Inquilab Logo Happiest Places to Work

خوراک اور توانائی مہنگی، مئی میں تھوک افراطِ زر۹ء۶۸؍ فیصد، جون میں راحت کی امید

Updated: June 15, 2026, 9:58 PM IST | New Delhi

مغربی ایشیا کے تنازعے کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافے نے ہندوستان میں تھوک سطح کی مہنگائی کو مئی ۲۰۲۶ء میں ۹ء۶۸؍فیصد تک پہنچا دیا۔ ایندھن، بجلی اور تیار شدہ مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کے نتیجے میں افراطِ زر کی شرح مسلسل تیسرے ماہ بھی بلند سطح پر رہی۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

ہندوستان میں تھوک قیمتوں پر مبنی افراطِ زر (WPI) مئی میں سال بہ سال (YoY) بنیاد پر بڑھ کر۹ء۶۸؍فیصد ہو گئی، جو اپریل میں ۸ء۳؍ فیصد تھی، جبکہ مارچ میں یہ۳ء۸۸؍ فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔ اس تیز اضافے کی بنیادی وجہ مغربی ایشیا کے تنازعے کے باعث توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ مئی میں تمام اشیاء کا مجموعی اشاریہ۱۰۹ء۹؍ رہا، جو اپریل میں ۱۰۸ء۸؍تھا۔ مئی کے دوران:بنیادی اشیاء (Primary Articles) کی مہنگائی۴ء۹۹؍ فیصد رہی، جو اپریل میں ۳ء۷۸؍ فیصد تھی۔ ایندھن اور بجلی (Fuel & Power) کے شعبے میں افراطِ زر بڑھ کر۳۰ء۳۳؍ فیصد ہو گئی، جو اپریل میں ۲۴ء۸۹؍ فیصد تھی۔ تیار شدہ مصنوعات (Manufactured Products) میں مہنگائی۷ء۴۸؍فیصد رہی، جبکہ اپریل۲۰۲۶ء میں یہ۶ء۶۸؍فیصد تھی۔ 
خوراک کی مہنگائی
ڈبلیو پی آئی فوڈ انڈیکس، جس کا وزن۲۴ء۹۹؍ فیصد ہے، مئی میں ۴ء۴۹؍ فیصد مہنگائی کے ساتھ سامنے آیا، جبکہ اپریل میں یہ \۳ء۱۱؍فیصد تھا۔ اس انڈیکس میں غذائی اشیاء اور تیار شدہ غذائی مصنوعات شامل ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: عالمی برادری ہندوستان کے ساتھ مل کر عالمی جدت کے اگلے باب کی تخلیق کرے: مودی

مئی کے ڈبلیو پی آئی اعداد و شمار میں نظرثانی
نظرثانی شدہ ڈبلیو پی آئی سیریز کے تحت:اشیاء کی تعداد۶۹۷؍ سے بڑھا کر ۹۵۷؍ کر دی گئی ہے۔ بجلی کے زمرے میں شمسی (Solar) اور ہوا سے پیدا ہونے والی توانائی (Wind Energy) کو شامل کیا گیا ہے۔ جوہری بجلی (Nuclear Electricity) کو بھی پہلی بار اس باسکٹ کا حصہ بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ خام تیل اور قدرتی گیس کو ’’بنیادی اشیاء‘‘ کے گروپ سے نکال کر ’’ایندھن اور بجلی‘‘ کے بڑے گروپ میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق یہ تبدیلی بہتر درجہ بندی اور ہم آہنگی کیلئےکی گئی ہے، کیونکہ اس گروپ میں پہلے ہی کوئلہ، بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات شامل ہیں۔ 
تیل کی قیمتوں کا اثر
گزشتہ ماہ تیل کی مارکیٹنگ کمپنیوں نے خوردہ ایندھن کی قیمتوں میں چار مرتبہ اضافہ کیا تھا، جس کی وجہ مغربی ایشیا میں تین ماہ تک جاری رہنے والے تنازعے سے پیدا ہونے والا سپلائی کا دباؤ تھا۔ تاہم، امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے بعد مارکیٹوں کو توقع ہے کہ تیل کی قیمتوں میں کچھ کمی آ سکتی ہے، کیونکہ اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمزکے ذریعے نقل و حمل دوبارہ معمول پر آنے کی امید ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: مشرقِ وسطیٰ کا بحران افریقہ تک پھیل گیا، ایندھن کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ

ماہرین کی رائے
راہل اگروال کے مطابق:’’ایندھن اور بجلی کا شعبہ، جس کاڈبلیو پی آئی میں وزن اب۱۴ء۱؍ فیصد ہے اور جس میں خام تیل اور قدرتی گیس بھی شامل ہیں، مئی میں مہنگائی کی شرح۲۴ء۹؍ فیصد سے بڑھ کر ۳۰ء۳؍فیصد تک پہنچ گئی، جو عالمی توانائی کی بلند قیمتوں کے اثرات کی عکاسی کرتی ہے۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا کہ تیار شدہ مصنوعات کے شعبے میں بھی مہنگائی میں اضافہ جاری رہا، جہاں ۲۲؍ میں سے۱۷؍ ذیلی شعبوں میں قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا۔ ان کے مطابق:’’مغربی ایشیا میں کشیدگی کم ہونے کے بعد عالمی توانائی اور اجناس کی قیمتوں میں حالیہ کمی سے جون ۲۰۲۶ء کے ڈبلیو پی آئی افراطِ زر کے اعداد و شمار میں کچھ ریلیف ملنے کی توقع ہے۔ ‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK