• Sun, 04 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

شیوسینا بمقابلہ شیوسینا:’’اسپیکر نارویکر کا ہر فیصلہ غلط تھا‘‘

Updated: August 19, 2026, 4:19 PM IST | Agency | New Delhi

سپریم کورٹ میں کپل سبل نے دلیل دی کہ اراکین اسمبلی کی نااہلی کا فیصلہ پہلے اور پارٹی کافیصلہ بعد میں ہونا چاہئے تھا۔

Shiv Sena leader Anil Desai leaving the Supreme Court. Picture: INN
شیو سینا لیڈر انل دیسائی سپریم کورٹ سے باہر آتے ہوئے۔ تصویر: آئی این این

شیوسینا بمقابلہ شیوسینا مقدمہ میںمنگل کوسپریم کورٹ میں بحث کے دوران کپل سبل نے الزام لگایا کہ اسپیکر راہل نارویکر  کا ہر فیصلہ غلط تھا۔ا نہوں نے  دلیل دی کہ  بغاوت کرنے والے اراکین اسمبلی کی نااہلی کا فیصلہ پہلےہونا چاہیے تھا، اس کے بعد الیکشن کمیشن یہ طے کرتا کہ اصل سیاسی جماعت کس کی ہے لیکن شیوسینا کے معاملے میں یہ عمل ہی الٹ دیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: وزراء اور اعلیٰ افسران اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں کیوں نہیں پڑھاتے؟‘‘

کپل سبل نے کہاکہ’’آئین کا ۱۰؍ واں   شیڈول سیاسی پارٹی کے رکن اور قانون ساز پارٹی کے رکن کے درمیان فرق کرتا ہے۔ اس میں ایسی صورتحال کا کوئی تصور نہیں  جب  قانون ساز پارٹی کے اراکین  ہی سیاسی پارٹی بن جائیں مگر اسپیکر نے یہی نتیجہ اخذ کیا ۔‘‘ انہوں نے زور دیکر کہا کہ ’’اصل سیاسی جماعت کے تعین کیلئے الیکشن کمیشن کے سامنے ہونے والی کارروائی اسمبلی اسپیکر کے پاس زیر التوا نااہلی کی درخواستوں کے نتیجے پر منحصر ہونی چاہیے تھی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ’’ اگر کوئی گروپ  الیکشن کمیشن سے رجوع کرکے  اصل سیاسی پارٹی  ہونے کا دعویٰ کرے جبکہ اس کے اراکین اسمبلی کے خلاف نااہلی کی کارروائی زیر التواء ہو تو کمیشن یہ فیصلہ تو کر سکتا ہے کہ کون سا گروپ  اصل پارٹی  ہے مگر نااہلی کی درخواستوں پر فیصلے کے بعد یہ فیصلہ ہونا چاہیے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ’’کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے سبب منوج جرنگے کو جوش آیا ہے‘‘

سبل نے نشاندہی کی کہ’’وہ ایم ایل اے بعد نااہل قرار پاتے ہیں تو اسمبلی میں ان کی تعداد بے معنی ہوکر رہ جاتی۔‘‘انہوں نے کہا کہ یہ ضروری اس لئے تھا کہ اسمبلی میں  کسی بھی گروپ کے اراکین کی تعداد نااہلی کی کارروائی کے نتیجے کے لحاظ سے تبدیل ہو سکتی ہے۔‘‘  انہوں نے ایک بار پھر  عدالت میں  اس بات پر زور دیا کہ قانون ساز پارٹی اور سیاسی پارٹی الگ چیزیں ہیں، اسلئے  اراکین اسمبلی کی بنیاد پر اصل شیوسینا کافیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے اس بنیاد پر اسپیکر راہل نارویکر کے فیصلے کو  غلط قرار دیا۔ یہ نشاندہی کرتے ہوئے کہ اسپیکر نے شیوسینا کے ۱۹۹۹ء کے آئین کو فیصلے کی  بنیاد بنایا، کپل سبل نے سوال اٹھایا کہ’’ اسمبلی اسپیکر کو سیاسی جماعت کے اندرونی آئینی ڈھانچے کی جانچ کا اختیار آخر کس نے دیا؟‘‘ سماعت کے دوران انہوں  نے ۵؍ بنیادی سوال اٹھائے ۔ کیا اراکین اسمبلی کی اکثریت کو سیاسی جماعت کی اکثریت قرار دیا جا سکتا ہے؟ کیا قانون ساز پارٹی اور سیاسی جماعت کے درمیان فرق کو نظرانداز کیا جا سکتا ہے؟ کیا اراکین اسمبلی کی نااہلی کا فیصلہ ہونے سے پہلے ہی ان کی تعداد کی بنیاد پر ’اصل جماعت‘ کا تعین کیا جا سکتا ہے؟ کیا اسمبلی اسپیکر کو پارٹی آئین کی قانونی حیثیت جانچنے اور ۱۹۹۹ء کے آئین کو نافذ کرنے کا اختیار حاصل تھا جبکہ ۲۰۱۸ء کا آئین وجود میں آچکا تھا؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK