کانگریس لیڈر نے ناگپور میں کہاکہ گیانیش کمارکی بدعنوانیاں بے نقاب ہوئیں تو بی جےپی دوبارہ اقتدار میں نہیںآ سکے گی اسلئے وزیراعلیٰ ان کے دفاع میں اترے ہیں۔
EPAPER
Updated: September 30, 2026, 1:28 PM IST | Ali Imran | Nagpur
کانگریس لیڈر نے ناگپور میں کہاکہ گیانیش کمارکی بدعنوانیاں بے نقاب ہوئیں تو بی جےپی دوبارہ اقتدار میں نہیںآ سکے گی اسلئے وزیراعلیٰ ان کے دفاع میں اترے ہیں۔
’’مرکزی الیکشن کمیشن اب ایک غیر جانبدار ادارہ نہیں رہا، بلکہ مکمل طور پر بی جےپی کی کٹھ پتلی بن چکا ہے جو منظم طریقے سے جمہوریت کا قتل کر رہا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی غیر آئینی و غیر قانونی سرگرمیاں بے نقاب ہوئیں تو وہ مستقبل میں دوبارہ اقتدار میں نہیں آسکیں گے اور نہ ہی ملک کو بیچا جاسکے گا، اسی خوف کے باعث تمام ریاستوں کے بی جے پی وزرائے اعلیٰ گیانیش کمار کو بچانے کیلئے تک و دوہ کررہے ہیں۔ ان الفاظ میں مہاراشٹر کانگریس کے سینئر لیڈر نانا پٹولے نے بی جے پی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ناگپور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نانا پٹولے نےکئی موضوعات پر حکومت کونشانہ بنایا۔
انتخابی عمل میں خامیوں اور چیف الیکشن کمشنر کے کردار پر نانا پٹولے نے کہا’’ماضی میں ہم نے الیکشن کمیشن کے سامنے ووٹر لسٹ میں ہیرا پھیری، بوگس ناموں اور ایس آئی آر کے نام پر ووٹروں کو حق رائے د ہی سے بے دخل کرنے کے بارے میں ثبوتوں کے ساتھ کئی مثالیں پیش کیںلیکن چیف الیکشن کمشنر کچھ سننے کے موڈ میں نہیں تھے، وہ صرف بی جے پی کے اشارے پر ناچ رہے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:شولاپور کا تلسی گاؤں ’برائے فروخت‘، قیمت صرف ’پانی‘
انہوں نے مہایوتی میں اقتدار کی اندرونی کشمکش اور ایکناتھ شندے کو دوبارہ وزیر اعلیٰ بنانے کے شندے گروپ کے اراکین اسمبلی کی طرف سے کئے جا رہے مطالبات پر بھی سخت تنقید کی۔ انہوں نے ایکناتھ شندے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا’’ خود ایکناتھ شندے نے بارہا کہا ہے کہ ۲۰۲۲ میں مرکزی بی جے پی قیادت نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ آپ حکومت بنائیں، ہم آپ کو دوبارہ وزیر اعلیٰ بنائیں گے تاہم، اب شندے کے اراکین اسمبلی میں یہ احساس ہے کہ بی جے پی نے ان کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ اس لیے ان کی پارٹی کے لیڈرپریشان ہو رہے ہیں اور شندے کو وزیر اعلیٰ بنانے کے بیانات دے رہے ہیں۔ حالانکہ مہایوتی دکھاوا کرتی ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے لیکن حقیقت میں ان کی حالت ابتر ہے۔
ریاست میں خشک سالی کی صورتحال پر انہوں نے حکومت پر کسانوں کی زندگیوں سے کھیلنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں خوفناک خشک سالی سے کسان پریشان ہیں لیکن مہایوتی حکومت نے اس مسئلہ سے مکمل طور پر آنکھیں پھیر لی ہیں۔ انہوں نےکہاکہ ہم نے مسلسل عوامی احتجاج کیا، دباؤ ڈالا، گورنر سے ملاقات کی اور میمورنڈم دیئے۔کرناٹک میں کانگریس حکومت نے فوری طور پر خشک سالی کا اعلان کیا اور امداد کی تقسیم شروع کردی تو مہاراشٹر میں یہ فیصلہ کرنے میں اتنی تاخیر کیوں کی گئی؟ حکومت مزید کتنے کسانوں کی خودکشی دیکھنا چاہتی ہے؟