Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنتر منتر احتجاج : جانچ کیلئے اعلیٰ سطحی کمیٹی کی تشکیل

Updated: August 19, 2026, 9:06 AM IST | Agency | New Delhi

چیف جسٹس سوریہ کانت کے مطابق کمیٹی میں عدالت عظمیٰ کے سابق جج، کسی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اور ایک ریٹائرڈ آئی جی رینک کے افسر ہونگے۔

Hundreds of images showing the Delhi Police`s brutal crackdown on students are available online; the police cannot deny them. Picture: INN
طلبہ کیخلاف دہلی پولیس کی ظالمانہ کارروائی کی سیکڑوں تصاویر آن لائن دستیاب ہیں، پولیس ان سے انکار نہیں کرسکتی۔ تصویر: آئی این این

سپریم کورٹ نے جنتر منتر پر احتجاج کے دوران پولیس کی جانب سے  ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال، تشدد اور دیگر سنگین الزامات کی تحقیقات کیلئے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالا باغچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ نے کیا۔عدالت کے مطابق کمیٹی میں سپریم کورٹ کے ایک سابق جج، کسی ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس اور ایک سینئر ریٹائرڈ پولیس افسر (آئی جی رینک) شامل ہوں گے۔

کمیٹی کی ذمہ داریاں کیاہوں گی ؟

کمیٹی کو معاملے کے مختلف پہلوؤں کی حقائق پر مبنی تحقیقات کرنے اور وقتاً فوقتاً عدالت میں اپنی رپورٹ پیش کرنے کی ذمہ داری دی جائے گی۔ ان رپورٹوں کی بنیاد پر سپریم کورٹ مزید ضروری ہدایات جاری کرے گا۔ کمیٹی میں کون ممبران ہوں گے اس بارے میں فی الحال بنچ نے بتانے سے انکار کردیا لیکن کہا کہ کمیٹی کے تعلق سے جلد ہی آرڈر پاس کیا جائے گا جس سے سبھی کو معلوم ہو جائے گا کہ کمیٹی  کے ممبران کون کون ہیں۔ عدالت نے کمیٹی کو خواتین مظاہرین کے ساتھ مبینہ جنسی اور آن لائن  ہراسانی اور سوشل میڈیا کے ذریعے کمزور طبقات کو نشانہ بنانے کے الزامات کی بھی تحقیقات کرنے کی ہدایت دی ہے۔

معاملے کی سنگینی کا احساس 

اس سے قبل دہلی پولیس نے اپنے حلف نامے میں احتجاج کے دوران کئے گئے طاقت کے استعمال کو درست قرار دیا تھا۔چیف جسٹس سوریہ کانت نے معاملے کی سنگینی کو محسوس کرتے  ہوئے کہا کہ جو بھی اس کیلئے ذمہ دار ہو، اس کے  لئے کوئی عذر یا جواز قابل قبول نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ معاملے پر پوری سنجیدگی کے ساتھ غور کیا جائے گا اور اس حتمی نتیجے تک پہنچایا جائے گا۔سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ کمیٹی کو ضروری بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں گی اور اس کے سامنے آنے والے متاثرین کو فوری طور پر اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ کمیٹی کی سفارشات کی بنیاد پر ضروری قانونی کارروائی کی جائے گی۔

دہلی پولیس کا حلف نامہ 

اس سے قبل   دہلی پولیس نے سپریم کورٹ میں داخل حلف نامہ میں کہا کہ پارلیمنٹ مارچ کے دوران مظاہرین نے بیریکیڈ توڑے اور پولیس اہلکاروں کے ساتھ مارپیٹ کی جس کے باعث احتجاج پُرامن نہیں رہا۔ حالات کو قابو میں کرنے کیلئے پولیس کو طاقت کا استعمال کرنا پڑا، تاہم مظاہرین کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت استعمال نہیں کی گئی۔ڈپٹی کمشنر آف پولیس سچن شرما کی جانب سے داخل  کئے گئے حلف نامے میں یہ باتیں ان عرضیوں کے جواب میں کہی گئی ہیں جن میں پولیس کی زیادتی کی عدالتی نگرانی میں تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔پولیس نے  اپنے تمام اقدامات کا دفاع کیا اور طلبہ کو ہی مورد الزام ٹھہرایا۔

پولیس کی پلہ جھاڑنے کی کوشش 
پولیس کے مطابق ۲۰؍جولائی کو جنتر منتر اور اس کے آس پاس کے تقریباً تین کلومیٹر کے علاقہ میں ۳۰؍ ہزار سے زیادہ مظاہرین موجودتھے۔ بھیڑ کو قابو میں رکھنے کیلئے تقریباً ۵؍ ہزار پولیس اہلکار تعینات  کئے گئے تھے۔ احتجاج کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں ۲۴۰؍ سے زیادہ پولیس اہلکار  زخمی ہوئے۔
کیل والی لاٹھیوں پر پولیس نے کہا کہ عرضیوں میں منتخب تصاویر، نامکمل ویڈیوز اور غیر مصدقہ رپورٹس کو بنیاد بنایا گیا ہے۔پولیس کے مطابق ویڈیو میں کیل لگی لاٹھی کے استعمال کا صرف ایک واقعہ نظر آتا ہے  اور اس واقعے میں مذکورہ لاٹھی مظاہرہ کرنے والے ایک نوجوان کے ہاتھ میں تھی۔ 
پولیس نے کہا کہ بے قابو بھیڑ کو روکنے کیلئے طاقت کا استعمال بہت ضروری تھا کیوں کہ اس نے بیریکیڈ توڑ دئیے تھے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK