گاؤں پانی کی ایک ایک بوند کیلئے ترس رہا ہے، یہاں کھیت اور کنوئیں سوکھ چکے ہیں،۲۶؍ سال سے کھدائی کا کام زیر التوا، پانی کیلئے گاؤں والوں نے ۱۴؍ ستمبرکو بھوک ہڑتال بھی کی تھی۔
EPAPER
Updated: September 30, 2026, 1:16 PM IST | Agency | Solapur
گاؤں پانی کی ایک ایک بوند کیلئے ترس رہا ہے، یہاں کھیت اور کنوئیں سوکھ چکے ہیں،۲۶؍ سال سے کھدائی کا کام زیر التوا، پانی کیلئے گاؤں والوں نے ۱۴؍ ستمبرکو بھوک ہڑتال بھی کی تھی۔
اس شہر کے ایک گاؤں کے باشندوں نے جو پانی کی ایک ایک بوند کیلئے ترس رہا ہےاورجہاں کھیت اور کنویں سوکھ چکے ہیں، ایک انتہائی جذباتی قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے ایک بینر لگایا ہےجس پر لکھا ہےکہ یہ گاؤںفروخت کیلئے ہےاور اس کی قیمت صرف پانی ہے ۔ گاؤں والوں نے اپنے گاؤں کیلئے قیمت صرف ’ پانی ‘ رکھی ہے۔شولاپور کی ماڈھا تحصیل کے تلسی گاؤں کے تقریباً۷؍ ہزارباشندوںکی جانب سے کیا جا رہا یہ انوکھا احتجاج، کئی دہائیوں کی ادھوری سرکاری اسکیموں اور وعدوں کا نتیجہ ہے۔سینا ماڈھا لفٹ آبپاشی اسکیم‘ کیلئے کھدائی کے نامکمل کام کی وجہ سے گاؤں کو برسوں سے خشک سالی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے گاؤں کے مکین پوری طرح پانی کے ٹینکروں پرمنحصر ہیں۔۲۶؍ ستمبر کو مہاراشٹرکے ۲۶۵؍ تعلقوں میںخشک سالی کا اعلان کئے جانے کے بعدضلع شولاپور کے اس گاؤںکی سامنے آنے والی کہانی انتہائی لرزہ خیز ہے۔ کھدائی کا کام برسوں سے نامکمل ہونے کی وجہ سے گاؤں والوں شدید پریشانیاں اٹھانی پڑرہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:’’کتب خانہ ماضی کے ورثے، حال کی تشکیل اور مستقبل کی تعمیر کا امین ہے‘‘
’گاؤں برائے فروخت‘ کا بینر
تلسی گاؤں کے سرپنچ شرد مورے نے کہا ’’ گاؤں کو ہر سال پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگرچہ سینا ماڈھا پروجیکٹ کی نہریں گاؤں کے قریب سے گزرتی ہیں، لیکن ہمیں ان سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ ’گاؤں برائے فروخت، قیمت: پانی‘ کا بینر لگا کر ہم حکومت کی توجہ اپنی حالت زار کی طرف مبذول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘
اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو ہم احتجاج کریں گے
گاؤں والوں نے پانی کا مطالبہ کرتے ہوئے۱۴؍ ستمبر کو بھوک ہڑتال شروع کی اور بعد میں سیناماڈھا تحصیل دفتر کے باہر ’تھالی ناد‘ (پلیٹیں اور برتن بجاکر) احتجاج کیا۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر مسئلہ حل نہ کیا گیا تو وہ اپنے احتجاج میں شدت لائیں گے۔ سرپنچ مورے نے پہلے کہا تھا کہ سینا ماڈھا پروجیکٹ کے ساتویں اور آٹھویں ڈرینج چینلوں کے قریب تقریباً۸۰۰؍ میٹر کھدائی کا کام گزشتہ۲۶؍ سال سے زیر التوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر یہ کھدائی مکمل ہو جاتی ہے تو اس سے تلسی گاؤں کے پانی کے مسئلہ کا مستقل حل نکل سکتا ہے۔ گاؤں والوں کے مطابق، گاؤں پہلے ہی پوری طرح پانی کے ٹینکروں پر انحصار کرتا ہے اور امسال ناکافی بارش سے حالات مزید خراب ہوگئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:غزہ: اسرائیل کے ذریعے جنگ بندی کی ۵۱۰۰؍ خلاف ورزیاں، ۱۴۲۱؍ ہلاکتیں
۳۵۰؍ نوجوانوں کی شادی نہیں ہورہی ہے
پانی کے اس بحران نے نہ صرف تلسی گاؤں کے باشندوں کی روزی روٹی کو بری طرح متاثر کیا ہے جو بنیادی طور پر کھیتی باڑی اور مویشی پالنے میں مصروف ہیں بلکہ ان کی ذاتی زندگیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں گاؤں کے بہت سے نوجوان شادی کرنے سے قاصر ہیں۔ مزید نے دعویٰ کیا کہ تلسی گاؤں میں تقریباً۳۵۰؍ نوجوان غیر شادی شدہ ہیں کیونکہ پانی کی شدید قلت کی وجہ سے یہاں کوئی بھی اپنی بیٹیوں کی شادی کرنے کو تیار نہیں ہے۔
پانی سپلائی کیلئے۹۰؍ لاکھ روپے منظورکئےگئے
۲۰۲۴ء میں کرشنا ویلی ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے تلسی سمیت خشک سالی سے متاثرہ دیہاتوں کو سینا ماڈھا اسکیم کے ذریعے پانی کی فراہمی کو منظوری دی تھی۔ رواں سال جنوری میں تلسی کے بھوانی پرکولیشن ٹینک تک بند پائپ لائن سے پانی کی فراہمی کیلئے۹۰؍ لاکھ روپے منظور کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ مورے کا کہنا ہے کہ انہیں ڈی پی ڈی سی سے اطلاع ملی ہے کہ بند پائپ لائن کیلئے کچھ فنڈز منظور کیے گئے ہیں لیکن زمین پر ٹھوس کام ابھی شروع نہیں ہوا۔
جل جیون مشن بھی بے اثر
گاؤں والوں نے بتایا کہ جل جیون مشن کے تحت کام کیا گیا تھا، لیکن پانی کے مقامی ذرائع خشک ہونے کی وجہ سے یہ اسکیم بے اثر ہو گئی ۔ تلسی کے ۱۴؍ تالاب اور کنویں مکمل طور پر سوکھ چکے ہیں۔ گاؤں والوں کا کہنا ہے کہ ان کو بھرنے سے پینے اور آبپاشی کے پانی کی کمی کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔تلسی کے زیادہ تر لوگ کھیتی باڑی اور مویشی پالنے میں مصروف ہیں۔ پانی کے بحران نے ان کے ذریعہ معاش کو بری طرح متاثر کیا ہے۔