• Mon, 26 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آئی آئی ٹی بامبے خودکشی معاملہ: حراست میں لئے گئے افراد پر پولیس بدسلوکی کے الزامات

Updated: October 26, 2026, 6:04 PM IST | Mumbai

آئی آئی ٹی بامبے کے طالب علم ساحل واکوڑے کی خودکشی کے معاملے میں انصاف اور تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے اتوار کو ممبئی کے دادر میں واقع چیتیہ بھومی پر کینڈل مارچ کرنے والے کم از کم ۲۰؍ افراد کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ احتجاج کے لیے اجازت نہیں لی گئی تھی، جب کہ مظاہرین نے پولیس پر طاقت کے استعمال اور خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ ساحل کے اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ ادارے میں ان کے ساتھ ذات پات کی بنیاد پر امتیاز برتا گیا تھا، تاہم آئی آئی ٹی بامبے نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ طالب علم کی موت کے معاملے میں پولیس نے ایک پروفیسر اور دیگر افراد کے خلاف خودکشی پر اکسانے اور ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

ساحل واکوڑے ۱۸؍ ستمبر کو اپنے ہاسٹل کے کمرے میں پھانسی سے لٹکے ہوئے پائے گئے تھے۔ ان کے والدین رویندر اور سونالی واکوڑے کا الزام ہے کہ انسٹی ٹیوٹ میں گزشتہ تین ماہ سے ان کے بیٹے کے ساتھ ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک کیا جا رہا تھا۔ رویندر واکوڑے کی شکایت پر ممبئی پولیس نے پروفیسر سوریہ نارائن ڈولا اور دیگر نامعلوم افراد کے خلاف خودکشی پر اکسانے اور درج فہرست ذاتوں و درج فہرست قبائل (انسدادِ مظالم) ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔ ساحل کے اہلِ خانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں اور ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی ہو۔

اتوار کے احتجاج میں حراست میں لیے جانے والوں میں اسٹینڈ اَپ کامیڈین معصوم رجوانی بھی شامل تھے۔ انہوں نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں پولیس اہلکار انہیں احتجاجی مقام سے لے جاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ رجوانی نے پولیس پر طاقت کے استعمال اور خواتین مظاہرین کے ساتھ بدسلوکی کا الزام لگاتے ہوئے لکھا، ’’ممبئی پولیس اور ان کا جارحانہ رویہ دیکھیں۔ پولیس پر ایسے تشدد کا سہارا لینے، آٹھ خواتین کو حراست میں لینے اور ایک خاتون کے کپڑے پھاڑنے پر شرم آنی چاہئے۔‘‘ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا کہ خواتین کو شام ۶؍ بجے کے بعد حراست میں لیا گیا، جو ان کے بقول قانون کے خلاف ہے۔ مظاہرین نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے انہیں چیتیہ بھومی سے ہٹاتے وقت طاقت کا استعمال کیا اور خواتین کے ساتھ بھی نامناسب برتاؤ کیا۔ پولیس نے اجتماع کے لیے اجازت نہ ہونے کو کارروائی کی وجہ بتایا، تاہم بدسلوکی کے الزامات پر اس کا موقف واضح نہیں ہو سکا۔

یہ بھی پڑھئے: آئی آئی ٹی طالبعلم کیلئے کینڈل مارچ، مظاہرین پر پولیس کی سختی

پولیس کے مطابق، حراست میں لیے گئے افراد کو رات تقریباً ۸:۳۰؍ بجے کے بعد تاڑدیو، ورلی اور دادر کے پولیس اسٹیشنوں سے رہا کر دیا گیا۔ مظاہرین چیتیہ بھومی پر جمع ہوئے تھے، جو ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کی یادگار ہے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ساحل کی موت کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور ان کے اہلِ خانہ کی شکایات کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ اس سے قبل آئی آئی ٹی بامبے کے کیمپس میں بھی طلبہ احتجاج کر رہے تھے، جہاں طلبہ نے پروفیسر ڈولا کے خلاف کارروائی اور ادارے کی انتظامیہ سے جواب دہی کا مطالبہ کیا تھا۔

