سپریم کورٹ میں کپل سبل نے دلیل دی کہ اراکین اسمبلی کی نااہلی کا فیصلہ پہلے اور پارٹی کافیصلہ بعد میں ہونا چاہئے تھا۔
EPAPER
Updated: August 19, 2026, 10:49 AM IST | Agency | New Delhi
سپریم کورٹ میں کپل سبل نے دلیل دی کہ اراکین اسمبلی کی نااہلی کا فیصلہ پہلے اور پارٹی کافیصلہ بعد میں ہونا چاہئے تھا۔
شیوسینا بمقابلہ شیوسینا مقدمہ میںمنگل کوسپریم کورٹ میں بحث کے دوران کپل سبل نے الزام لگایا کہ اسپیکر راہل نارویکر کا ہر فیصلہ غلط تھا۔ا نہوں نے دلیل دی کہ بغاوت کرنےوالے اراکین اسمبلی کی نااہلی کا فیصلہ پہلےہونا چاہیے تھا، اس کے بعد الیکشن کمیشن یہ طے کرتا کہ اصل سیاسی جماعت کس کی ہے لیکن شیوسینا کے معاملے میں یہ عمل ہی الٹ دیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: وزراء اور اعلیٰ افسران اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں کیوں نہیں پڑھاتے؟‘‘
کپل سبل نے کہاکہ’’آئین کا ۱۰؍ واں شیڈول سیاسی پارٹی کے رکن اور قانون ساز پارٹی کے رکن کے درمیان فرق کرتا ہے۔ اس میں ایسی صورتحال کا کوئی تصور نہیں جب قانون ساز پارٹی کے اراکین ہی سیاسی پارٹی بن جائیں مگر اسپیکر نے یہی نتیجہ اخذ کیا ۔‘‘ انہوں نے زور دیکر کہا کہ ’’اصل سیاسی جماعت کے تعین کیلئے الیکشن کمیشن کے سامنے ہونے والی کارروائی اسمبلی اسپیکر کے پاس زیر التوا نااہلی کی درخواستوں کے نتیجے پر منحصر ہونی چاہیے تھی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ’’ اگر کوئی گروپ الیکشن کمیشن سے رجوع کرکے اصل سیاسی پارٹی ہونے کا دعویٰ کرے جبکہ اس کے اراکین اسمبلی کے خلاف نااہلی کی کارروائی زیر التواء ہو تو کمیشن یہ فیصلہ تو کر سکتا ہے کہ کون سا گروپ اصل پارٹی ہے مگر نااہلی کی درخواستوں پر فیصلے کے بعد یہ فیصلہ ہونا چاہیے۔‘‘