لوکل سرکلس کے سروے میں انکشاف ،۸۶؍ فیصد صارفین ایم ڈی آر چارج ادا کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔
EPAPER
Updated: October 02, 2026, 10:58 AM IST | Agency | New Delhi
لوکل سرکلس کے سروے میں انکشاف ،۸۶؍ فیصد صارفین ایم ڈی آر چارج ادا کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔
یو پی آئی پیمنٹ پر ۱۵؍اکتوبر سے نافذ ہو رہے ایم ڈی آر (مرچنٹ ڈسکاؤنٹ ریٹ) کو لے کر کئی طرح کے خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے۔ نئے نظام کے تحت۲؍ ہزار سے زائد کے مرچنٹ یو پی آئی پیمنٹ پر ۰ء۴؍فیصد ایم ڈی آر نافذ ہوگا۔حالانکہ حکومت نے واضح طور پر کہا ہے کہ یہ اضافی چارج خریدار سے نہیں لیا جانا چا ہئے لیکن اصل سوال یہیں سے شروع ہوتا ہے کہ اگر دکاندار خود ایم ڈی آر دینے سے منع کر دیں اور خریدار سے الگ سے پیسے مانگیں تو لوگ کیا کریں گے؟ حالیہ ’لوکل سرکلس‘ سروے کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ایسی صورت میں بڑی تعداد میں لوگ یو پی آئی کی جگہ ادائیگی کے دوسرے متبادل پو غور کر سکتے ہیں۔ سروے میں لوگوں سے پوچھا گیا کہ اگر دکاندار ۲؍ ہزار سے زیادہ کی یو پی آئی پیمنٹ پر لگنے والا ایم ڈی آر چارج ان سے دینے کو کہتا ہے تو وہ کیا کریں گے؟ اس سوال کے جواب میں بڑی تعداد میں لوگوں نے نقد، کریڈٹ کارڈ، ڈیبٹ کارڈ یا بینک ٹرانسفر جیسے متبادل پر جانے کی بات کہی۔ ہندی نیوز پورٹل آج تک پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق ’لوکل سرکلس‘ کی جانب سے کئے گئے اس سروے میں ملک کے ۲۹۱؍ اضلاع کے یو پی آئی صارفین سے ۶۷؍ ہزار سے زائد جوابات ملے۔
یہ بھی پڑھئے:آج کا دن ہنگامہ خیز؟وسیع تر احتجاج ،حکومت مشکل میں!
اس سروے میں شامل یو پی آئی صارفین میں سے ۸۶؍ فیصد نے کہا کہ وہ ایم ڈی آر چارج ادا کرنے کیلئے قطعی تیار نہیں ہیں چاہے وہ ایک روپے کا کیوں نہ ہو۔ ۷۶؍ فیصد لوگوں نے کہا کہ وہ ادائیگی کے لئے دوسرا طریقہ اپنائیں گے یا خریداری ملتوی کر دیں گے۔ یعنی سروے میں سوالوں کا جواب دینے والے۴؍ میں سے۳؍ لوگوں نے مانا کہ اگر دکاندار ایم ڈی آر کا بوجھ ان پر ڈالتے ہیں تو وہ یو پی آئی کو چھوڑ کر نقد کا استعمال کرنے کو ترجیح دیں گے۔ اس سے قبل اگست کے ایک ’لوکل سرکلس‘ سروے میں بھی ۵۳؍ فیصد یو پی آئی صارفین نے یہی بات کہی تھی۔
یہ بھی پڑھئے:مکہ: مسجد الحرام میں خودکش بمبار کی افواہ، سیکوریٹی حکام نے تردید کی
دوسری جانب ’لوکل سرکلس‘ کے۳۲؍ ہزار سے زائد تاجروں اور دکانداروں والے سروے میں صرف ۱۷؍ فیصد نے کہا کہ وہ ایم ڈی آر کا بوجھ خود اٹھانے کو تیار ہیں۔ ۴۱؍ فیصد نے کہا کہ وہ کوئی ایم ڈی آر نہیں دیں گے بلکہ اسے گاہکوں سے ہی وصول کریں گے۔قابل ذکر ہے کہ ایم ڈی آر کا معاملہ اس لئے بھی بڑا ہے کیونکہ یو پی آئی اب چھوٹی ادائیگیوں تک محدود نہیں ہے۔ اگست میں یو پی آئی پر۲۴؍ ارب لین دین ہوئے اور ان کی مجموعی رقم تقریباً۲۹؍ لاکھ کروڑ سے زائد رہی۔ اسی لئے پورے ملک میں اس کیخلاف ہنگامہ برپا ہے۔