شاستری جی کی جینتی گاندھی جی کی جینتی کے ساتھ ہی آتی ہے۔ یہ دن (۲؍ اکتوبر) گزر گیا مگر ایسی شخصیتوں کو تو کبھی بھی یاد کیا جاسکتا ہے اور اُن کی خوبیوں سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ آج اس مضمون میں ملک کے دوسرے وزیر اعظم لال بہادر شاستری کی بعض شخصی خوبیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
ہندوستان میں ۲؍ اکتوبر، دو عظیم شخصیات کی یادگار ہے۔ اسی دن مہاتما گاندھی نے بھی آنکھیں کھولی تھیں اور لال بہادر شاستری نے بھی۔ دونوں کے یوم ولادت کے درمیان ساڑھے تین دہائیاں حائل رہیں مگر افکار و نظریات کے اعتبار سے دونوں میں کوئی بُعد نہیں تھا۔ لال بہادر شاستری گاندھی جی سے الگ نہیں بلکہ گاندھی جی ہی کے پیروکار اور اُنہی کا عکس تھے۔ وہ بھی سچائی پر یقین رکھنے والے تھے۔ خدمت ِ خلق کیلئے انہوں نے بھی خود کو وقف کررکھا تھا۔ ملک کیلئے قربانی دینے کا جذبہ اُن میں بھی تھا۔ سادگی، شرافت، نرم دلی، خوش خلقی اور انکسار اُن کا بھی اسلوب زندگی تھا۔ چونکہ گاندھی کی شخصیت نے اپنے دور اور بعد کے ادوار کو متاثر کیا اور اندرونِ ملک ہی نہیں بیرونِ ملک بھی اپنے افکار و نظریات سے پہچانے گئے اس لئے اُن کی مقبولیت اور قدرومنزلت کا دائرہ وسیع اور قدوقامت اتنا بلند ہے کہ کوئی دوسرا اُس بلندی تک آسانی سے نہیں پہنچ سکتا۔ لال بہادر شاستری نے گاندھی جی کے تتبع کے باوجود اپنا نقش قائم کیا اور وہ مقام حاصل کیا جو اُنہیں ممتاز کرتا ہے۔ ذرا سوچئے کہ نہرو جیسی جلیل القدر شخصیت کے انتقال کے بعد وزارت عظمیٰ کے خلاء کو پُر کرنا کتنا بڑا معرکہ تھا۔ شاستری ہی اس معرکے کو سر کرتے تھے لہٰذا اُنہوں نے کیا اور ۹؍ جون ۱۹۶۴ء کو ملک کا دوسرا وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد سے لے کر ۱۱؍ جنوری ۱۹۶۶ء کو اپنے انتقال تک اس عہدۂ جلیلہ پر متمکن رہے اور قلیل عرصہ میں مسائل و مصائب کے باوجود ایسی خدمات انجام دیں کہ آنے والی نسلیں فراموش نہیں کرسکتیں۔
یہ بھی پڑھئے: نظام ِ تعلیم میں خرابی کی اصل وجہ
اس مضمون کا مقصد اُن کی سیاسی و سماجی زندگی اور بحیثیت وزیر اعظم اُن کی کارگزاری کا جائزہ لینا نہیں بلکہ اُن کی ذاتی خوبیوں کے حوالے سے چند باتیں قارئین تک پہنچانا ہے۔ مثلاً سادگی۔ یہ اُن کی شخصیت کا ایسا وصف تھا کہ وزارت عظمیٰ تک رسائی کے باوجود اس میں ذرہ برابر بھی تبدیلی نہیں آئی۔کرتہ، پجامہ، گاندھی ٹوپی اور بہت ہوا تو صدری اور کبھی کبھی شیروانی۔ اُنہیں سوٹ بوٹ سے کبھی کوئی سرورکار نہیں رہا۔ کم از کم، مَیں نے تو اُن کی جتنی تصویریں دیکھی ہیں، کہیں بھی وہ سوٹ اور ٹائی میں دکھائی نہیں دیئے جبکہ سوٹ اور ٹائی زیب تن کرلیتے تو کسی کو اعتراض نہ ہوتا۔ معلوم ہوا کہ انسان مہنگے ملبوسات سے اپنی پہچان نہیں بناتا، شخصی و داخلی خوبیوں سے دلوں میں جگہ بناتا ہے۔ شاستری جی کی سب سے بڑی پہچان اُن کی وہ مسکراہٹ تھی جو تب بھی مترشح ہوتی تھی جب سنجیدگی طاری رہتی تھی۔ کم لوگ ہوتے ہیں جو ہمیشہ مسکراتے ہوئے دکھائی دیں۔ شاستری جی کو جن لوگوں نے دیکھا انہوں نے چھوٹے قد کے آدمی کو نہیں دیکھا ہوگا بلکہ اُس آدمی کی مسکراہٹ کے سبب خوشگوار احساس سے دوچار ہوکر محسوس کیا ہوگا کہ چھوٹے قد کے بڑے آدمی سے مل رہے ہیں۔ موجودہ دور میں جب ہر شخص پر کوئی نہ کوئی د’ھن سوار ہے اور لوگ مسکرانا بھول گئے ہیں، شاستری جی کی دس بیس تصویریں دیکھ لی جائیں تو تسلیم کرنا ہوگا کہ مسکراہٹ جیسی بڑی دولت محض ارادہ اور عمل سے مل جاتی ہے اور چہرے کو تابانی عطا کرتی ہے۔ آدمی خواہ زرق برق کا لباس پہن لے، اُس کے چہرے پر تبسم نہیں ہے تو کچھ نہیں ہے۔ تبسم سے خالی چہرے پر تکبر کا گمان ہوتا ہے۔
