ایک جگہ تکمیلِ قرآن کے بعد حفاظ کا دوسری جگہ تراویح کا اہتمام

Updated: May 03, 2021, 1:05 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

حفاظ کا کہنا ہے کہ اس ماہ ِ مبارک میں کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سےزیادہ محنت اعمال ِ خیرسمیٹنے پر صرف ہو اورقرآن کریم بھی ازبر ہو جائے

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

 رمضان المبارک میںہر شخص زیادہ سےزیادہ اعمال خیرانجام دینے اورمختلف طریقوں سے نیکیاں کماکر اپنے رب کوراضی کرنے کا خواہشمند ہوتا ہے اوراس کے لئے وہ اپنی بساط کے مطابق کوشش کرتا ہے۔اسی سلسلے کی کڑی میں حفاظ بھی ہیں جو دن بھر محنت کرکے تراویح میںقرآن کریم سناتے ہیں۔ ان ہی حفاظ میںکچھ ایسے بھی ہیں جو محض ایک جگہ تراویح سنانے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ کثرت سے اعمالِ خیر کی طلب اورتلاوتِ کلام اللہ کی کثرت انہیں مزید سے مزید پرابھارتی اور اکساتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ ایک جگہ تراویح پڑھانے کےبعد دوسری جگہ بھی تراویح سنانے کے لئے ایک دوسرے پرسبقت لے جانے کے لئے کوشاں نظرآتے ہیں۔بلاشبہ حفاظ کا یہ انداز اوران کا عمل قابل ستائش اور لائق تحسین ہے ۔ نمائندۂ انقلاب نے ایسے ۵؍ حفاظ سے بات چیت کی۔ان کا تعلق دارالعلوم عزیزیہ میرا روڈ سے ہے اوریہ عربی کی مختلف جماعتوںکے طلباء ہیں ۔لاک ڈاؤن کی وجہ سے تعلیمی سلسلہ بند ہونے کےسبب قرآن کریم یاد کرنے اورتراویح میں سنانے میںانہوں نے مزید محنت کی ۔ذیل میںان کے تاثرات درج کئے جارہے ہیں۔ 
 حافظ منت اللہ بن مولانا مقیم نےپہلے۱۰؍ روزہ تراویح ریدھم ٹاورکےایک فلیٹ میں پڑھائی۔ اس سے فارغ ہونے کے بعد دوسری تراویح میرا روڈ میں ہی سنا نے کا عمل جاری ہے اوردوسری تراویح میں ۲۰؍رمضان المبارک کو قرآن پاک مکمل ہوگا۔یہ عربی چہارم کے طالب علم ہیں۔ انہوںنے اپنے فارغ  اوقات کی اس طرح تنظیم کی کہ زیادہ سے زیادہ وقت کلام اللہ کی تلاوت اور اسے یاد کرنے پر صرف ہوتا ہےاور تعلیمی سلسلہ بند ہونے کا خاطر خوا ہ فائدہ مل سکے۔
 حافظ شان الہی بن عبدالحنان(عربی اول کے طالب علم ) نے خیر اینکلیو نیا نگر میرا روڈمیں ۱۰؍روزہ تراریح میںقرآن پاک مکمل کیا ۔اس کے بعدبغیررکے دوسری جگہ تراویح سنارہے ہیں جہاں ۲۷؍ ویں شب کو قرآن کریم مکمل ہوگا ۔ ان کے مطابق ’’ یہ ماہ قرآن ہے ،چنانچہ ہماری یہ کوشش ہے کہ رمضان المبارک کا کوئی لمحہ عبادت اور تلاوت سے خالی نہ رہنے پائے اوربحمداللہ اس میںکامیابی بھی ملی ہے ۔‘‘
 عربی چہارم کے طالب علم حافظ عطاءالحق بن انعام الحق نے پہلی تراویح نیا نگر میراروڈکی اسمیتا انیتا بلاک ون میں ۱۰؍ دن میں مکمل کی ۔ اس کےبعد ۲۱؍ رمضان کو دوسری تراویح میں قرآن کریم کی تکمیل ہوگی۔ ان کے مطابق ’’لاک ڈاؤن میں منجانب اللہ یہ موقع دیا گیا ہے کہ ہم قرآن کوازبر کرلیں اورخداکا شکر ہے کہ اس مبارک عمل پر لگے ہوئے ہیں ۔یہ بھی ارادہ ہے کہ اگرمزیدکہیں موقع ملا توانشاء اللہ بقیہ ایام میںوہاںبھی تراویح میںقرآن کریم مکمل کریںگے۔ ‘‘
 حافظ اظہراحمداصغرعلی نے ۱۰؍ روزہ پہلی تراویح ساگر بلڈنگ نیا نگر میںسنائی اس کےبعد دوسری  تراویح ۲۷؍ویں شب میںقرآن مکمل کرنے کی ترتیب سےپڑھا رہے ہیں۔ان کے مطابق ’’ یہ وقت ِ خیر ہے اورہمیں ایک موقع دیا گیا ہے کہ ہم قرآن کی امانت کواپنے سینوں میںاس طرح محفوظ کرلیں  جس طرح حدیث پاک میںکہا گیا ہےکہ حافظ قرآن سے کہا جائے گا کہ پڑھتے جاؤ اور جنت کے بالاخانوں پرچڑھتے جاؤ، جو قرآن کی آخری آیت ہوگی وہی تمہارا مقام اورمنزل ہوگی ۔‘‘
 عربی چہارم کے طالب عالم حافظ ناز بن انور نے پہلی تراویح لبنیٰ اپارٹمنٹ نزد شمس مسجد ۱۵؍دن میںپڑھائی اس کے بعد دوسری تراویح پڑھا رہے ہیں جہاں قرآن کریم ۲۵؍رمضان المبارک کو پورا ہوگا۔ ان کے مطابق رمضان المبارک میںصرف ایک ہی مشن ہے اور وہ ہے قرآن کریم یاد کرنا اور اسے تراویح میں سنانا ،اس کے سوا کچھ نہیں ۔خدا کا شکرہے کہ اس میںکامیابی بھی مل رہی ہے ۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK