Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسرائیل-ایران جنگ کے دبئی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ پر اثرات

Updated: March 01, 2026, 7:28 PM IST | Dubai

دبئی کے رئیل اسٹیٹ بروکرز اور ڈیولپرز نے اتوار کو کہا کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کی وجہ سے حالیہ دنوں میں ملک میں جاری پراپرٹی بُل رن ختم ہو سکتا ہے اور آنے والے دنوں میں پراپرٹی کی فروخت میں کمی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

Dubai City.Photo:INN
دُبئی شہر۔ تصویر:آئی این این

 دبئی کے رئیل اسٹیٹ بروکرز اور ڈیولپرز نے اتوار کو کہا کہ امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ کی وجہ سے حالیہ دنوں میں ملک میں جاری پراپرٹی بُل  رن ختم ہو سکتا ہے اور آنے والے دنوں میں پراپرٹی کی فروخت میں کمی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔
بروکرز نے کہا کہ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی ) کے ممالک میں امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر کیے گئے میزائل حملوں سے یہ طویل عرصے سے قائم رائے ختم ہو جائے گی کہ دبئی تنازعات کے دوران سرمایہ رکھنے کے لیے ایک محفوظ جگہ ہے۔ اس رائے کی وجہ سے ہی پہلے کے علاقائی بحرانوں کے بعد روس، یوکرین، پاکستان اور افغانستان کے سرمایہ کار دبئی کی طرف راغب ہوئے تھے۔
بروکرز کے مطابق، ایران کی جانب سے دبئی کے آس پاس موجود امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے بعد سرمایہ کار اس بات کی وضاحت کا انتظار کر سکتے ہیں کہ آیا یہ تنازع ایک طویل جنگ میں تبدیل ہوگا یا جلد ختم ہو جائے گا۔ تاہم، اس تنازع کی وجہ سے دبئی کے رئیل اسٹیٹ میں طلب کم ہو سکتی ہے، لیکن فی الحال قیمتوں میں کمی کا امکان نہیں ہے۔
دبئی میں ۲۰۲۵ء میں رئیل اسٹیٹ سے متعلق  ۱۵ء۲؍لاکھ سے زائد لین دین درج کیے گئے تھے اور ان کی فروخت کی مالیت تقریباً  ۱۸۷؍ ارب ڈالر تھی۔ اس کی وجہ لگژری پراپرٹی کی طلب اور  ہندوستان  سمیت دیگر غیر ملکی خریداروں کی دبئی میں پراپرٹی سرمایہ کاری میں دلچسپی تھی۔

یہ بھی پڑھئے:چنئی سپر کنگز کے پری سیزن کیمپ میں دھونی بھی حصہ لیں گے

مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کئی ویڈیوز وائرل ہیں، جن میں ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو عسکری ٹھکانوں اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچوں کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جنہیں مقامی سیکوریٹی فورسیز نے ناکام بنا دیا۔ یو اے ای کے سرکاری میڈیا کے مطابق ایرانی حملوں سے متعلق ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:مارچ میں’’ قصہ کورٹ کچہری کا‘‘،’’ٹاکسک‘‘اور ’’دُھرندھر۲‘‘ کی ریلیز

یو اے ای حکام نے بتایا کہ پام جمیرہ کمپلیکس میں ایک عمارت پر حملہ ہوا اور چار لوگ زخمی ہوئے، جبکہ متعدد میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ دنیا کی سب سے بلند عمارت برج خلیفہ کو احتیاط کے طور پر خالی کرا لیا گیا تھا۔ اسلامک ریولوشنری گارڈ کور(آئی آر جی سی )  نے اتوار کو مشرق وسطیٰ میں امریکی اور اسرائیلی عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر حملوں کی ایک نئی لہر کا اعلان کیا۔ یہ حملے ایران پر حال ہی میں کیے گئے امریکی-اسرائیلی حملوں کا بدلہ لینے کے لیے کیے جا رہے ہیں، جن میں اعلیٰ رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای کی وفات ہوئی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK