• Sun, 25 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مہنگے خام تیل کا اثر، غیر ملکی سرمایہ کاروں نے اکتوبر میں شیئربازار سے روپے نکالا

Updated: October 25, 2026, 8:05 PM IST | Mumbai

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل ۱۰۰؍ ڈالر فی بیرل سے اوپر رہنے کے باعث ہندوستانی حصص بازار میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی فروخت کا سلسلہ جاری ہے۔ اکتوبر میں اب تک غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں (ایف پی آئی) نے ہندوستانی حصص بازار سے مجموعی طور پر۵۳۳۳۷؍ کروڑ روپے نکال لیے ہیں۔

Share Market.Photo:INN
شیئر بازٓار۔ تصویر:آئی این این

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مسلسل ۱۰۰؍  ڈالر فی بیرل سے اوپر رہنے کے باعث ہندوستانی حصص بازار میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی فروخت کا سلسلہ جاری ہے۔ اکتوبر میں اب تک غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاروں (ایف پی آئی) نے ہندوستانی حصص بازار سے مجموعی طور پر۵۳۳۳۷؍ کروڑ روپے نکال لیے ہیں، تاہم اسی دوران انہوں نے ہندوستانی ابتدائی عوامی پیشکشوں (آئی پی او) میں  ۵۲۱۸؍ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری بھی کی ہے۔ ماہرین کے مطابق خام تیل کی بلند قیمتیں، عالمی مالیاتی حالات اور بازار میں اتار چڑھاؤ بھارتی معیشت اور سرمایہ کاری کے ماحول کے لیے اہم چیلنج بنے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:رادھیکا آپٹے نے خاتون مرکزی کردار والی فلموں کے نہ چلنے پر سوال اٹھائے

جیو جیت انویسٹمنٹس لمیٹڈ کے چیف انویسٹمنٹ اسٹریٹجسٹ ڈاکٹر وی کے وجے کمار کے مطابق، رواں سال اب تک غیر ملکی سرمایہ کار اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے مجموعی طور پر۳۶۹۱۶۴؍ کروڑ روپے کے حصص فروخت کر چکے ہیں۔ غیر ملکی سرمایہ کار مسلسل دسویں ہفتے بھی خالص فروخت کنندگان رہے، اگرچہ ۲۳؍ اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں ان کی فروخت کی رفتار نمایاں طور پر کم ہوئی اور دو دن انہوں نے حصص کی خریداری بھی کی۔
سرمایہ کاروں کی فروخت میں کمی کی چند وجوہات میں امریکی بانڈز پر منافع کی شرح میں نرمی، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں بہتری اور بڑی کمپنیوں کے حصص کی نسبتاً کم قیمتیں شامل ہیں۔ فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، امریکی دس سالہ بانڈ کی منافع کی شرح  ۳۶ء۵؍ فیصد سے کم ہوکر تقریباً۵؍ فیصد رہ گئی، جبکہ ڈالر کے مقابلے میں روپیہ۹۴ء۹۴؍ کی سطح پر پہنچا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان عوامل نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی مسلسل فروخت کے دباؤ کو کسی حد تک کم کرنے میں مدد دی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:رونالڈو کے ۹۸۲؍ویں گول پر تنازع، کیا گیند حریف کھلاڑی سے ٹکرا کر جال میں گئی؟

اس ہفتے بازار کی ایک نمایاں خصوصیت درمیانی اور چھوٹی کمپنیوں کے حصص میں شدید گراوٹ رہی۔ نفٹی مڈ کیپ  ۱۰۰؍ انڈیکس میں ۶ء۵؍فیصد جبکہ نفٹی اسمال کیپ  ۱۰۰؍انڈیکس میں ۳ء۷؍ فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے برعکس بڑی کمپنیوں پر مشتمل نفٹی ۵۰؍ انڈیکس میں گراوٹ نسبتاً محدود رہی اور اس میں ۳۵ء۲؍ فیصد کی کمی درج کی گئی۔ ماہرین کے مطابق، درمیانی اور چھوٹی کمپنیوں کے حصص میں بھاری گراوٹ کی ایک ممکنہ وجہ قرض لے کر قائم کی گئی طویل مدتی حصص پوزیشنوں کی جبری فروخت بھی ہوسکتی ہے۔
بڑی کمپنیوں کے حصص نے نسبتاً بہتر کارکردگی دکھائی، جس کی ایک اہم وجہ ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (ڈی آئی آئی) کی خریداری بتائی جارہی ہے۔ ان سرمایہ کاروں کے پاس سرمایہ کاری کے لیے خاطر خواہ فنڈز موجود ہیں، جس سے بڑی کمپنیوں کے حصص کو سہارا مل رہا ہے۔ تاہم، ماہرین کے مطابق خام تیل کی بلند قیمتیں اب بھی ہندوستانی معیشت اور حصص بازار کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ تیل مہنگا ہونے سے درآمدی بل، مہنگائی اور کمپنیوں کی پیداواری لاگت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، جبکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد اور بازار کی سمت پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔مجموعی طور پر، اکتوبر میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کی جانب سے۵۳۳۳۷؍  کروڑ روپے کی حصص فروخت بھارتی بازار پر دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔ اگرچہ حالیہ ہفتے میں فروخت کی رفتار کم ہوئی ہے اور ملکی ادارہ جاتی سرمایہ کار بڑی کمپنیوں کو سہارا دے رہے ہیں، لیکن خام تیل کی بلند قیمتیں اور درمیانی و چھوٹی کمپنیوں کے حصص میں تیز گراوٹ کے باعث بازار میں غیر یقینی صورت حال برقرار ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK