• Thu, 05 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

متھرا: نماز کے الزام میں معطل کئے گئے ٹیچر کو گاؤں کی حمایت

Updated: February 05, 2026, 7:38 AM IST | Mathura

اکثریتی طبقہ کے طلبہ اور غیر مسلم ساتھی اساتذہ نے بھی ہیڈ ماسٹر جان محمد پر عائد کئے گئے الزام کو بے بنیاد قراردیا، سارا معاملہ ’ایس آئی آر‘ میں نام نہ کاٹنے کا شاخسانہ نکلا

Villagers in Mathura submit memorandum to District Collector against Jan Muhammad`s suspension.
متھرا میں جان محمد کی معطلی کے خلاف ضلع کلکٹر کو میمورنڈم دینےوالے گاؤں کے افراد ۔

متھرا   کے نوہ جھیل  پرائمری اسکول    میں غیر مسلم طلبہ کی ’’ذہن سازی‘‘،ہندو دھرم کے مقابلے میں اسلام کو بہتر بتانے، اسکول میں  بچوں  سے زبردستی نماز پڑھوانے  اور قومی ترانہ  نہ پڑھنے دینے   کے الزامات  کے بعد معطل کئے گئے  ہیڈماسٹر جان محمدکے دفاع میں خود گاؤں کے غیر مسلم افراد، طلبہ اور ساتھی ٹیچر میدان میں آگئے ہیں۔ منگل کو گاؤں کے ۲؍ درجن سے  زائد افراد  نے ضلع مجسٹریٹ سی پی سنگھ سےملاقات کرکے معطل واپس لینے کی مانگ کی ہے۔ 
ایس آئی آر میں نام نہ کاٹنا اصل وجہ
 سرپرستوں کا کہنا ہے کہ بچوں سے جبراً نماز پڑھوانے کا الزام جھوٹا ہے۔ ووٹر لسٹ کی ایس آئی آر کارروائی میں ووٹ نہ کاٹنے کا  معاملہ بھی صرف تنازعہ ہے اور اسی  تنازع کو بنیاد بنا کر جان محمد کو نشانہ بنایا جارہاہے۔معطل ہیڈ ماسٹر جان محمد بھی بتاچکے ہیں  ان پر مسلم ووٹرس کے نام کاٹنے کا دباؤ بنایا جا رہا تھا۔جان محمد نے بتایا کہ وہ ایس آئی آر  کے دوران نوہ جھیل  علاقے کے بوتھ نمبر ۱۲۱؍ سے۱۳۱؍تک کے ۱۰؍بوتھ کے سپروائزر تھے۔ پہلے ان کے علاقے کی  غیر حاضر، منتقل شدہ اور متوفی ووٹرس کی  لسٹ سوشل میڈیا پر یہ کہہ کر پھیلائی گئی کہ اس میں ہندو ووٹروں کے نام جان بوجھ کر ڈالے گئے ہیں۔ اس کے بعد انہیں ایک سیاسی پارٹی کے عہدیداروں نے تقریباً۱۰۰؍ فارم-۷؍ جمع کرانے کو دیئے جن کے ذریعہ مسلم ووٹرس  کے ووٹ کاٹے جا رہے تھے۔
شکایت کنندہ کو جانتا تک نہیں: جان محمد
  جان محمد نے بتایا کہ دباؤ میں انہوں  نے ۳۶؍  فارم جمع کر لئے، باقی اس لیے واپس کر دیئے کہ تحصیل سے ایک دن میں صرف ۱۰؍ ’’فارم-۷‘‘  ہی لینے کا حکم تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اسی کے بعد ان کی شکایت کر دی گئی جبکہ وہ شکایت کنندہ بی جے پی کے منڈل صدر کو جانتے تک نہیں۔ 
 گاؤں کے لوگ حمایت میں آئے
  معطلی کے بعد جان محمد کی طبیعت خراب ہوگئی اور وہ دلبرداشتہ ہوکر علی گڑھ میں اپنے گھر لوٹ گئے مگر جس گاؤں میں  اسکول ہے اس کے لوگ بڑی  تعداد میں  ان کی حمایت میں کھڑے ہو گئے ہیں۔ اسکول میں پڑھنےوالے طلبہ کے  سرپرستوں اور دیہاتیوں نے ڈی ایم کو میمورنڈم  دیتے ہوئے پرنسپل پر لگائے گئے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے اور  ان کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔  دیہات کے لوگوں  نے دھمکی دی ہے کہ اگر ۲۴؍  گھنٹے میں ہیڈ ماسٹر کو بحال  اور شرپسند عناصر کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی نوہ جھیل بلاک میں احتجاج کیا جائے گا۔ میمورنڈم پیش کرنے والوں  میں سنجے پاٹھک، وجے کمار، سنتوش بھاردواج، پورن پاٹھک، دیارام، عمران، شمشاد اور مسلم قریشی سمیت گاؤں کے درجنوں افراد موجود تھے۔
۸؍ اساتذہ میں صرف ہیڈ ماسٹر مسلمان
 مذکورہ اسکول میں کل ۸؍ اساتذہ ہیں جن میں  ۷؍ کا تعلق اکثریتی فرقہ سے ہے۔  صرف  ہیڈ ماسٹر جان محمد ہی مسلمان ہیں،۔ یہاں۲۳۵؍ بچے  زیر تعلیم ہیں ، میں سے صرف ۸۹؍ مسلمان ہیں ۔ غیر مسلم  طلبہ نے بھی اپنے استاذ پر لگائے گئے الزاما ت کو جھوٹ  پر مبنی قرار دیا ہے۔ 
 اساتذہ  یونین میدان میں
 پرنسپل جان محمد کے خلاف یک طرفہ کارروائی  اور جانچ کے بغیر ہی معطلی پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔۳۱؍ جنوری کو بیسک سکشا ادھیکاری  نے معطلی کو جو حکم نامہ جاری  کیا ہے اس کے  مطابق شکایت کنندہ درگیش پردھان نے۳۰؍ جنوری کو شکایت کی اورایجوکیشن آفیسر  نے غیر معمولی جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسی دن یعنی ۳۰؍ جنوری کو ہی تفتیشی رپورٹ پیش کر دی اور  رپورٹ کی بنیاد پر۳۱؍ جنوری کومعطل ی کا حکم بھی جاری ہوگیا۔ 
     جان محمد کی معطلی کے خلاف سابق اساتذہ کی یونین بھی میدان میں آ گئی ہے۔یوپی جونیئر ہائی اسکول ٹیچر یونین کے ضلعی صدر اتل سارسوت نے کہا کہ جان محمد پر لگائے گئے الزامات بے بنیاد ہیں۔ افسران کو صحیح حقائق سے آگاہ نہیں کیا گیا ہے۔ ٹیچر یونین پرنسپل کے ساتھ ہے۔
 اسکول کے طلبہ  اور ٹیچرس نے بھی حمایت کی
  اس بیچ  مذکورہ اسکول کی ۵؍ ویں کی طالبہ  پریانشی  نے دینک بھاسکر سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’’سر نے کبھی کچھ غلط نہیں پڑھایا۔ وہ بہت اچھا پڑھاتے ہیں۔ یہاں ہندو مسلم جیسی کوئی بات نہیں ہوتی تھی۔ ہر روز قومی ترانہ بھی ہوتا ہے۔‘‘  اخباری نمائندہ نےجب  طالبہ سے ترانہ سنانے کو کہا تو اس نے کیمرے کے سامنے سنادیا اور بتایا کہ یہ اسے اسکول میں یاد کرایاگیاہے۔      اسکول سے محض ۳۰۰؍ میٹرکی  دوری پر رہنے والے پروین کمار  نے کہا کہ ’’یہ صرف سیاسی معاملہ ہے،  جو الزامات لگے ہیں وہ غلط ہیں۔ میرے ۲؍بیٹے  یہاں پڑھتے ہیں۔ میں روزانہ ان کو چھوڑنے آتا ہوں۔ یہاں قومی ترانہ بھی ہوتا ہے، روزانہ کلاس بھی ہوتی ہے۔گاؤں میں رہنےوالے کسان اندرپال  نے بتایا کہ’’ ماسٹر صاحب کا رویہ بہت اچھا ہے۔ میری بیٹی اور بیٹا بی ایس سی کر رہے ہیں۔  دونوں یہیں سے پڑھے ہیں۔  جوالزامات لگے ہیں ان  اسکول سے کوئی لینا دینا نہیں۔ وہ ہندو مسلم کی بات نہیں کرتے۔  اسکول کے اساتذہ نے بھی اپنے ہیڈ ماسٹر کا دفاع کیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK