ہر سال مختلف تقریبات کے ذریعہ گاندھی جی کو خراج عقیدت ہی پیش نہیں کیا جاتا، عدم تشدد پر یقین کو پختہ بھی کیا جاتا ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ایسی تقریبات میں اہل اقتدار بھی شریک ہوتے ہیں خواہ وہ عدم تشدد کے فلسفے پر عمل نہ کرتے ہوں۔ اہل اقتدار نے اس فلسفے کو حرز جاں بنایا ہوتا تو اتنی جنگیں نہ ہوتیں اور کئی ملکوں میں تشدد کا بازار گرم نہ ہونے دیا جاتا۔۲۰۱۹ء میں جب گاندھی جی کا ۱۵۰؍ واں یوم ولادت منایا گیا تھا تب بُرج خلیفہ (دبئی) پر ترنگے کا عکس لہرایا گیا تھا۔ کیا کل بھی ایسا کیا گیا اس کی اطلاع ہمیں تادم ِ تحریر نہیں ملی ہے۔ ۱۵۰؍ ویں جینتی پر ہی اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو غطریس نے اعتراف کیا تھا کہ عالمی ادارہ کے مرکز میں گاندھی کا فلسفہ ہے۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ گاندھی کی شخصیت کتنی بڑی ہے، بیرونِ ملک اُن کا کتنا احترام ہے اور اُن کی تعلیمات کتنی عظیم ہیں۔  

یہ بھی پڑھئے:نظام ِ تعلیم میں خرابی کی اصل وجہ

گاندھی جینتی گزر چکی ہے اور نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ کل پوری دُنیا اس عظیم شخصیت کو خراج عقیدت پیش کررہی تھی مگر ہمارے ملک میں اُن مظاہرین کو، جو دہلی کے جنترمنتر اور ممبئی کے شیواجی پارک میں جمع ہونا چاہتے  تھے، پوری قوت کے ساتھ روکنے اور اُن کا حق ِ احتجاج چھیننے کی کوشش کی گئی۔ اس میں شک نہیں کہ پولیس یا حفاظتی دستوں نے ۲۰؍ جولائی جیسی طاقت کا استعمال نہیں کیا چنانچہ جنتر منتر اور شیواجی پارک پر احتجاج کیلئے پہنچنے والوں پر نہ تو لاٹھی چارج کیا نہ ہی آنسو گیس کے گولے داغے مگر دونوں ہی مظاہرہ گاہوں کے آس پاس کا علاقہ چھاؤنی میں تبدیل کرنا حیرت انگیز تھا۔ دہلی میں مظاہرہ گاہ تک پہنچنے والے راستوں پر رکاوٹیں کھڑی کردی گئیں، آدھ درجن میٹرو اسٹیشنوں کو بند کردیا گیا، اس کے باوجود جو مظاہرین وہاں تک پہنچے میں کامیاب ہوگئے اُن کو گھسیٹا گیا اور اُٹھا اُٹھا کر بسوں میں بھرا گیا تاکہ وہ احتجاج نہ کرسکیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں محمود عباس

ہماری رائے میں تشدد صرف ضرب لگانے، ایذا پہنچانے اور خون بہانے ہی کا نام نہیں، اُس جبر کو بھی تشدد ہی کی ایک شکل قرار دیا جائیگا جس کے تحت عوام سے اُن کا حق ِ احتجاج چھیننے یا اُن کی آواز دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ افسوس کہ گاندھی کے دیس میں، گاندھی کی جینتی پر گاندھی کے فلسفے کو اس طرح مجروح کیا گیا۔ الیکشن کمیشن نے اپنی بے ضابطگیوں، جھوٹ اور عوام کی حق تلفی کے ذریعہ اُس سچائی کا گلا گھونٹا ہے جو تعلیمات ِ گاندھی میں مقدم ہے، اس کے باوجود عوام کو الیکشن کمیشن کے خلاف احتجاج سے روکا گیا جبکہ وہ اپنے جمہوری حق کیلئے جمہوری انداز میں جدوجہد کررہے تھے۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ مظاہرین کے ساتھ ہونے والے سلوک سے گاندھی کی روح کو تکلیف نہیں پہنچی ہوگی؟ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK