• Sun, 25 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

باسل ٹینس ٹورنامنٹ: جوکووچ اور شیلٹن ایک ہی ڈرا میں، واورِنکا کا مقابلہ لیہیکا سے

Updated: October 25, 2026, 8:05 PM IST | Basel

سوئزرلینڈ کے شہر باسل میں ہونے والے سوئس انڈورز ٹینس ٹورنامنٹ کے ڈرا میں سربیا کے نامور کھلاڑی نوواک جوکووچ اور امریکہ کے بین شیلٹن کو ایک ہی حصے میں رکھا گیا ہے، جس کے باعث دونوں کے درمیان سیمی فائنل میں ممکنہ مقابلے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔

Novak Djokovic.Photo:X
نوواک جوکووچ۔ تصویر:ایکس

سوئزرلینڈ کے شہر باسل میں ہونے والے سوئس انڈورز ٹینس ٹورنامنٹ کے ڈرا میں سربیا کے نامور کھلاڑی نوواک جوکووچ اور امریکہ کے بین شیلٹن کو ایک ہی حصے میں رکھا گیا ہے، جس کے باعث دونوں کے درمیان سیمی فائنل میں ممکنہ مقابلے کے امکانات پیدا ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب سوئٹزرلینڈ کے تجربہ کار اسٹین واورِنکا اپنے کریئر کے آخری ٹورنامنٹ میں جمہوریہ چیک کے جیری لیہیکا کے خلاف پہلے راؤنڈ میں میدان میں اتریں گے۔ اے ٹی پی ۵۰۰؍ درجے کا یہ مقابلہ ۲۶؍ اکتوبر سے یکم نومبر  ۲۰۲۶ء تک باسل میں کھیلا جائے گا۔ 
ٹورنامنٹ میں چوتھی سیڈ حاصل کرنے والے نوواک جوکووچ پہلے راؤنڈ میں فرانس کے اوگو امبر کا سامنا کریں گے۔ جوکووچ نے منتظمین کی جانب سے خصوصی دعوت ملنے کے بعد ٹورنامنٹ میں شرکت کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ ۲۰۱۱ء کے بعد پہلی مرتبہ باسل کے مقابلے میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ  ۲۰۰۹ء میں یہاں خطاب جیت چکے ہیں، جب انہوں نے فائنل میں سوئزر لینڈ کے راجر فیڈرر کو شکست دی تھی۔

یہ بھی پڑھئے:رادھیکا آپٹے نے خاتون مرکزی کردار والی فلموں کے نہ چلنے پر سوال اٹھائے

اگر جوکووچ ابتدائی راؤنڈ جیتنے میں کامیاب رہتے ہیں تو اگلے مرحلے میں ان کا مقابلہ جرمنی کے جان لینارڈ اسٹرف یا کسی کوالیفائر کھلاڑی سے ہوسکتا ہے۔ کوارٹر فائنل میں قازقستان کے الیگزینڈر ببلک یا  بلجیم  کے زیزو برگس سے سامنا ممکن ہے، جبکہ سیمی فائنل میں بین شیلٹن، ناروے کے کیسپر روڈ یا جیری لیہیکا ان کے ممکنہ حریف ہوسکتے ہیں۔  ٹورنامنٹ کے سرفہرست کھلاڑی اور پہلی سیڈ بین شیلٹن کو پہلے راؤنڈ میں ناروے کے کیسپر رُوڈ کے خلاف کھیلنا ہوگا۔ روڈ سابق عالمی نمبر دو رہ چکے ہیں، اس لیے شیلٹن کے لیے یہ مقابلہ ایک اہم امتحان ثابت ہوسکتا ہے۔ شیلٹن کے حصے میں جیری لیہیکا اور اسٹین واورِنکا بھی موجود ہیں، جس کے باعث انہیں فائنل تک پہنچنے کے لیے سخت مقابلوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ شیلٹن پہلے ہی سیزن کے اختتامی اے ٹی پی فائنلز کے لیے کوالیفائی کرچکے ہیں، جبکہ جوکووچ بھی ٹورنامنٹ میں اچھی کارکردگی دکھا کر سال کے آخری بڑے مقابلے کے لیے اپنی پوزیشن مضبوط کرنا چاہیں گے۔  
 اس ٹورنامنٹ کی سب سے جذباتی توجہ اسٹین واورِنکا کے پہلے راؤنڈ کے مقابلے پر مرکوز ہوگی۔ ۴۱؍سالہ سوئس کھلاڑی نے اپنے شاندار پیشہ ورانہ کریئر کو الوداع کہنے کے لیے باسل کے مقابلے کا انتخاب کیا ہے۔ انہیں منتظمین کی جانب سے خصوصی دعوت دی گئی ہے اور ان کا سامنا آٹھویں سیڈ جیری لیہیکا سے ہوگا۔ واورِنکا تین مرتبہ گرینڈ سلیم سنگلز خطاب جیت چکے ہیں اور عالمی درجہ بندی میں تیسری پوزیشن تک پہنچے تھے۔ ان کے کریئر کی نمایاں کامیابیوں میں  ۲۰۱۴ء کا آسٹریلین اوپن، ۲۰۱۵ء کا فرنچ اوپن اور ۲۰۱۶ء کا یو ایس اوپن خطاب شامل ہیں۔ لیہیکا کے خلاف ان کا مقابلہ اس لیے بھی خاص ہوگا کہ یہ ان کے پیشہ ورانہ سفر کے آخری مرحلے میں ایک اہم میچ ہے۔ اگر واورِنکا کامیابی حاصل کرتے ہیں تو اگلے راؤنڈ میں ان کا مقابلہ کسی کوالیفائر یا خوش قسمت ہارنے والے کھلاڑی سے ہوسکتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:رونالڈو کے ۹۸۲؍ویں گول پر تنازع، کیا گیند حریف کھلاڑی سے ٹکرا کر جال میں گئی؟

باسل ٹورنامنٹ کے ڈرا میں کئی اور دلچسپ مقابلے بھی شامل ہیں۔ دوسرے سیڈ آرتھر فِلس کا مقابلہ پولینڈ کے ہوبرٹ ہورکاچ سے ہوگا، جبکہ چھٹی سیڈ ٹیلر فرٹز یونان کے اسٹیفانوس سیتسیپاس کے خلاف مہم شروع کریں گے۔ تیسری سیڈ اسپین کے رافیل جودار کا سامنا چلی کے الیخاندرو تابیلو سے ہوگا۔ پانچویں سیڈ الیخاندرو ڈیوڈووچ فوکینا پہلے راؤنڈ میں  بلجیم  کے زیزو برگس سے کھیلیں گے، جبکہ ساتویں سیڈ الیگزینڈر ببلک کا مقابلہ سوئزر لینڈ کے ڈومینک اسٹرائیکر سے ہوگا۔ باسل میں انڈور ہارڈ کورٹ پر کھیلے جانے والے اس اے ٹی پی ۵۰۰؍ ٹورنامنٹ میں ۳۲؍ کھلاڑی حصہ لیں گے۔ برازیل کے دفاعی چیمپئن ژواو فونسیکا کمر کی تکلیف کے باعث سیزن ختم کرچکے ہیں اور اپنے خطاب کا دفاع نہیں کریں گے۔ ایسے میں جوکووچ، شیلٹن، فِلس اور دیگر نمایاں کھلاڑیوں کے پاس خطاب جیتنے کا موقع ہوگا، جبکہ واورِنکا کی آخری پیشہ ورانہ شرکت اس ایونٹ کو مزید یادگار بنا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK