محکمہ برائے قبائلی ترقی کی جانب سے آشرم اسکولوں کے اساتذہ کیلئے سرکیولر جاری، دیگر اسکولوں کے اساتذہ پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔
EPAPER
Updated: January 03, 2026, 12:24 PM IST | Saadat Khan | Mumbai
محکمہ برائے قبائلی ترقی کی جانب سے آشرم اسکولوں کے اساتذہ کیلئے سرکیولر جاری، دیگر اسکولوں کے اساتذہ پر اس کا اطلاق نہیں ہوگا۔
اساتذہ کی مخالفت کے باوجود ریاستی حکومت کے محکمہ برائےقبائلی ترقی نے یکم جنوری کو ایک سرکیولر جاری کیاہے جس کےمطابق غیر سرکاری تنظیموں کے زیر نگرانی جاری امداد یافتہ آشرم اسکولوں کےاساتذہ کیلئے دو سال کے اندر، یعنی یکم ستمبر ۲۰۲۷ء سے پہلے، ٹی ای ٹی امتحان پاس کرنا لازمی ہے، بصورت دیگر انہیں اپنی ملازمت سے استعفیٰ دینا ہوگا۔ اس سرکیولر سے محکمہ تعلیم کے اسکولوں کے اساتذہ میں بھی بے چینی پائی جارہی ہے حالانکہ اس کا اطلاق ان اسکولوں کے اساتذہ پر نہیں ہوتاہے۔
جمعرات کو جاری کردہ مکتوب میں کہا گیا ہے کہ محکمہ برائے قبائلی ترقی کے زیر نگرانی سماجی تنظیموں کے ذریعے جاری امداد یافتہ آشرم اسکولوں میں ایجوکیشن گارنٹی ایکٹ ۲۰۰۹ء کے نفاذ سے قبل مقرر کئےگئے اساتذہ کو۲؍سال میں ٹی ای ٹی پاس کرنا لازمی ہوگا۔ بصورت دیگر انہیں اپنی ملازمت سے استعفیٰ دیناہو گا۔
مکتوب کے مطابق اگر امداد یافتہ آشرم اسکولوں کے اساتذہ نے ٹی ای ٹی پاس نہیں کیا ہے تو ان کی خدمات کو ختم کر دیا جانا چاہئے۔ ریاست میں محکمہ برائے قبائلی ترقی کے زیر کنٹرول تمام امداد یافتہ آشرم اسکولوں میں، پرائمری اساتذہ کی تقرری کے وقت ٹیچر اہلیت کا امتحان پاس کرنے والے امیدوار کا انتخاب کیا جانا چاہئے۔ اگر اس طرح کاکوئی امیدوار دستیاب نہیں ہے، تو عہدہ کو معاہدہ کی بنیاد پر پُر کیا جانا چاہئے۔ معاہدہ پر تعینات اساتذہ کو حکومت کی طرف سے کوئی مالی تعاون یا سہولت نہیں ملیں گی۔ معاہدہ پرہونے والی تقرری کی تنخواہ کے تمام اخراجات متعلقہ ادارہ اپنے فنڈ سے برداشت کرے۔ ساتھ ہی یہ بھی ہدایت دی گئی ہےکہ جس امیدوار نے ٹی ای ٹی پاس نہیں کیا ہے اسے پرائمری ایجوکیشن سرونٹ کے عہدے پر تعینات نہیں کیا جانا چاہئے۔
دریں اثناء ا س تعلق سےاکھل بھارتیہ اُردو شکشک سنگھ کے ریاستی جنرل سیکریٹری ساجد نثار نے انقلاب کوبتایاکہ ’’ریاست میں اس وقت اساتذہ کے درمیان ٹی ای ٹی کےتعلق سےپھیلائی جارہی بے چینی صرف افواہوں اور نامکمل معلومات کا نتیجہ ہے۔ یکم جنوری ۲۰۲۶ءکوجاری کیا گیا سرکیولر محکمۂ تعلیم کا نہیں بلکہ حکومت مہاراشٹر کے محکمۂ قبائلی ترقی کا ہے، جو صرف اس محکمہ کے تحت آنے والے اساتذہ تک محدود ہے۔ ریاستی محکمۂ تعلیم کا کوئی باقاعدہ سرکیولر تاحال جاری نہیں ہوا ہے۔ محدود طبقے کے نام پر تما اساتذہ میں ذہنی دباؤ، خوف اور انتشار پیدا کرنے کی یہ ایک منظم کوشش ہے۔ اساتذہ کو ایسی افواہوں اور گمراہ کن اطلاعات سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔‘‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’یہ معاملہ فی الحال سپریم کورٹ آف انڈیا میں زیرِ سماعت ہے۔ اس سلسلے میں کل ۲۶؍عرضداشتیں داخل کی گئی ہیں۔ اس لئے عدالتی فیصلہ آنے تک ریاستی محکمہ تعلیم کی جانب سے اس بارےمیں کوئی سرکیولر جاری کئے جانے کا امکان نہیں ہے۔ چنانچہ تمام اساتذہ سے اپیل ہےکہ ریاستی محکمہ تعلیم کاباقاعدہ سرکیولر جاری ہونے تک کسی بھی قسم کے خوف یا دباؤ میں نہ آئیں، اور افواہوں اور آدھی ادھوری معلومات پر اعتبار نہ کریں ۔ اساتذہ کی شدید مخالفت کے باوجود حکومت نے آمرانہ انداز میں کوئی سرکیولر جاری کیاتو ریاست کی تمام اساتذہ کی تنظیمیں سڑکوں پر احتجاجی تحریک شروع کریں گی۔ ‘‘ یاد رہے کہ آشرم اسکول بیشتر دیہی علاقوں میں ہیں۔