ناگپور کے پولیس کمشنر وشواس نانگرے پاٹل کے خلاف راج ٹھاکرے کی پوسٹ، غیر جانبدار رہنے کی تلقین، حکومت سے بھی سوال
EPAPER
Updated: June 27, 2026, 11:10 PM IST | Mumbai
ناگپور کے پولیس کمشنر وشواس نانگرے پاٹل کے خلاف راج ٹھاکرے کی پوسٹ، غیر جانبدار رہنے کی تلقین، حکومت سے بھی سوال
ناگپور کے پولیس کمشنر وشواس نانگرے پاٹل کی آر ایس ایس میں شرکت اور زعفرانی تنظیم کی تعریف کا معاملہ اب طول پکڑتا جا رہا ہے۔ کانگریس کے بعد مہاراشٹر نو نرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے نے بھی وشواس نانگرے پاٹل کو براہ راست نشانہ بنایا ہے۔ راج ٹھاکرے نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے ذریعے نہ صرف آئی پی ایس افسر پر تنقید کی ہے بلکہ حکومت سے بھی کئی سوال پوچھے ہیں۔
ایم این ایس سربراہ نے لکھا ہے ’’ آئی پی ایس افسر وشواس نانگرے پاٹل میں ان دنوں دہری وفاداری کے مظاہرے کی خواہش پیدا ہوئی ہے۔ وہ ایک پولیس افسر ہیں اس لئے ان کی وفاداری صرف اور صرف پولیس کے جو فرائض ہیں ان کے ساتھ ہونی چاہئے۔مگر ایسا لگتا ہے کہ نانگرے پاٹل آر ایس ایس کے ساتھ اپنی وفاداری ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ راج ٹھاکرے کا کہنا ہے’’ان دنوں ریاست میں ’ہندو سمیلن‘ منعقد کئے جا رہے ہیں۔ ایسے ہی ایک سمیلن میں وشواس نانگرے پاٹل نے شرکت کی اور وہاں آر ایس ایس اور اس کے بانیوں پر تعریفوںکے پھول برسائے۔ بھلے ہی یہ کہا جا رہا ہوں کہ یہ سمیلن غیر سیاسی ہوتے ہیں لیکن اصل میں اس طرح کے پروگرام سیاسی ہی ہوتے ہیں۔ اور انہیں کون منعقد کروا رہا ہے، اس کے پیچھے مقصد کیا ہے ، اس کی تھوڑی سی تحقیق کی جائے یا صرف غور کیا جائے تو معلوم ہو جائے گا۔ ‘‘راج ٹھاکرے نے آگے لکھا ہے’’ ایسےپروگرام میں شرکت کرکے وشواس نانگرے پاٹل آر ایس ایس کی تعریف کر رہے ہیں۔ ’’کیا آپ کو اس کا خیال بھی ہے کہ آپ ایک پولیس افسر ہیں اور پولیس افسر سےغیر جانبداری کی توقع کی جاتی ہے ؟ اگر آپ کو آر ایس ایس سےانسیت ہے تو اسے اپنے دل میں رکھئے، اور اگر سرعام آر ایس ایس کی تعریف کرنی ہو تو اپنے عہدے سے استعفیٰ دیدیں‘‘
انہوں نے پولیس افسر کے علاوہ ریاست کے وزیر اعلیٰ کو یہ کہتے ہوئے نشانہ بنایا کہ ’’ نانگرے پاٹل کو چھوڑ دیجئے، وہ بھٹک گئے ہوں گے لیکن کیا وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ کو ایسی دہری وفاداری منظور ہے؟ کل کو آپ حکومت میں نہیں ہوں گے اور کوئی افسر کسی اور تنظیم کے پروگرام میں شرکت کرے تو اس وقت چیخ وپکار مت مچائیے۔ کسی افسر کے فعل کی حمایت ( ابھی کی نہیں ہے لیکن اس فعل پر خاموش رہنا ایک طرح سے حمایت کرنا ہی ہے)کرتے وقت اگر کوئی برسراقتدار شخص یہ بھول جائے کہ وہ کون سے نقش قائم کر رہا ہے تو وہ یہ بھی بھول جاتا ہے آنے والی نسلوں کے سامنے وہ کون سی مثال پیش کر کے جا رہا ہے۔‘‘ راج ٹھاکرے نے کہا کہ ’’ ۲۰۱۲ء میں جب میں نے رضا اکیڈمی کے خلاف مورچہ نکالا تھا تو ایک پولیس کانسٹبل نے میرا شکریہ ادا کیا تھا کہ میں نےپولیس کی طرف سے آواز اٹھائی۔ اس پر اس کانسٹبل کو جبراً چھٹی پر بھیج دیا گیا تھا۔ کیا ایسی ہی کارروائی وشواس نانگرے پاٹل کے خلاف کی جائے گی؟‘‘ یاد رہے کہ راج ٹھاکرے جس واقعے کی یاد دہانی کروا رہے ہیں اس وقت ریاست میں کانگریس کی حکومت تھی۔