ساحل کی موت سے چند گھنٹے قبل ۱۸؍ ستمبر کو وسط مدتی امتحان کے دوران مبینہ طور پر موبائل فون استعمال کرنے اور سوالنامہ چیٹ جی پی ٹی پر اپ لوڈ کرکے جوابات حاصل کرنے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ آئی آئی ٹی بامبے کے مطابق، ساحل کو امتحان کے دوران موبائل فون استعمال کرتے ہوئے پکڑا گیا تھا۔ ادارے نے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ انسٹرکٹر، فیکلٹی ایڈوائزر اور شعبے کے سربراہ نے طالب علم سے بات کی، اس کی کونسلنگ کی اور اسے یقین دہانی کرائی کہ اس واقعے کا اس کے تعلیمی کیریئر پر منفی اثر نہیں پڑے گا۔ ادارے کا کہنا تھا کہ اس کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی شروع نہیں کی گئی تھی۔ تاہم، ساحل کے والدین نے الزام لگایا کہ ان کے بیٹے کو معطلی کی دھمکی دی گئی تھی۔

رویندر واکوڑے نے اپنی شکایت میں الزام لگایا کہ پروفیسر ڈولا گزشتہ تین ماہ سے ان کے بیٹے کے ساتھ ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک کر رہے تھے اور یہ سب آئی آئی ٹی بامبے کے ڈائریکٹر پروفیسر شیریش بی کیدارے کی ہدایات پر کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے شکایت میں کہا، ’’ڈولا گزشتہ تین مہینوں سے ذات پات سے متعلق نامناسب تبصرے کر رہے تھے اور واقعہ پیش آنے سے پہلے انہوں نے اسے غلط معاملے میں پھنسانے کی دھمکی دی تھی۔‘‘ یہ الزامات والد کی شکایت کا حصہ ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ممبئی لوکل ٹرین متعدد تکنیکی خرابیوں کے باعث تاخیر کا شکار، مسافروں کو پریشانی

دوسری جانب، ادارے کے ڈائریکٹر شیریش بی کیدارے نے کیمپس میں ذات پات کی بنیاد پر امتیاز کے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا، ’’درحقیقت ہر طالب علم کی ذات سے متعلق معلومات مکمل طور پر خفیہ رکھی جاتی ہیں اور کسی کو بھی دستیاب نہیں ہوتی ہیں۔‘‘ آئی آئی ٹی بامبے کے ایس سی/ایس ٹی سیل نے طلبہ کو بھیجے گئے ای میل میں کہا تھا کہ اسے ساحل کی جانب سے ذات پات پر مبنی امتیازی سلوک کی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی تھی۔ ادارے نے بعد میں اپنے ابتدائی بیان پر معذرت بھی کی اور کہا کہ ساحل کی موت کے حالات اور اس سے پہلے پیش آنے والے واقعات کی تحقیقات متعلقہ حکام کر رہے ہیں۔

احتجاج اور تحقیقات کے درمیان آئی آئی ٹی بامبے نے پروفیسر ڈولا کو ڈین کے عہدے سے ہٹا دیا تھا، جب کہ بعد میں انہیں چھٹی پر بھیج دیا گیا۔ ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے ڈولا سے کئی گھنٹوں تک پوچھ گچھ کی؛ انہوں نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ادارے کے مقررہ ضابطوں اور طریقۂ کار کے مطابق کام کیا۔ ادارے کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔ ساحل کے اہلِ خانہ اور احتجاج کرنے والے طلبہ کا مطالبہ ہے کہ ان کی موت کے حالات، مبینہ ذات پات پر مبنی ہراسانی اور امتحان کے واقعے سے متعلق تمام پہلوؤں کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK