• Sun, 25 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سحر کا بیان ایم آئی ایم کا بیان، اس نے ہندوؤں کیخلاف کچھ نہیں کہا: امتیاز جلیل

Updated: January 25, 2026, 3:43 PM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

ممبرا کو ہرے رنگ سے رنگنے والی بیان پر قومی سطح پر تنازع کا شکار ہونے والی ممبرا سے پینل نمبر ۳۰؍ بی کی ایم آئی ایم کی نو منتخب کارپوریٹر سحر شیخ کے تعلق سے پارٹی کے ریاستی صدر امتیاز جلیل نے واضح کیا ہے کہ سحر شیخ نے کوئی قابل اعتراض بیان نہیں دیا ہے اور نہ ہی ہمارے ہندو بھائیوں کو ممبرا سے نکالنے کی بات کہی ہے،اس کے باوجود اس کے خلاف مقدمہ درج کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔

AIMIM state president Imtiaz Jalil, Sahar Sheikh and others at the press conference. Photo: INN
پریس کانفرنس میں ایم آئی ایم کے ریاستی صدر امتیاز جلیل، سحر شیخ اور دیگر۔ تصویر: آئی این این

ممبرا کو ہرے رنگ سے رنگنے والی بیان پر قومی سطح پر تنازع کا شکار ہونے والی ممبرا سے پینل نمبر ۳۰؍ بی کی ایم آئی ایم کی نو منتخب کارپوریٹر سحر شیخ کے تعلق سے پارٹی کے ریاستی صدر امتیاز جلیل نے واضح کیا ہے کہ سحر شیخ نے کوئی قابل اعتراض بیان نہیں دیا ہے اور نہ ہی ہمارے ہندو بھائیوں کو ممبرا سے نکالنے کی بات کہی ہے،اس کے باوجود اس کے خلاف مقدمہ درج کرنے کیلئے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔پارٹی سحر کے اس بیان کے ساتھ کھڑی ہے اور اب یہ محض سحر کا بیان نہیں بلکہ  ایم آئی ایم پارٹی کا بیان ہے۔سنیچر کو کلیا ن پھاٹا میں پر یس کانفرنس سے خطاب کرتےہوئے  امتیاز جلیل نے یہ بھی کہا ہےکہ ’’سحر شیخ کو پولیس کی جانب سے جو نوٹس دیا گیا ہے اسے سپریم کورٹ لے جانے کی ہماری تیاری ہے۔‘‘ بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا کے تعلق سے پوچھنے پر امتیاز جلیل نے کہا کہ’’ وہ کس آئینی عہدے پر فائز ہیں؟ جو سحر سے معافی کا مطالبہ کر رہے ہیں اور انہوں نے خود کئی اشتعال انگیز بیان دیئے ہیں، ان ہی کی پارٹی کے ایک لیڈر مسجدوں میں گھس کر مسلمانوں کو مارنے کی بات کرتے ہیں تو کیا پولیس نے ان کیخلاف کارروائی کی ؟‘‘ممبرا کے  ۵؍ فاتح کارپوریٹروں  کے ساتھ  امتیاز جلیل نے مزید کہاکہ’’سحر شیخ کا جو بیان ہے، اس میں کہیں بھی یہ نہیں کہا گیا ہے کہ ممبرا کے ہندو بھائی کو یہاں سے نکال باہر کردیں گے ۔ اگر سحر نے ایسا بیان دیا ہوتا تو پھر ایک ہندو بھائی میور سارنگ ہمارے ساتھ پریس کانفرنس میں نہیںبیٹھا ہوتا۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK