Inquilab Logo Happiest Places to Work

قطر مذاکرات میں اہم پیش رفت، ایران کا محتاط موقف برقرار، امریکہ پر تنقید

Updated: May 27, 2026, 11:19 AM IST | Agency | Tehran

قطر میں جاری امن مذاکرات کے دوران اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جبکہ ایرانی قیادت نے امریکہ کے خلاف سخت مؤقف دہراتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران اب بھی واشنگٹن پر مکمل اعتماد کرنے کیلئے تیار نہیں۔

Mojtaba Khamenei.Photo:INN
مجتبیٰ خامنہ ای۔ تصویر:آئی این این

قطر میں جاری امن مذاکرات کے دوران اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جبکہ ایرانی قیادت نے امریکہ کے خلاف سخت مؤقف دہراتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران اب بھی واشنگٹن پر مکمل اعتماد کرنے کیلئے تیار نہیں۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق دوحہ میں جاری مذاکرات میں مثبت پیشرفت ہوئی ہے اور بات چیت مجموعی طور پر تعمیری ماحول میں آگے بڑھی۔
 ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران مذاکراتی عمل کو نہایت احتیاط سے آگے بڑھا رہا ہے کیونکہ تہران امریکہ کو اب بھی ایک غیر قابلِ اعتماد فریق تصور کرتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایرانی حکام کسی بھی ممکنہ معاہدے کے حوالے سے انتہائی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ مذاکرات میں جنگ بندی، اقتصادی پابندیوں، آبنائے ہرمز اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت کئی اہم معاملات زیر بحث ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:فلم ’’ڈان ۳‘‘تنازع: فلمساز سنجے گپتا نے رنویر سنگھ کے بائیکاٹ پر سوال اٹھایا


دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے تازہ بیان میں امریکہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ روز بروز اپنی سابقہ حیثیت کھوتا جا رہا ہے اور مشرقِ وسطیٰ کی قومیں اب امریکی فوجی اڈوں کی ڈھال نہیں بنیں گی۔ حج کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ ایران نے جارح امریکہ کو سخت جواب دیا اور دشمن کے اہداف ناکام بنا دیے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں امریکی فوجی اڈے اب محفوظ نہیں رہے جبکہ صیہونی حکومت اپنے آخری مراحل کے قریب پہنچ چکی ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر نے اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ ترقی اور خوشحالی کیلئے باہمی تعاون اور اتحاد کو مضبوط بنائیں۔

یہ بھی پڑھئے:ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کی بنا پر۱۹؍ لاکھ ٹرک بند


دوسری جانب مجتبیٰ خامنہ ای نے حج کے موقع پر خصوصی پیغام میں اسرائیل کو جڑ سے اکھاڑنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے حج اور عید الاضحی کے موقع پر ایک پیغام جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل ’’یقیناً جڑ سے اکھاڑ دیا جانا چاہیے اور ایسا ہو کر رہے گا۔‘‘ ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم نیوز کے مطابق انھوں نے اسرائیل کو ’’اس خطے کی ایک خطرناک اور مہلک سرطانی رسولی‘‘ قرار دیا۔ خامنہ ای نے کہا کہ ایران نے صہیونی حکومت کو اپنے تباہ کن حملوں کے تحت بے بس کر دیا، اس جنگ کے دوران جسے انھوں نے ’’دوسری مسلط کردہ جنگ‘‘ قرار دیا، اور اسے امریکہ کے لیے ’’ایک سخت طمانچہ‘‘ کہا۔ سپریم لیڈر نے کہا کہ اس سال کے حج سیزن نے امریکہ اور اسرائیل سے اظہارِ لاتعلقی کی دعوت کو مزید اہمیت دے دی ہے اور ’’مرگ بر امریکہ‘‘ اور ’’مرگ بر اسرائیل‘‘ امت مسلمہ کے غالب نعرے بن جائیں گے۔ مجتبیٰ خامنہ ای نے یہ بھی کہا کہ مستقبل امتِ مسلمہ اور نئی اسلامی تہذیب کا ہے۔واضح رہےکہ امریکہ نے ایران پر دوبارہ حملے شروع کردئیے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK