گیان واپی مسجد کیس میں ایک اور جھٹکا، پوجا سے متعلق پٹیشن قابل سماعت قرار دی گئی

Updated: June 01, 2023, 9:33 AM IST | Ahmadullah Siddiqu | allahabad

الہ آباد ہائی کورٹ نے مسجد کے احاطہ میں پوجاکے حق کا دعویٰ کرنے والی پٹیشن کے خلاف مسلم فریق کی عرضی کوخارج کردیا، ضلع عدالت میں شنوائی کا راستہ صاف

Gyan Vapi Masjid
گیان واپی مسجد

الہ آبادہائی کورٹ نے گیان واپی مسجد کے احاطہ میں مسجد کی بیرونی دیوار سے لگ کر شرنگار گوری کی پوجا  کے حق  سے متعلق ۵؍ ہندو خواتین کی پٹیشن کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف داخل کی گئی مسلم فریق کی عرضی خارج کردی۔ اس پٹیشن کو ضلع عدالت میں  قابل سماعت قرار دیاگیاتھا جسے انجمن انتظامیہ مساجد کمیٹی  نے الہ آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیاتھا۔  ہائی کورٹ میں  بھی   ہندو عرضی گزاروں کے حق میں فیصلہ آنے کے بعد بنارس کی ضلع عدالت میں اب اس  پر شنوائی کا راستہ صاف ہوگیاہے۔  الہ آبا د ہائی کورٹ نے طرفین کی  طویل بحث کے بعد ۲۳؍ دسمبر ۲۰۲۲ء کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔جسٹس جے جے منیر نے  انجمن انتظامیہ مساجد کمیٹی کی طرف سے دائر نظر ثانی کی درخواست  پر بنارس کی ضلع عدالت میں شرنگار گوری کی مستقل پوجاکرنے والی عرضی پرسماعت پرروک لگانے سے انکارکر دیا اور  مسجد کمیٹی کی عرضی خارج کر دی ۔
واضح رہے کہ  راکھی سنگھ اور دیگر خواتین نے  بنارس کی ضلع عدالت میں مستقل پوجا کا حق حاصل کرنےکیلئے دیوانی مقدمہ دائر کیا  ہےجس کے قابل سماعت ہونے پر ہی مسجد کمیٹی نے  سوال اٹھایا تھا۔ مسلم فریق کی دلیل ہے کہ ۱۵؍ اگست ۱۹۴۷ء سے قبل کی تمام عبادت گاہوں کو تحفظ فراہم کرنے والے قانون ’ پلیسیزآف ورشپ ایکٹ ۱۹۹۱ء ‘ اور’سینٹرل وقف ایکٹ ۱۹۹۵ء‘کی رو  سے  یہ پٹیشن قابل شنوائی ہی  نہیں ہے ۔ تاہم   پہلے ضلع عدالت نے اور اب ہائی کورٹ نے اس دلیل کو مستر د کردیا۔  فی الحال  ہندوؤں کو یہاں سال میں صرف ایک بار پوجا کی اجازت  ہے۔عرضی گزار خواتین گیان واپی مسجد کے احاطے میں  مذکورہ مقام پر مستقل یعنی ہر روز پوجا کی اجازت چاہتی ہیں۔  
 گیان واپی مسجد کے معاملے میں قانونی لڑائی تیز ہوگئی ہے ۔ عدالت کے حکم پر مسجد  کے سروے کے دوران وضوخانہ کے حوض کے فوارہ  پر شیولنگ ہونے کا دعویٰ دائر کردیاگیاہے۔عرضی گزاروں کا دعویٰ ہے کہ موجودہ گیان واپی مسجد اور اس کا احاطہ پہلے مندر ہوا کرتا تھا جسے اورنگ زیب نے منہدم کرکے مسجد تعمیر کروائی تھی۔ خاتون عرضی گزاروں کا کہنا ہے کہ ’’ جس طرح گیان واپی مسجد میں نماز پڑھی جاتی ہے، ہمیں بھی عبادت کا حق ملنا چاہیے‘‘۔ مذکورہ معاملے میں ۲۶؍اپریل ۲۰۲۲ء کو بنارس سول کورٹ نے گیان واپی مسجد کے احاطے میں شرنگار گوری اور دیگر دیوتاؤں کی تصدیق کیلئے ویڈیو گرافی اور سروے کا حکم دیا تھا۔

مسجد انتظامیہ کمیٹی کی دلیل ہے کہ گیان واپی مسجد کی جو حیثیت ۱۵؍ اگست ۱۹۴۷ء کو تھی وہی حیثیت برقرار رکھی جائے کیونکہ، پلیسیزآف ورشپ ایکٹ ۱۹۹۱ ء کی روشنی میں اس جگہ کی مذہبی حیثیت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتاجبکہ مخالف فریق کی دلیل ہے کہ چونکہ۱۵؍ اگست ۱۹۴۷ء سے قبل  سے  مسجد کے احاطہ میں شرنگار گوری کی پوجا کی جا رہی ہے۔ اس لئے  اس  معاملے پر  ۱۹۹۱ءکا  پلیس آف  ورشپ ایکٹ لاگو نہیں ہوتا۔ عدالت نے اسی دلیل کو قبول کیا ہے۔ ہائی کورٹ نے تین ماہ کے طویل دلائل سننے کے بعد ۲۳؍دسمبر۲۰۲۲  ء کوفیصلہ محفوظ کر لیا تھا اور اب بدھ کوعدالت نے مسلم فریق کے اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے ہندو فریق کی درخواست کو قابل سماعت قرار دیاہے۔ہائی کورٹ کےاس فیصلے کے بعد اب پوجا کا مطالبہ کرنے والی درخواست پر سماعت کا راستہ صاف ہوگیا ہے۔ہائی کورٹ نے وارانسی کی ضلع عدالت  میں شرنگار گوری کی مستقل پوجاکرنے والی عرضی پرسماعت کرنے پر روک نہیں لگائی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK