بہار میں کانگریس اور آر جے ڈی کا اتحاد ٹوٹنے کے دہانے پر

Updated: October 25, 2021, 10:43 AM IST | Agency | Patna

آل انڈیا کانگریس کمیٹی میں بہار امور کے انچارج بھکت چرن داس نے ۲۰۲۴ء کے پارلیمانی الیکشن میں تمام ۴۰؍سیٹوں پرامیدوار کھڑے کرنے کا اشارہ دیا

RJD and Congress seem to be splitting!.Picture:INN
آر جے ڈی اور کانگریس میں دراڑ پڑتی ہوئی نظر آرہی ہے!۔ تصویر: آئی این این

بہار اسمبلی الیکشن میں غیر معمولی کامیابی حاصل کرنے  والے کانگریس اور آر جے ڈی کے عظیم اتحاد میں دراڑیں پڑتی نظر آرہی ہیں۔ یاد رہے کہ پانچ پارٹیوں کا یہ اتحاد اسمبلی الیکشن میں اکثریت حاصل کرنے میں  صرف ۱۰؍ سیٹوں سے پیچھے رہ گیا۔ یہ نتائج ۲۰۱۹ء   کے پارلیمانی الیکشن کو دیکھتے ہوئےآر جے ڈی اور کانگریس اتحاد کیلئے غیر معمولی اہمیت کے حامل تھے کیوں کہ اُس وقت ۴۰؍ پارلیمانی سیٹوں میں سے این ڈی اے نے ۳۹؍ پر کامیابی حاصل کی تھی۔ جمعہ کو آل انڈیا کانگریس کی کمیٹی میں بہار امور کے انچارج بھکت چرن داس نے یہ کہہ کر آر جے ڈی کو حیران کردیا کہ کانگریس  ۲۰۲۴ء کے پارلیمانی الیکشن میں تمام ۴۰؍سیٹوں پر اپنے امیدوار کھڑے کرےگی۔کانگریس کا الزام ہے کہ آر جے ڈی نے اتحاد کے اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس پر حیرت کااظہار کرتے ہوئے بہار آر جے ڈی کے صدر جگدانند  سنگھ نے کہا ہے کہ ’’جب پارلیمانی الیکشن ۲۰۲۴ء میں ہے تو ابھی سے یہ باتیں کرنے کی کیا ضرورت ہے؟‘‘ دونوں پارٹیوں میں اختلاف کی وجہ آئندہ ہفتے ہونے والے ۲؍ سیٹوں  کے ضمنی الیکشن ہیں۔ کانگریس کا الزام ہے کہ آر جے ڈی نے اسے اعتماد میں لئے بغیر دونوں سیٹوں کیلئے اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کردیا۔کچھ دن کی پراسرار خاموشی کے بعد کانگریس نے بھی دونوں سیٹوں کیلئے اپنے امیدواروں کا اعلان کردیا۔ سمجھا جارہاہے کہ کانگریس اور آر جے ڈی میں اختلاف کے بیج اسی وقت بودیئے گئے تھے جب کانگریس میں کنہیا کمار کا خیر مقدم کیاگیا۔سمجھا جارہا ہے کہ کنہیا اور تیجسوی کی ’’دشمنی‘‘ کانگریس اور آر   جے ڈی کے درمیان آنے والی دوریوں کی بنیادی وجہ ہے۔ کنہیا کمار جنہوں نےبائیں محاذ سے علاحدگی اختیار کرکے کانگریس کا دامن تھاما ہے، ان دنوں تاراپور اور کشور استھان پر ضمنی الیکشن کی انتخابی مہم میں مصروف ہیں۔  بہرحال کنہیا کمار اس کی تردید کرتے ہیں۔ان کے مطابق ان کا اور تیجسوی کا کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے کیوں کہ تیجسوی کے والد اور والدہ دونوں وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں جبکہ وہ سیاست کے میدان میں صفر سے شروعات کررہے ہیں۔ اس بیچ این ڈی اے کانگریس اور آر جے ڈی کے اس اختلاف پر مطمئن نظر آرہی ہے۔اس کیلئے دونوں سیٹوں کے ضمنی الیکشن میں سہ رخی مقابلہ کے نتیجے میں فتح حاصل کرنا بھی آسان ہوگیاہے۔ تاراپور اور کشور استھان میں الیکشن ۳۰؍ اکتوبر کوہونا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK