ٹرمپ کی وارننگ کا یہ کہہ کرمذاق بھی اُڑایا کہ ’’چابی کھو گئی‘‘ ، جنگ کے خاتمہ کی شرط کو دہرایا، جنگ بندی کی تجویز ملنے کی تصدیق کی مگرکہا: دھمکیوں کے ساتھ گفتگو ممکن نہیں
EPAPER
Updated: April 07, 2026, 12:16 AM IST | Tehran
ٹرمپ کی وارننگ کا یہ کہہ کرمذاق بھی اُڑایا کہ ’’چابی کھو گئی‘‘ ، جنگ کے خاتمہ کی شرط کو دہرایا، جنگ بندی کی تجویز ملنے کی تصدیق کی مگرکہا: دھمکیوں کے ساتھ گفتگو ممکن نہیں
ٹرمپ کی دھمکیوں کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے ایران نے پیر کو دوٹوک لہجے میں اپنے اس موقف کو دہرایا ہے کہ جنگ کے خاتمہ کے بغیر آبنائے ہرمز نہیں کھولا جائےگا۔ اس کے برخلاف دنیا بھر میں ایرانی سفارتخانوں نے امریکی صدر کے دھمکی آمیز پوسٹ کے جواب میں ان کا مذاق بھی اڑایا ہے۔ زمبابوے میں ایرانی سفارتخانہ نے گالم گلوج پر مبنی ٹرمپ کے دھمکی آمیز پوسٹ کا مختصر سا جواب دیاہے کہ’’چابی کھوگئی ہے‘‘ جبکہ جنوبی افریقہ کے ایرانی سفارتخانہ نے امریکی صدر کی مزید کھنچائی کرتےہوئے لکھا ہے کہ ’’ششش... چابیاں گلدستہ کے نیچے ہیں ، مگر صرف دوستوں کیلئے کھلا ہے۔‘‘
عارضی جنگ بندی کی کوششیں
اس بیچ ۵؍ ہفتوں سے جاری جنگ کو عارضی طور پر روکنے کی کوششوں میں تیزی آگئی ہے۔ اس کا مقصد ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے پاور پلانٹس پر بمباری کی غیر معمولی دھمکی کو ٹالنا سمجھا جارہاہے۔ پاکستان، مصر اور ترکی چاہتے ہیں کہ دونوں فریق عارضی طور پر جنگ بندی پر متفق ہوں اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے اوراس کے بعد تفصیلی مذاکرات کا دور شروع ہوتاکہ مکمل امن معاہدے تک پہنچا جا سکے۔ اس ضمن میں ایران اور امریکہ کو جنگ بندی کی باقاعدہ تجویز بھیج دی گئی ہے تاہم ایرانی حکام نے خبر رساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ وہ عارضی جنگ بندی کے تحت تجارتی جہازوں کیلئے آبنائے ہرمز کونہیں کھولیں گے۔ ایران مکمل جنگ بندی اور اِس یقین دہانی کے بغیر آبنائے ہرمز نہیںکھولےگا کہ آئندہ امریکہ کی جانب سے اس پر حملہ نہیں کیا جائے گا۔ تہران اس کے ساتھ ہی واشنگٹن سے جنگ میں ہونےوالے نقصان کا ہرجانہ بھی چاہتا ہے۔
دھمکیوں کے ساتھ بات چیت ممکن نہیں: ایران
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جنگ بندی کی تجویز ملنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ نے اس کا جواب دیا ہے۔ واشنگٹن سے براہ راست گفتگو کی تردید کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ’’الٹی میٹم اور جنگی جرائم کی دھمکیوں کے ساتھ امن مذاکرات ممکن نہیں ہیں۔‘‘ان کا اشارہ ایران کے پاور گرڈس پر حملے کی ٹرمپ کی دھمکی کی طرف تھا ۔ پاور پلانٹس اور پلوں پر بمباری کو وکلا اور ماہرین نے ممکنہ جنگی جرم قرار دیا ہے کیونکہ اس کا شہریوں پر اثر کسی بھی فوجی فائدے کے مقابلے میں زیادہ ہوگا۔
اسٹیو وِٹکوف عباس عراقچی سے رابطہ میں!
تہران کے اس دعویٰ کے برخلاف کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ براہ راست گفتگو نہیں کررہاہے، برطانوی اخبار ’دی گارجین‘ کے مطابق جنگ بندی کے مذاکرات میں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی شامل ہیں جو امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے رابطے میں ہیں، جبکہ ٹرمپ کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی سے رابطے میں ہیں۔ اسرائیلی ذرائع نے اخبار ہاریٹز کو بتایا ہےکہ ان کے خیال میں مذاکرات ناکام ہو سکتے ہیں حالانکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ جنگ ختم کرنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔
ایران نے ۱۵؍ نکاتی تجویز کو غیر منطقی قرار دیا
اس بیچ ایران نے جنگ بندی سے متعلق امریکہ کے مجوزہ۱۵؍ نکاتی منصوبے کو غیر منطقی کہہ کر مسترد کردیا ہے۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں ثالثی کے ذریعے امریکہ کی تجاویز ایران تک پہنچائی گئیں، جن میں۱۵؍ نکاتی منصوبہ بھی شامل تھا جو پاکستان اور دیگر دوست ممالک کے ذریعے سامنے آیا۔انہوں نے کہا کہ ایران نے اپنی شرائط اور مطالبات کو حتمی شکل دے دی ہے، تاہم مناسب وقت پر ہی انہیں ظاہر کیا جائے گا۔ان کا کہنا ہے کہ ایران کسی دباؤ میں نہیں آئے گا اور اپنے مفادات کے مطابق فیصلے کرے گا۔ ترجمان نے واضح کیا کہ ایران کے پاس اپنا فریم ورک موجود ہے اور تمام مطالبات ملکی مفادات اور داخلی غور و فکر کے بعد ترتیب دیئے گئے ہیں۔
دوست ممالک کو فیس دیکر کر ہرمز سے گزرنے کی اجازت
اس بیچ ایرانی اہلکاروں نے ’الجزیرہ ‘ سے گفتگو میں کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ آبنائے ہرمز سے دوستانہ تعلقات کے حامل چند ممالک کو ’’سیکوریٹی فیس‘‘ کے عوض گزرنے کی اجازت دے سکتاہے۔ تہران میں موجود الجزیرہ کے نمائندہ علی ہاشم کے مطابق ’’ ایران سیکوریٹی فیس کے ذریعے جنگ کی قیمت حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ۔ وہ ماہشہر بندرگاہ پر حملے کا بھرپور جواب دینے اور معاوضہ طلب کرنے کا ارادہ رکھتاہے۔‘‘