مسجد بنگالی مارکیٹ نے ۲۰۰۱ء میں ریلوے کی اس تحریری دُہائی پر کہ ۳۵؍ کروڑ کا پروجیکٹ فیل ہوجائےگا،اسے پٹریاں سیدھی کرنے کیلئے زمین دی تھی ، دونوں مسجدیں ۵؍ سوسال پرانی ہیں
EPAPER
Updated: July 26, 2023, 9:41 AM IST | farzan Qureshi | New Delhi
مسجد بنگالی مارکیٹ نے ۲۰۰۱ء میں ریلوے کی اس تحریری دُہائی پر کہ ۳۵؍ کروڑ کا پروجیکٹ فیل ہوجائےگا،اسے پٹریاں سیدھی کرنے کیلئے زمین دی تھی ، دونوں مسجدیں ۵؍ سوسال پرانی ہیں
کناٹ پیلیس میں واقع بنگالی مارکیٹ مسجد اور تلک بریج کے قریب واقع تکیہ مسجد ریلوے کے انہدامی نوٹس کی وجہ سے سرخیوں میں ہیں۔ ریلوے کا کہناہے کہ دونوں مساجد اُس کی زمین غیر قانونی قبضہ ہیں جبکہ وقف بورڈ کا کہناہے کہ اُس علاقے میں شمالی ریلوے کا وجود ہی ان دونوں مسجدوں کے مرہون منت ہے۔ اس سلسلے میں انقلاب منگل (۲۵؍ جولائی ۲۰۲۳ء ) کے شمارے میں مختصر رپورٹ شائع کرچکا ہے۔ مسجد کی زمین کی ملکیت کے تعلق سے انقلاب نے جب دہلی وقف بورڈ سے رابطہ کیاتو چونکادینے والے حقائق سامنے آئے۔
وقف بورڈ کے مطابق یہ دونوں مساجد ان ۴۲؍ مذہبی املاک میں شامل ہیں جو انگریز حکومت نےآزادی سے قبل ۱۹۴۳ء میںایک معاہدہ کے تحت مسلمانوں کوواپس کی تھیں۔ اس معاہدہ پر موجودہ شاہی امام کے جد امجدمولاناسید احمد بخاری اور چیئر مین سنی مجلس اوقاف نواب زادہ لیاقت علی خاں اور اس وقت کی برٹش کمشنر کے دستخط موجود ہیں۔ اس معاہدہ کی اصل کاپی آج بھی دہلی وقف بورڈ کے ریکارڈ میں موجود ہے ۔
دہلی وقف بورڈ کے سیکشن افسر حافظ محفوظ محمد نے بتایا کہ ’’مسجد تکیہ ببر شاہ نے ریلوے کی درخواست پر۱۹۷۳ءمیں ۹۴؍ گز جگہ پل چوڑا کرنے کیلئے ریلوے کو دی تھی۔اس کے تمام کاغذات اور ریکارڈ ہمارے پاس موجود ہیں۔‘‘ بنگالی مارکیٹ مسجد کے تعلق سے انہوں نے بتایا کہ ’’مسجدانتظامیہ سے ۲۰۰۱ء میںشمالی ریلوے نے تحریری درخواست کی تھی کہ ہمارا ۳۵؍ کروڑ روپے کا پروجیکٹ فیل ہوجائے گااس لئے آپ ہمیں تھوڑی سی جگہ دے دیں تاکہ ہماری پٹریاں سیدھی ہوجائیں۔‘‘حافظ محفوظ محمد نے بتایاکہ ’’ریلوے کی درخواست پربنگالی مارکیٹ مسجد انتظامیہ نے اسے جگہ دے دی تھی ۔ دونوں مساجد کے تمام کاغذات اور ریکارڈ ہمارے پاس آج بھی محفوظ ہیں، ریلوے کا وجود بعد میں ہوا ، مسجدیں تقریباً ۵؍ سو سال پرانی ہیں۔ جس زمین پر ریلوے ہے وہ مسجدوںکی ہے ، یہ تسلیم کرنے کے بجائے حیرت انگیز طورپر ریلوے مساجد کی زمین کو اپنا بتارہا ہے۔‘‘ ریلوے کی اس دھاندلی کا مقابلہ عدالت میں کرنے کے عزم کے اظہار کے ساتھ انہوں نے بتایا کہ’’ ہم کورٹ جانے کی تیاری کررہے ہیں ۔‘‘
۱۹ جولائی کو شمالی ریلوے کی جانب سے دونوں مساجد پر دوپہر بعد نوٹس چسپاں کیا گیاکہ ’’ریلوے کی زمین پر ناجائز طریقہ سے بنی عمارت، مندر ، مسجد اور مزار اس اطلاع کے ۱۵؍ روز کے اندر اپنی مرضی سے ہٹا دیں۔ ورنہ ریلوے انتظامیہ کے ذریعہ ریلوے ایکٹ کے تحت ناجائز طریقہ سے بنائے گئے مندر ، مسجد اور مزار کو ہٹا دیا جائے گااور نقصان کیلئے آپ خود ذمہ دار ہوں گے۔‘‘
اس نوٹس میں چالاکی یہ کی گئی کہ نہ تو کسی افسر کے دستخط ہیں،نہ ریلوے کا لیٹر ہیڈ استعمال کیا گیا ہے۔ساتھ ہی تاریخ اور فائل نمبر بھی موجود نہیں ۔ مسجد کے ذمہ داران کا ماننا ہے کہ اس کا مقصد یہ ہو سکتاہے کہ اگر دھاندلی کرتے ہوئے ۱۵؍ دن پورے ہونے قبل بھی ریلوے کارروائی کیلئے پہنچ جائے تواسے روکا نہ جاسکے۔ یہ نوٹس اصلی ہے یا فرضی ہے اس کی تصدیق نمائندہ نے ۱۹؍ جولائی کو ریلوے کے پی آر او سے کی تھی تھی۔ انہوں نے تسلیم کیا ہےکہ ’’یہ نوٹس ریلوے کی جانب سے چسپاں کیا گیا ہے ۔‘‘