مہاویر ادھیکاری کی چھوٹی سی کتاب ’’لال بہادر شاستری‘‘ (۱۴۲؍ صفحات) میں ایک جگہ لکھا ہے کہ شاستری جی کے انتقال کے بعد اُس وقت کے امریکی صدر (غالباً جانسن) نے کہا تھا کہ ’’اُن کے جانے کے بعد دُنیا جینے کے لئے بہت حقیر معلوم ہوتی ہے۔‘‘ کیا ایک شخص کی کمی اتنا بڑا خلاء پیدا کردیتی ہے اور دنیا کو اس حد تک بدل دیتی ہے، تب بھی جب کہنے والا نہ تو ہم وطن ہو نہ ہی ہم زبان؟ اس کا جواب اثبات میں ہے مگر یہ بات صرف اُن لوگوں کے لئے کہی جاسکتی ہے جو کسی شخص یا شخصیت کو گہرائی میں جا کر دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں۔ کون جانتا ہے کہ جانسن کے لئے بھی شاستری جی کی شخصیت دل پزیر رہی ہو۔ صرف امریکی صدر جانسن نہیں بلکہ نائب صدر ہیوبرٹ ہمفری نے بھی دل کو چھو‘ لینے والا جملہ کہا تھا جس کا ایک لفظ شاستری جی کی شخصیت اور طرز زندگی کی بھرپور عکاسی کیلئے کافی ہے۔ ہیمفری نے کہا تھا: ’’شاستری مصیبت کی گھڑی میں روشنی دینے والا مٹی کا چراغ تھے۔‘‘ اس جملے میں ’’مٹی کے چراغ ‘‘ پر غور فرمائیے۔ واقعی شاستری ایسے تھے جنہوں نے حکمراں بن جانے کے باوجود عوام کی سی زندگی گزاری۔ اُن میں غرور نام کو نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھئے: اک حافظہ ہے جو کمزور ہوتا جاتا ہے
شاستری نے گاندھی جی سے سادگی کے علاوہ جو چیز سیکھی وہ اُصول پسندی تھی۔ کم لوگ جانتے ہوں گے کہ جب شاستری جی وزیر اعظم تھے، تب اُن کے بیٹوں نے ایسی سرکاری گاڑی استعمال کرلی تھی جو مہمانوں کے استعمال کیلئے مخصوص تھی۔ شاستری جی کو معلوم ہوا تو انہوں نے استفسار کیا اور تصدیق ہوجانے پر ڈرائیور کو بُلایا اور جتنے کلومیٹر (۱۴) گاڑی چلی تھی اس کے بارے میں کہا کہ لاگ بُک میں یہ ۱۴؍ کلومیٹر ذاتی استعمال کے بطور درج کئے جائیں۔ اتنا ہی نہیں، فی کلومیٹر ۷؍ روپے کے حساب سے ۱۴؍ کلومیٹر کی جتنی رقم بنتی تھی، اپنی جیب سے ادا کی۔ سیاستدانوں کے شاہانہ ٹھاٹ کے اِس دور میں یہ باتیں کتنی بعید از قیاس معلوم ہوتی ہیں مگر کون ہے جو اس سے انکار کرے۔ یہ سب کتابوں میں درج ہے۔
مہاویر ادھیکاری نے شاستری جی کی اُصول پسندی سے متعلق یہ واقعہ درج کیا ہے کہ جب وہ جیل میں تھے تب اطلاع ملی کہ بیٹا بہت بیمار ہے۔ اُسے ٹائیفائڈ ہوگیا تھا۔ جیل کے حکام نے ایک ہفتے کے پیرول پر گھر جانے کی اجازت دی۔ شاستری جی گھر پہنچے تو بیٹا ۱۰۴؍ ڈگری بخار میں تھا۔ ٹائیفائڈ کا بخار جلد پیچھا نہیں چھوڑتا۔ ایک ہفتہ پلک جھپکتے گزر گیا۔ دل پر پتھر رکھ کر وہ دوبارہ جیل جانے کیلئے نکلے تب بیمار بیٹا ایک ہی رٹ لگائے ہوئے تھا: ’’بابو جی مت جائیے، بابو جی مت جائیے‘‘ مگر شاستری جی پھر شاستری جی تھے۔ بقول مہاویر ادھیکاری: ’’ایک ہی جھٹکے میں اس گوتم ثانی نے اپنے آپ کو گھبراہٹ سے آزاد کرلیا، جو لوگ وہاں موجود تھے انہیں نمسکار کیا اور مضبوط قدموں سے باہر نکل گیا۔‘‘
ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے شخصیتوں سے سیکھنا تو دور، اُن کے بارے میں جاننا بھی ترک کردیا۔اس میں ہمارا ہی نقصان ہے۔