اسلام آباد کی عدالت نے ۷؍ افراد کو ۲۰۲۳ء کے ہنگاموں میں نفرت پھیلانے اور توڑ پھوڑ کے الزام میں سزائے موت سنائی ہے۔ ہنگاموں کے بعد ہی سے ان پر الزامات عائد کئے گئے تھے۔ گرفتاری سے بچنے کیلئے ساتوں افراد فرار ہیں او بیرون ملک مقیم ہیں۔
EPAPER
Updated: January 03, 2026, 6:22 PM IST | Islamabad
اسلام آباد کی عدالت نے ۷؍ افراد کو ۲۰۲۳ء کے ہنگاموں میں نفرت پھیلانے اور توڑ پھوڑ کے الزام میں سزائے موت سنائی ہے۔ ہنگاموں کے بعد ہی سے ان پر الزامات عائد کئے گئے تھے۔ گرفتاری سے بچنے کیلئے ساتوں افراد فرار ہیں او بیرون ملک مقیم ہیں۔
پاکستان کے شہر اسلام آباد میں ۳؍ صحافی، ۲؍ یوٹیوبرز اور ۲؍ سبکدوش فوجی اہلکاروں کو اسلام آباد کورٹ نے ۲۰۲۳ء کے ہنگاموں کے دوران ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے اور لوگوں کو تشدد پر اکسانے کے الزام میں سزائے موت سنائی۔ یہ فیصلہ اسلام آباد میں عدالت برائے انسداد دہشت گردی کے جج طاہر عباس سپرا نے سنایا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: وینزویلا، امریکہ سے مذاکر ات کیلئے تیار
جب جج نے فیصلہ سنایا تو کوئی بھی ملزم وہاں موجود نہیں تھا، تمام ملزمین گرفتاری سے بچنے کیلئے فرار ہیں اور بیرون ملک مقیم ہیں۔ سابق مدیر شاہین صہبائی سمیت دو صحافی صابر شاکر اور معید پیرزادہ، یوٹیوبرز وجاہت سعید خان اور حیدر رضا مہدی اور سبکدوش فوجی اہلکار عادل راجہ اور اکبر حسین ملزمین ہیں جنہیں سزا سنائی گئی ہے۔ واضح ہو کہ ان سات ملزمین کے خلاف الزام مئی ۲۰۲۳ء میں رشوت خوری کے مقدمے میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی قید کے باعث ہوئے ہنگاموں کے بعد عائد کئے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کیا شورش زدہ میانمار میں ۵؍ سال بعد ہو رہےانتخابات جمہوریت کو بحال کر سکیں گے؟
یاد رہے کہ ۲۰۲۳ء میں ہنگاموں کے دوران عمران خان کے حامی سڑکوں پر اتر آئے اور سرکاری املاک کی توڑ پھوڑ کی۔ ہنگاموں کے دوران سرکاری ریڈیو پاکستان کی عمارت کو بھی نقصان پہنچا او ر سینئر آرمی اہلکار کے گھر پر بھی توڑ پھوڑ کی گئی تھی۔