عمران خان کی ’نااہلی‘ کی درخواست مسترد

Updated: October 25, 2022, 11:33 AM IST | Agency | Islamabad

درخواست میں الیکشن کمیشن ذریعہ انہیں نااہل قراردینے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ سماعت کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ کیلئے الیکشن لڑنے کی اجازت کوبر قراررکھا۔ دہشت گردی کے مقدمہ میں بھی ضمانت منظور ہوئی

Imran Khan outside the Islamabad High Court .Picture:AP/PTI
عمر ان خان اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر۔ تصویر: اےپی / پی ٹی آئی

 اسلام آباد کی عدالت  نے  پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان کی  نااہلی در خواست مسترد کردی ہےاور ان کے الیکشن لڑنے کی اجازت برقرار رکھی ہے۔ میڈیارپورٹس کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) کے چیف جسٹس اطہر من  اللہ نے پیر کو کہا کہ عمران خان کو الیکشن کمیشن آف پاکستان(ای سی پی) کے ذریعے ان کے خلاف توشہ خانہ معاملے کے فیصلے میں انہیں مستقبل میں انتخاب لڑنے سے نہیں روکا گیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ سابق وزیر اعظم کو۳۰؍اکتوبر کو ضمنی انتخاب لڑنے میںکسی بھی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ عمران خان کی درخواست پر سماعت کے  بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔درخواست میں ملک میں  الیکشن کرانے والے ادارے کے ذریعے انہیں نا اہل  قراردینے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ سابق وزیر اعظم پر الزام تھا کہ جب وہ وزیر اعظم تھے توا نہوں نے توشہ خانہ کی قیمتی تحفوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی  سےمعلومات چھپائی تھی۔ اس کا ملزم قراردیئے جانے کے بعد انہیں ۵؍ سال کیلئے انتخاب لڑنے  سے روک دیا گیاتھا۔
 سماعت  کے آغاز   میں عمران خان  کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے  عدالت سے درخواست کی کہ رجسٹرار کے اعتراضات کے باوجود درخواست کی سماعت شروع کی جائے۔جب جج  اطہرمن اللہ نے پوچھا کہ جلدی کیا ہے تو وکیل نے جواب دیا کہ ان کے موکل کو قرم میں ضمنی الیکشن  سے قبل نا اہل قرار دیا گیا تھا۔ ہائی کورٹ  کے چیف جسٹس نے کہا،’’ عمران   خان اس انتخاب کے لئے نا اہل نہیں ہیں۔ سب کیلئے ایک ہی معیار ہونا چاہئے۔ اس معاملے میں جلد بازی کرنے کی کوئی ضروت نہیں ہے۔‘‘ جج نے کہا کہ اعتراضات دور ہونے کے بعد عدالت درخواست پر سماعت کرے گی۔ ایڈوکیٹ ظفر نے عدالت سے فیصلہ روکنے کی گزارش کی تو چیف جسٹس  نے کہا کہ ای سی پی کا تفصیل فیصلہ ابھی دستیاب  نہیں ہے۔انہوں نے پوچھا،’’عدالت کو کس فیصلہ پر روک لگانی چاہئے؟ خان اسی سیٹ پر نہیں لوٹنا چاہتے جس سے انہیں نا اہل قراردیا گیا تھا، ہے نا؟‘‘  اس کے جواب میں یڈوکیٹ ظفر نے  دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حکم پر روک لگانے کی ضرورت ہے کیونکہ پی ٹی آئی کے صدر آئندہ ضمنی الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں،حالانکہ جسٹس اطہر     من اللہ نے کہا کہ عمران خان  کو اس سلسلے میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔‘‘ جب وکیل نے دلائل دیئے کہ عوام کو معاملہ سمجھ نہیں آئے گا تو چیف  جسٹس  نے جواب دیا کہ عوام کو قائل کرنا عدالت کا کام نہیں ہے۔جج نے  تبصرہ کیا ،’’ ایساپہلے نہیں ہوا ہے۔ عدالت ایسی کوئی مثال نہیں دے سکتی۔ ‘‘اس کے جواب میںایڈوکیٹ ظفر نے طنز یہ لہجے میں کہا کہ ای سی پی کا فیصلہ بھی بے مثال ہے۔ آئی ایچ سی کے چیف جسٹس نے کہا کہ بعد میں تفصیلی  فیصلہ جاری کرنا معمول کی بات ہے۔  جج نے کہا کہ عدالت کو تین دن کے اندر  فیصلے کی کاپی  جاری کرنے کی امید ہے، اگر ایسا نہیں ہواتو عدالت معاملے کو دیکھے گی۔  دریں اثناءانسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے پیر کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے صدر عمران خان کے خلاف دائر  مقدمہ میں بھی انہیں ضمانت دے دی۔ گزشتہ دنوں اسلام آباد پولیس نے پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان اور پی ٹی آئی کےدیگر  لیڈروں کے خلاف پارٹی کارکنوں کے  ذریعہ سڑکوں پر نکلنے اور سرکاری املاک کی توڑ پھوڑ کے بعد دہشت گردی کے مقدمات درج کئے تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK