سابق وزیرسوامی پرساد موریہ نے کہا کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ برہمن سماج کے لوگ ذات پات کی بنیاد پر فیصلے کیا کرتے تھے
EPAPER
Updated: February 06, 2026, 7:14 AM IST | Lucknow
سابق وزیرسوامی پرساد موریہ نے کہا کہ اس کی وجہ یہ تھی کہ برہمن سماج کے لوگ ذات پات کی بنیاد پر فیصلے کیا کرتے تھے
راشٹریہ شوشت سماج پارٹی کے قومی صدر او رسابق ریاستی وزیر سوامی پرساد موریہ اپنے بیانوں کی وجہ سے اکثر موضوع بحث بنے رہتے ہیں۔ ایک بار پھر وہ خبروں میں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے براہ راست برہمن سماج کو نشانہ بنایا ہے۔انھوں نے یو جی سی قانون پر مرکزی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے کے بعد سرو سماج کے لوگ احتجاج کر رہے تھےتو پولیس ان کی مہمان نوازی کر رہی تھی، جبکہ اسی قانون کی حمایت کرنے والے طلبہ کے ساتھ جارحیت کا سلوک کیا جارہا ہے۔
سوامی پرساد موریہ نے کہاکہ موجودہ وقت میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں زیادہ تر جج سرو سماج کے ہیں، لیکن ۱۹۱۹ء میں انگریزوںنے برہمن سماج کو ذات پات کی بنیاد پر فیصلہ کرنےکا الزام عائد کرتے ہوئے عدلیہ میں جانے پر پابندی عائد کردی تھی۔انھوںنے کہاکہ آج بھی ان کا رویہ نہیں تبدیل ہوا ہے ، یوجی سی قانون پر روک لگانا انگریز حکومت کے اس حکم نامہ کی یاد کو تازہ کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
راشٹریہ شوشت سماج پارٹی کے قومی صدر اور سابق ریاستی وزیر سوامی پرساد موریہ نے گزشتہ روز الہ آباد یونیورسٹی میں یوجی سی قانون پر دو گروپوں میں ہوئی مارپیٹ کے معاملہ کے بعد بی جے پی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہاکہ جب اس قانون کی مخالفت میں برہمن اور سروسماج مظاہرہ کررہا تھا تو بی جے پی حکومت کی پولیس ان کی مہمان نوازی کرکے منانے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن جب اسی قانون کی حمایت میں طلبہ پُر امن طور پر مظاہر ہ کررہے ہیں،تو پولیس کے ذریعہ ان پر لاٹھی چارج کرایا گیا۔ انھوںنے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ اس سے بی جے پی کادُہرا معیار پوری طرح سے واضح ہوجاتا ہے ، جو حکومت اپنے ہی بنائے ہوئے قانون کی حمایت میں مظاہرہ کرنے والے طلبہ کے ساتھ بھید بھاؤ کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ زمینی سطح پر مذکورہ قانون کو نافذ کرنے کے بجائے حکومت جارحیت کی پالیسی اختیار کررہی ہے جو بی جے پی کے دُہرے چہرے کو اجاگر کرتی ہے۔ انھوںنے اپنی پوسٹ میں لکھاکہ ۱۹۱۹ء میں انگریز حکومت نے برہمن سماج کو عدلیہ میں جانے پر پابندی اسی لئے لگا دی تھی کہ ان کا خیال تھا کہ یہ لوگ ذات پات کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں۔
انھوںنے کہا کہ لوگوں کو سوچنا چاہئے کہ انگریزوںنے ایسا کیوں کیا تھا اور آج ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے ۷۰ ؍تا ۸۰؍ فیصد جج اسی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انھوںنے پوچھا کہ کیا برہمن سماج کے رویے میں کوئی تبدیلی آ گئی ہے؟ اگر نہیں تو کیا ان کے فیصلے منصفانہ ہوتے ہیں ، کیاان کے فیصلوں میں ذات پات کا اثر نہیں رہ گیا ہے۔ انھوںنے کہاکہ عدلیہ پر ان کو بھروسہ ہے لیکن یو جی سی قانون پر روک لگانے کا فیصلہ انگریز حکومت کے اس حکم نامہ پر غور کرنے پر مجبور کرتا ہے ۔