Updated: January 19, 2026, 8:04 PM IST
| New Delhi
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پیر کو ۲۰۲۵ءکے لیے ہندوستان کی اقتصادی ترقی کی شرح کا تخمینہ بڑھا کر ۳ء۷ فیصد کر دیا ہے۔ یہ اندازہ پہلے کے مقابلے میں ۷ء۰؍فیصد زیادہ ہے۔ آئی ایم ایف نے اس کی وجہ سال کے دوسرے نصف میں توقع سے بہتر کارکردگی کو قرار دیا ہے۔
ٓآئی ایم ایف۔ تصویر:آئی این این
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پیر کو ۲۰۲۵ءکے لیے ہندوستان کی اقتصادی ترقی کی شرح کا تخمینہ بڑھا کر ۳ء۷ فیصد کر دیا ہے۔ یہ اندازہ پہلے کے مقابلے میں ۷ء۰؍فیصد زیادہ ہے۔ آئی ایم ایف نے اس کی وجہ سال کے دوسرے نصف میں توقع سے بہتر کارکردگی کو قرار دیا ہے۔
آئی ایم ایف کی ورلڈ اکنامک آؤٹ لک اپ ڈیٹ رپورٹ کے مطابق تیسری سہ ماہی میں بہتر نتائج اور چوتھی سہ ماہی میں مضبوط رفتار کے سبب ہندوستان کی ترقی کی شرح کا اندازہ بڑھایا گیا ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان دنیا کی سب سے تیزی سے بڑھتی ہوئی بڑی معیشتوں میں شامل ہے۔ تاہم آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ آنے والے برسوں میں ہندوستان کی ترقی کی شرح میں تھوڑی کمی ہو سکتی ہے۔ اندازے کے مطابق، سال ۲۰۲۶ء اور ۲۰۲۷ء میں ہندوستان کی اقتصادی ترقی کی شرح ۴ء۶؍فیصد رہ سکتی ہے۔
آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ ہندوستان ابھرتی اور ترقی پذیر معیشتوں کے لیے ترقی کا ایک اہم انجن بنا رہے گا۔ آئی ایم ایف کے مطابق ان ممالک کی اوسط ترقی کی شرح ۲۰۲۶ء اور ۲۰۲۷ء میں صرف۴؍ فیصد سے کچھ زیادہ رہنے کا اندازہ ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ابھرتے اور ترقی پذیر ایشیائی ممالک تکنیکی سرمایہ کاری اور تجارت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، چاہے دنیا کی اقتصادی رفتار ہر جگہ یکساں نہ ہو۔
یہ بھی پڑھئے:چاندی کی قیمت: ایک مہینے میں ایک لاکھ روپے مہنگی ہوئی چاندی
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے مطابق، عالمی اقتصادی ترقی کی شرح ۲۰۲۶ء میں ۳ء۳؍ فیصد پر مستحکم رہنے کا اندازہ ہے۔ اس میں تجارتی تنازعات میں کمی، مالی حالات میں بہتری اور خاص طور پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی ) جیسی ٹیکنالوجیز سے متعلق سرمایہ کاری میں تیزی اہم کردار ادا کرے گی۔
یہ بھی پڑھئے:ہیپی پٹیل: خطرناک جاسوس: ویر داس کی فلم ۵؍ کروڑ روپے کے ہندسے تک نہیں پہنچ سکی
مہنگائی کے حوالے سے بھی ہندوستان کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ ۲۰۲۵ء میں مہنگائی میں بڑی کمی کے بعد ہندوستان میں مہنگائی کی شرح دوبارہ مقررہ حد کے قریب آ سکتی ہے۔ اس کی وجہ خوراک کی قیمتوں پر کنٹرول ہے، جو گھریلو طلب کو سپورٹ کرے گا۔ تاہم، آئی ایم ایف نے یہ بھی انتباہ دیا ہے کہ مستقبل کے حوالے سے کچھ خطرات ابھی باقی ہیں۔ اگر اے آئی سے حاصل ہونے والے فوائد توقع سے کم رہے تو سرمایہ کاری میں کمی ہو سکتی ہے اور عالمی مالی حالات سخت ہو سکتے ہیں، جس کا اثر ابھرتی ہوئی معیشتوں پر بھی پڑے گا۔ اسی دوران، آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ اگر اے آئی کو تیزی سے اپنایا گیا اور اس سے پیداواریت میں اضافہ ہوا، تو عالمی اقتصادی ترقی کو رفتار مل سکتی ہے، بشرطیکہ مالیاتی خطرات کنٹرول میں رہیں۔